سپریم کورٹ کے فیصلے کے سیاسی اثرات

سپریم کورٹ نے آج نواز شریف کو ایک بار پھر نااہل قرار دے دیا، وزارت عظمی کے بعد میاں صاحب آج پارٹی صدارت سے فارغ ہوگئے ، فیصلے میں نواز شریف کو پارٹی صدارت کیلئے نااہل قرار دینے کیساتھ ساتھ سپریم کورٹ نے ان کی طرف سےبطور پارٹی صدر لیے گئے فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دیا ہے ، اس فیصلے کی ٹائمنگ اہم ہے، سینیٹ انتخابات سر پر ہیں ، مسلم لیگ ن سینیٹ انتخابات کیلئے امیدواروں کو بھی نامزد کرچکی ، اب اس

فیصلے کے سینیٹ انتخابات پر کیا اثر ات ہونگے یہ آئندہ چند گھنٹوں یا دنوں میں واضع ہو جائے گا، اس کے سیاسی اثرات بھی ہیں اور سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اس کے سیاسی اثرات سے خود کو بچا پائے گی یا نہیں؟ ظاہر ہے مسلم لیگ ن کسی حد تک اس قسم کے فیصلے کی ہی توقع کررہی تھی ، میاں صاحب بھی کہہ چکے تھے کہ یہ جج صاحبان مجھے اب پارٹی صدارت سے بھی ہٹانا چاہتے ہیں ، اس قسم کے فیصلے کی توقع تھی تو ظاہر ہے مسلم لیگ ن نے آئندہ کا لائحہ عمل بھی تیار کررکھا ہوگا،یہاں سوال یہ ہے کہ پارٹی صدارت کا فیصلہ کتنے دنوں میں ہونا ہے؟ یہ فیصلہ تو الیکشن کمیشن نے کرنا ہے ، وہ مسلم لیگ ن کو چند دنوں کی مہلت دے گا، اگر اس دوران بھی پارٹی صدر منتخب نہ کرسکی تو مزید چند دنوں کی مہلت مل سکتی ہے، سب اہم سوال یہ ہے کہ پارٹی صدارت کیلئے متوقع امیدوار کون کون ہیں ؟ سابق وزیراعظم اپنی پہلی نااہلی کے بعد اپنی صاحبزادی کو آگے لانا چاہ رہے تھے ، لیکن چوہدری نثار اور کچھ اور لیڈران کے اختلاف نے مریم کا کردار محدود کردیا، اب پارٹی صدارت کیلئے دو ہی امیدوار بچے ہیں ، ایک کلثوم نواز اور دوسرا شہباز شریف ، یہ دو اس لیے کہ میاں نواز شریف کے بعد ان کی پارٹی پر گرفت زیادہ ہے، شہباز شریف کو چوہدری نثار دھڑے کی حمایت حاصل ہے ، اور اسٹبلشمنٹ کے کچھ حلقے بھی شہباز شریف کو پارٹی صدر بنانے کے خواہشمند ہیں ، اسی لیے شاید نواز شریف کی نسبت شہباز شریف پر ہلکا ہاتھ رکھا گیا ہے ، میاں نواز شریف شہباز شریف پر اعتماد کرنے کیلئے تیار نہیں ، اگرچہ انہوں نے اگلے

انتخابات میں جیت کے بعد میاں شہباز شریف کو پارٹی صدر نامزد کیا، لیکن بعد میں ان کے ہی کچھ رہنمائوں نے اس کی تردید بھی کردی ، میاں صاحب کو شاید یہ خوف ہے کہ شہباز شریف کو متبادل قیادت کے طور پر سامنے لانا اسٹبلشمنٹ کے پلان کی کامیابی کی طرف پہلا قدم ہوگا، اس کے بعد شاید ان کی گرفت پارٹی پر اس طرح نہ رہے ، وہ یقیناََ کلثوم نواز کو پارٹی صدر بنانے کی کوشش کریں گے ، ایسی صورت میں فیصلے ان ہی چلیں گے ، تیسری

صورت یہ ہے کہ کسی ایسے شخص کو پارٹی صدر بنایا جائے جو شاید خاقان عباسی کی طرح سابق وزیر اعظم کی ہاں میں ہاں ملائے ، لیکن وزارت عظمی اور پارٹی چلانے میں فرق ہے ، کسی ایسے رہنما کو پارٹی صدر بنانا اس وقت ن لیگ کو ناقابل تلافی نقصان دے سکتا ہے جس کی پارٹی پر گرفت کمزور ہو، کیونکہ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں ، سوال یہ بھی ہے کہ اگر میاں صاحب کلثوم نواز کو پارٹی صدارت کیلئے نامزد کرتے ہیں تو کیا

چھوٹے میاں صاحب مان جائیں گے ؟ اور چوہدری نثار اور اس کے دھڑے کا کردار کیا ہوگا،میاں صاحب کو اس وقت یہ فیصلہ کرنا کچھ آسان نہیں ، کیونکہ ابھی ایک اور فیصلہ آنا ہے اور وہ بھی قریب ہی ہے ، اگر احتساب ریفرنسز کے فیصلے میں میاں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو سزا ہوجاتی ہے تو کیا ہو گا، اور اس فیصلے یہ قبل یہ فیصلہ کرنا جس پرپارٹی کے مستقبل کا دارومدار ہو ، آسان نہیں ہے ، اگرچھوٹے میاں صاحب اڑ

گئے تو پارٹی دھڑے بندی کا شکار ہوسکتی ہے