چھوٹے میاں صاحب کا امتحان شروع

نواز شریف بلآخر مائنس ہوگئے، شہباز شریف مسلم لیگ ن کے قائمقام صدر منتخب ہوگئے، گزشتہ سال اٹھائیس جولائی کو سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نوازشریف کو نااہل قرار دیا تھا، میاں نواز شریف کو وزارت عظمی کے بعد پارٹی کی صدارت بھی چھوڑنا پڑی، نواز شریف پارلیمنٹ کی آئینی ترمیم کا سہارا لیتے ہوئے دو اکتوبر کو دوبارہ پارٹی صدر منتخب ہوئے،تاہم سپریم کورٹ نے انتخابی اصلاحاتی ایکٹ کے خلاف دائر

درخواستوں کا فیصلہ سناتے ہوئے یہ قرار دیا کہ نااہل شخص پارٹی کا صدر منتخب نہیں ہوسکتا، سپریم کورٹ نے اٹھائیس جولائی کے بعد بطور پارٹی صدر نواز شریف کے تمام فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دیا، الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ ن کو نیا صدر منتخب کرنے کا نوٹس جاری کیا تھا،اس دوران بہت سی خبریں بھی میڈیا کی زینیت بنیں ، مسلم لیگ ن میں پارٹی صدارت کے حوالے سے اختلافات کی بھی بات ہوئی، نواز شریف اپنی نااہلی کے بعد ایک بیانیے کو لیکر چلے، اگرچہ مجھے کیوں نکالا کا پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے مذاق بھی اڑایا لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو اپنے بیانیے پر کسی حد تک کامیابی ملی ہے ،نواز شریف کیلئے مشکل ترین فیصلہ پارٹی صدر کا انتخاب کرنا تھا اور ہے، کیونکہ شہباز شریف کا انتخاب صرف پنتالیس دن کیلئے ہوا ہے اور پنتالیس دن کے اندر مسلم لیگ ن کے مستقل صدر کا انتخاب ہونا ہے، کیا شہباز شریف ہی مستقل صدر ہونگے؟ اگر شہباز شریف نے ہی مستقل صدر بننا ہے تو یہ قائمقام صدر کے انتخاب کا ڈرامہ کیوں کیا گیا؟ کیا شہباز شریف نواز شریف کے بیانیے کو لیکر چلیں گے؟ کیا یہ پنتالیس دن شہباز شریف کا ٹیسٹ ہوگا کہ وہ میاں نواز شریف کے بیانیے کو لیکر چلتے ہیں کہ نہیں، شہباز شریف وہ شخصیت ہیں جن کے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ بھی روابط ٹھیک ہیں، انہوں نے بیوروکریسی کو اپنے حق میں کرلیا اور نواز شریف کا بھی اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے،

مستقبل میں ان کا ٹیسٹ ہوگا، وہ کس طرف تعلقات ٹھیک رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں اور کہاں انہیں بیک فٹ پر آنا پڑتا ہے،اور اس کے اثرات کیا ہوتے ہیں، نواز شریف تو اپنے بیانیے کو لیکر ڈٹ گئے ہیں، اب ان کیلئے واپسی کا کوئی راستہ ہے نہ وہ اتنا آگے جاکر واپس آنا چاہیں گے، وزیر اعظم ، وفاقی وزرا اور مسلم لیگ ن کے مرکزی قائدین نواز شریف کے بیانیے کی حمایت کرتے دیکھائی دیتے ہیں اور ممکنہ طور پر یہ بیانیہ مسلم لیگ ن کی

انتخابی مہم کا حصہ بھی ہوگا، کیا شہباز شریف بھی اسی بیانیے کو اسی انداز میں چلائیں گے؟ اگر چلائیں گے تو کیا ان کے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات ویسے ہی رہیں گے؟ احد چیمہ اور شاہد شفیق کی گرفتاری کس طرف اشارہ ہے؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ چوہدری نثار مسلم لیگ ن کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، بظاہر انکی اور بڑے میاں صاحب کے تعلقات سرد مہری کا شکار لگتے ہیں، لیکن چھوٹے میاں صاحب کے ساتھ چوہدری نثار

کے تعلقات کافی اچھے ہیں،کیا وہ چوہدری نثار کے موقف میں لچک پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے؟ چوہدری نثار تو برملا کہہ چکے کہ وہ نواز شریف کی اداروں کیساتھ محاذ آرائی کے مخالف ہیں، مسلم لیگ ن کے کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ کلثوم نواز بھی مارچ کے دوسرے ہفتے میں پاکستان آجائیں گی، کیا وطن واپسی پر وہ پارٹی صدارت

کی امیدوار ہونگی؟ ایک بات اور کہ مسلم لیگ ن کے رہنماوں کا خیال ہے میاں نواز شریف کی ٹیم کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے، کیا شہباز شریف کے آنے کے بعد یہ سلسلہ رک جائے گا؟ اور اگر یہ سلسلہ یونہی بڑھتا رہا تو کیا پارٹی میں بغاوت جنم نہیں لے گی، حکومت نے احتساب عدالت کے جج کی معیاد بڑھانے کی سمری ارسال کردی، اس کا مطلب یہ ہے کہ کیس لمبا چل سکتا ہے، میاں نواز شریف نے بھی اسی حکمت عملی کےتحت بڑی تعداد میں گواہ تیارکررکھے ہیں تاکہ وہ ٹائم حاصل کرسکیں، لیکن سپریم کورٹ کی طرف سے دی جانیوالی معیاد ختم ہورہی ہے،

اب یہ سپریم کورٹ پر ہے کہ وہ مزید کتنی توسیع دیتی ہے، اگر سپریم کورٹ کی طرف سے کم توسیع ملی اور میاں نواز شریف اور مریم نواز کو سزاہوجاتی ہے تو شہباز شریف کیا کریں گے؟ کیا وہ خاموش رہیں گے؟ احد چیمہ ، شاہد رفیق کی طرح دیگر بیوروکریٹس گرفتاریاں جاری رہیں تو پھر چھوٹے میاں صاحب کیا کریں گے؟ میرے خیال میں یہ عارضی صدارت چھوٹے میاں صاحب کا ٹیسٹ ہے، وہ ایک ساتھ اسٹبلشمنٹ، بیوروکریسی اور میاں نواز

شریف کو کیسے مطمعن کرتے ہیں یہ ان کی صلاحیتوں کا امتحان ہے