ہزاروں برہان وانی ۔ ۔ ۔ ۔تحریر:انجینئر اصغر حیات

مقبوضہ کشمیرمیں گزشتہ گیارہ ہفتوں سے صورتحال کشیدہ ہے ، عوامی احتجاج ہے کہ روز بروز شدت اختیار کرتا جارہا ہے ، آٹھ لاکھ فوج اور کرفیو کے باوجود ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر بھارت مخالف نعرے لگا رہے ہیں ، احتجاجی مظاہروں کے دوران جھڑپوں میں ایک سو سے زائد کشمیری شہید اور پیلٹ گن کے چھرے لگنے سے ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں اور ہزاروں بچے اور نوجوان چھرے لگنے سے بینائی سے محروم ہوگئے ہیں ، وادی میں لوگ محصور ہیں ، ان کے پاس کھانے پینے کی ایشیاء نہیں ،نظام زندگی مفلوج ہے ، لیکن پھر بھی لوگوں کا غصہ ہے کہ ٹھنڈا ہونے کا نام نہیں لے رہا، آخر کیا وجہ ہے؟

لوگوں کا یہ غصہ کیا ایک ہی دن میں وجود میں آگیا ؟ کیا احتجاج خود بخود ہی شروع ہوگیا ؟ کشمیر کی موجودہ صورتحال برہان وانی کی شہادت کے بعد پیدا ہوئی ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ برہان وانی تھا کون جس کی موت نے وادی میں آگ کے شعلے بھڑکا دیے ؟ برہان وانی ایک پڑھا لکھا نوجوان تھا ، جس نے اپنے بھائی خالد وانی کو بھارتی فوجیوں کی طرف سے تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے بعد ہتھیار اٹھائے تھے ، بھارتی فوجیوں نے 2010 میں اس کے بھائی کو تشدد کا نشانہ بنایا،

اپنے ایک انٹرویو میں برہان وانی نے کہا تھا کہ اس نے صر ف اپنے بھائی پر تشدد کی وجہ سے ہتھیار نہیں اٹھائے تھے بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنتے دیکھا تھا، پڑھے لکھے نوجوان کیوں مسلح جدوجہد کے لئے تیار ہوجاتے ہیں ؟ جواب طالب حسین کی مختصر سی کہانی میں، 24 سالہ طالب حسین مہاراشٹرا کی ناگپور یونیورسٹی سے فزیکل ایجوکیشن کی ڈگری حاصل کرکے جب کشمیر لوٹا تو احتجاجی تحریکوں کا سلسلہ عروج پر تھا.

اندرا گاندھی اوپن یونیورسٹی کے شعبہ تعلیم میں داخلہ لیا ، ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے فزیکل ایجوکیشن کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے کشمیر یونیورسٹی میں درخواست دی ، اس دوران پولیس کی اس پر نظر تھی اور پولیس اس پر بے پناہ چھوٹے مقدمات بنا چکی تھی ، ایک دن ایسا آیا کہ یونیورسٹی داخلہ امتحان کے لئے جانا تھا اور اسی روز عدالت میں بھی پیش ہونا تھا ، تو پھر نہ وہ داخلہ امتحان دینے گیا اور نہ ہی عدالت ، اس نے بندوق اٹھا ئی اور جہاد پر نکل پڑا اور بھارتی فوج سے لڑتے لڑتے شہادت کا رتبہ حاصل کیا.

بھارتی حکام کے مطابق اڑی فوجی ہیڈکوارٹر ہونیوالا حملہ گزشتہ 15 سالوں میں سب سے بڑی کاروائی تھی، اس کا مطلب یہ کہ 15 سالوں سے کشمیریوں نے مسلح جدوجہد کو ترک کر کے پر امن احتجاج کا راستہ اختیار کیا ۔اس دوران 2008 سے 2012 میں بھی تحریک عروج پر رہی ، 2008 میں بزرگ کشمیری رہنما شیخ عبدالعزیز کو فائرنگ کر کے شہید کردیا گیا ،2010 میں ڈیڑھ ما ہ کے عرصے میں 115 نوجوان شہید اور3000 سے زائد زخمی ہوئے ،نوجوانوں کی شہادتوں کے خلاف بڑی تعداد میں نوجوان سڑکوں پر نکلتے رہے ، پولیس اور فوج پر پتھرائو کرتے رہے ، نہ ہی ان کے پاس اسلحہ تھا اور نہ انہوں نے پر تشدد کاروائیاں کیں ،لیکن کیا بھارت کا ظلم رکا ؟ کیا اس میں کوئی کمی آئی ؟

احتجاجیوں کو کچلنے کے لئے بھارتی فوجیوں نے بندوقوں کے دہانے کھول دیئے، لیکن کیا احتجاج کرنے والوں کی کسی نے سنی ؟ کیا کسی ایک نوجوان ، نچے یا عورت کے قتل کی شفاف تحقیقات ہوئیں؟الٹا ان مظاہروں کی کوریج کرنیوالے صحافیوں کو نہ صرف زد وکوب کیا گیا بلکہ کئی اخبار بند کردیے گئے ، کشمیری یہ سب دیکھتے رہے اور یہ بھی دیکھتے رہے کہ بھارتی حکومت کس طرح آنکھیں بند کیے ہوئے ہے.

اس دوران کمال مکاری سے کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے فارمولے پر عمل جاری رہا ، 1941 کی مردم شماری کے مطابق وادی میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 93.6 تھا جو 2011 کی مردم شماری کے مطابق کم ہو کر 68.3 رہ گیا ، ستر سال میں کشمیر میں مسلم آبادی کے تناسب میں 26 فیصد کمی آئی ،بھارتی حکومت کا خیال ہے کہ وہ مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرکے مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ ہمشیہ کے لئے دفن کرسکتی ہے ، اس لئے وہ مختلف طریقوں سے اس پر عمل پیرا ہے.

ایک طرف بھارتی حکومت انتہا پسند ہندوئوں کو کشمیر میں لا کر آباد کررہی ہے تو دوسری طرف تقسیم برضغیر کے وقت پاکستان سے بھارت جانیوالے ہندوئوں کو اسٹیٹ سرٹیفکٹ جاری کررہی ہے ، اسی طرح پنڈتوں اور ڈوگروں کی کالونیاں آباد کرنے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے ، امرناتھ یاترا کے لئے 800 کنال اراضی ہندوئوں کو عبادت کی غرض سے دے دی گئی ، کشمیر میں تعینات فوجیوں کو زمین الاٹ کرنے کی سمری بھی تیار ہے ،ایک اور طریقہ صنعتیں اور کارخانے لگا کر لاکھوں کی تعداد میں ہندوئوں کو وادی میں لانا اور انہیں مستقل رہائش دینا ہے ، پہلے ہی پانچھ سے چھ لاکھ بھارتی ہر سال وادی میں مزدوری کرنے آتے ہیں.

مودی نے بر سر اقتدار آتے ہی جس تیزی کے ساتھ اس نے آئین کا آرٹیکل370 ختم کرنے کی کوشش کی وہ معنی خیز تھی ، آرٹیکل 370 جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتا ہے اور اس کے تحت ریاست سے باہر کے لوگ وہاں کی زمین اپنے نام نہیں خرید سکتے ،اس ترمیم کے لئے ریاستی اسمبلی کی منظوری ضروری تھی ، دسمبر 2014 کو ہونیوالے انتخابات میں بی جے پی سادہ اکثریت لینے میں ناکام رہی ، ریاستی اسمبلی کی 87 نشستوں میں سے بی جے پی کے ہاتھ صرف 25 نشستیں آئیں ،بی جے پی نے نئے مسلم چہرے بھی سامنے لائے لیکن وادی میں اسے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔

اوڑی میں فوجی ہیڈکوارٹر پر حملے کے چند گھنٹے بعد ہی بھارت نے پاکستا ن پر الزام لگانا شروع کردیا ،لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت نے کبھی اپنی ادائوں پر غور کیا ہے؟لائن آف کنٹرول پر تو بھارت باڑ تعمیر کرچکا، لاکھوں کی تعداد میں فوجی لائن آف کنٹرول پر پہرہ دے رہے ہیں ، پوری ریاست میں کرفیو نافظ ہے ، چڑیا پر نہیں مار سکتی لیکن اڑی میں فوجی ہیڈکوارٹر پر حملہ ہو جاتا ہے ، وہ بھی عین اسی وقت ہوتا ہے جب وزیر اعظم پاکستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لئے امریکہ میں ہوں ، حملے میں ایسے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا جاتا ہے جہاں پر سکھ فوجیوں کی اکثریت تھی، مطلب ایک تیر سے دو شکار ؟پھر اس حملے کو بنیاد بنا کر ہزاروں نوجوانوں پر تشدد کی تیاری کرنا تاکہ تحریک آزادی کو کچلا جاسکے ، بھارت حریت پسندوں پر پاکستان کی حمایت کا الزام لگاتا ہے ، برہان وانی ، طالب حسین نے ہتھیار پاکستان کے کہنے پر اٹھائے یا بھارتی فوج نے ان پر جینے کے تمام راستے بند کردیے تھے.

اگر برہان وانی کو پاکستان کی حمایت تھی تو اس کے جنازے میں شرکت کرنے والے لاکھوں نوجوان بھی کیا پاکستانی ہیں ، کیا وہ سب دہشتگرد ہیں ؟ کیا سب ایجنٹ ہیں؟ پاکستان میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے ، دہشتگرد ہلا ک ہوتے ہیں تو ان کا جنازہ اٹھا نے والا کوئی نہیں ہوتا ، مقبوضہ کشمیر میں یہ کیسے دہشتگرد ہیں کہ ان کے جنازوں میں لاکھوں نوجوان شرکت کرتے ہیں ، یہ کیسے دہشتگرد ہیں کہ جن کی ہلاکت کے 80 دن بعد تمام کرفیو اور پابندیوں کے باوجود بھی نظام زندگی معمول پر نہیں آسکا ، یہ دہشتگرد نہیں یہ کشمیریوں کے ہیرو ہیں ، یہ ہیرو اس لئے بنے کہ 15 سال تک کشمیریوں نے اگر ہتھیار نہیں اٹھا یا یا کوئی بڑا حملہ نہیں کیا تو بھارت نے کچھ مداوا نہیں کیا.

الٹا کمال ہشیاری سے آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش جاری رہی ، کشمیریوں کی معاشی ناکہ بندی کی گئی ، سیلاب اور زلزلے میں انہیں بے یار و مدد گار چھوڑا گیا ،آج ایک پڑھا لکھا کشمیری اسی لئے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیارکررہا ہے کیوں کہ وہ یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے،وہ دیکھ رہا ہے کہ بھارت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ وادی میں اپنی گرفت مظبوط کرتا جارہا ہے ، جب وہ اپنے حق کے لئے آواز اٹھاتا ہے اس پر جھوٹے مقدمات بنائے جاتے ہیں ،اس سے پر امن احتجاج کا بھی حق چھین لیا جاتا ہے ، اسے قابض فوج کی طرف سے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، اس کے جینے کے تمام راستے بند کردیے جاتے ہیں ، پھر وہ ذلت کی زندگی پر موت کو ترجیع دیتا ہے.

برہان وانی ، طالب حسین اور دیگر ہزاروں نوجوانوں کی کہانی یہی ہے، بھارتی حکومت کے پاس موقع تھا کہ وہ امن کے لئے کچھ کرتی ، کشمیریوں کو مطمعن کرتی ، لیکن اس نے آٹھ لاکھ فوج کے ذریعے کشمیریوں کے دلوں میں نفرتیں بو دی ہیں ،خاص طور نوجوان نسل کے دلوں میں یہ نفرتیں اتنی مظبوط ہوچکی ہیں کہ اب اگر بھارت چاہے بھی تو مٹا نہیں سکتا ، بھارت سے ایک برہان وانی برداشت نہیں ہورہا تھا لیکن اب ہزاروں برہان وانی پیدا ہوچکے ہیں ،جوذلت کی زندگی پر شہادت کو بخوشی گلے سے لگانے کے لئے تیار ہیں.