تمباکو نوشی اور عارضہ قلب

دل ایک ایسا حیرت انگیز عضو ہے جو تمام جسم کو آکسیجن اور غذائیت سے بھر پو ر خون پورے جسم میں پمپ کرتا ہے ۔اسے دورانِ خو ن کے نظام کا مرکز اور انسانی جسم کا پاور ہاؤس بھی کہا جاتا ہے ۔انسانی دل ایک لاکھ مرتبہ روزانہ دھڑکتا ہے اور یومیہ دو ہزار گیلن خون پمپ کرتا ہے ۔یہ بغیر کسی وقفے کے تمام عمر کام کرتا ہے ۔جسم کے تما م خلیوں کو آکسیجن اور غذائیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور خلیوں کے فضلے

کو بھی جسم سے باہر لانے کا کام سرانجام دیتا ہے ۔یہ عضوزندگی برقراررکھنے اور جسم کے تما م حصوں کی صحت کو فروغ دینے کے لئے انتہائی اہم ہے ۔ایک صحت مند جسم کے لئے ایک صحت مند دل کا ہونا بہت ضروری ہے ۔انسانی طرزِزندگی میں ظہور پذیر ہونے والی تبدیلیوں کے باعث روز بروز دل کی بیماری کے مریضوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔آج یہ بیماری وبا کی طرح پھیل رہی ہے اوراس نے پاکستان میں بہت ہی فعال عمر کے لوگوں کو لپیٹ میں لینا شروع کردیا ہے ۔ایک سروے کے مطابق ہر سال دنیا میں تقریباََ ڈیڑھ کروڑ انسا ن دل کی بیماریوں کی وجہ سے فوت ہو رہے ہیں ۔پاکستان میں ہر سال 80 ہزار افراد دل کی بیماریوں کی وجہ سے فوت ہورہے ہیں ۔50 فی صد مریضوں میں اس مرض کی پہلی علامت ہارٹ اٹیک ہوتی ہے اور تقریباََ 30 فی صد مریض ہسپتال پہنچنے سے قبل خالق حقیقی سے جاملتے ہیں ۔ ایک تجزیے کے مطابق ہارٹ اٹیک کے 50 فیصد مریضوں کی عمریں 45 سے50 سال کے درمیان ہوتی ہیں ۔اس موذی مرض سے بچنے کے لئے ان عوامل سے بچنے کی ضرورت ہے جو اس موذی مرض کا باعث بن رہے ہیں ۔دل کی بیماری کا باعث بننے والے عوامل میں سب سے اہم سگریٹ نوشی ہے ۔
ڈبلیو ایچ او کے سروے کے مطابق پاکستان میں ہر سال 60 لاکھ افراد سگریٹ نوشی کے باعث موت کے منہ میں

چلے جاتے ہیں ۔ پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا 73 فی صد لوگ سگریٹ نوش ہوتے ہیں ۔ جو شخص ایک ڈبی روزانہ سگریٹ پیتا ہے اس کی عمر عام آدمی کے مقابلے میں تقریباََ 10 سال کم ہوجاتی ہے ۔سگریٹ کے دھویں میں پائے جانے والے 4800 کیمیکلز میں سے 69 ایسے ہیں جو کینسر کا باعث بنتے ہیں ۔سگریٹ کے دھویں میں پائی جانے والی کاربن مونو آکسائیڈ خون کو گاڑھا بنا دیتی ہے جسکی وجہ سے اس میں آکسیجن کے کر جانے کی قوت کم ہوجاتی ہے ۔ جس کے نتیجے میں دل کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور دل پر دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے ۔سگریٹ نوشی کا

ایک نقصان یہ بھی ہے کہ یہ خون کی رگوں کو سخت کردیتی ہے جس کی وجہ سے یہ رگیں ضرورت کے مطابق نہیں پھیلتیں ۔سگریٹ کے دھویں کی وجہ سے خون میں اچھا کولیسٹرل کم ہوجاتا ہے اور برا کولیسٹرل بڑھ جاتا ہے جو رگوں کے اندر چپکنا شروع ہو جاتا ہے ۔یوں خون گاڑھا ہونے اور رگیں سگھڑنے اور دل کو کم آکسیجن ملنے کے باعث ہارٹ اٹیک کے امکانا ت بڑھ جاتے ہیں ۔تمباکو نوشی کرنے والا نہ صرف خود کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ

اس کے سگریٹ کا دھواں اس کے ساتھ رہنے والے معصوم لوگوں کو بھی نقصان پہنچا رہاہوتا ہے ۔ ہر سال 6 لاکھ لوگ اس دھویں کے باعث فوت ہوجاتے ہیں ۔اس دھوئیں میں ہائیڈروجن سائنائیڈ ہوتی ہے جو کیمیائی ہتھیار بنانے کے کام آتی ہے ۔ا س دھوئیں میں آرسینک ہوتی ہے جو چوہے مار دواؤں میں استعمال ہوتی ہے ۔ ا س دھوئیں میں سیسہ ہوتا ہے جو بچوں کی ذہنی نشود نما کو متاثر کرتا ہے ۔یہ دھواں پھیپھڑوں کے کینسر کی دوسری بڑی وجہ ہے ۔

سگریٹ بجھا دینے کے بعد بھی ہوا میں موجود زہریلے مادے جیسا کہ ہائیڈروجن سائنائیڈ ، آرسینک اورسیسہ کمرے میں موجود فرنیچر ، قالین دیواروں ، کپڑوں اور دوسرچیزوں پر چپک جاتے ہیں حتی کہ یہ زہریلے مادے دھول میں بھی مل جاتے ہیں ۔کیونکہ بچے بالغ افراد کی نسبت زیادہ تیزی سے سانس لیتے ہیں اور فرش پر کھیلتے رہتے ہیں اس لئے 20 گنا زیادہ مقدار میں یہ زہریلے مادے ان کے جسم میں داخل ہوتے ہیں ۔

پاکستان میں تمباکو نوشی کی روک تھام کے قوانین کے مطابق عوامی مقامات پر اور پبلک ٹرانسپورٹ میں تمباکو نوشی ممنوع ہے۔جب کہ ٹوبیکو مصنوعات کی تشہیر پر بھی پابندی ہے۔ حکومت نے اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ یا دیگر ٹوبیکو مصنوعات فروخت کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔اور ورازت صحت کی تجویز پر تمباکو پر ٹیکس بھی بڑھا دیا گیا ہے ۔تاہم پھر بھی تمباکو ہر سال 5 فیصد کی شرح سے ترقی کررہی ہے ۔یہ حقیقت

ہے کہ سگریٹ نوشی کو مکمل طورپر تو ختم نہیں کیا جاسکتا لیکن اس پر پابندی اور آگاہی مہم سے اس کے استعمال کو کم کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن ’’پناہ‘‘ ایک ایسی غیر سیاسی اور غیر طبقاتی فلاحی تنظیم ہے جو گزشتہ30 سال سے عوام النا س کو عارضہ قلب کے اسباب اور روک تھام سے روشناس کروانے کے لئے مصروف عمل ہے۔گزشتہ دنوں سنئر صحافی تزئین اختر کی دعوت پر صحافیوں ،شاعروں اور ادیبوں کے لئے آگاہی نشست کا اہتمام کیا ۔ اس

نشست میں جہاں عارضہ ء قلب کے اسباب خاص طور پر تمباکو نوشی کیمضر اثرات کے بارے میں تفصیل سے جاننے کا موقع ملا۔وہیں سی پی آرکے بارے میں تفصیل سے جاننے کا موقع ملا۔ سی پی آرحرکت قلب بند ہوجانے کی صورت میں مریض کو دی جانے والی فوری طبی امداد کو کہتے ہیں ۔چونکہ دل کے دورے کی صورت میں 30 فیصد سے زائد افراد ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی جان کی بازی ہار جاتے ہیں ۔اس لئے عام آدمی کے لئے سی پی آر کا

عمل جاننا بہت ضروری ہے ۔سی پی آرہنگامی حالت مریض کو ہوش میں لانے کے لئے چھاتی کو دبانے اور منہ سے منہ جوڑ کر سانس بحال کرنے کا عمل ہے اگر یہ عمل اچھی طرح کیا جائے تو ایسے مریض جنہیں دل کا دورہ پڑا ہو ، ان کا دوران خون اور سانس بحال کرنے میں مدد ملتی ہے ۔دماغ کو 3-4 منٹ کے اندر اگر آکسیجن ملنا شروع ہوجائے تو وہ مفلوج ہونے سے بچ سکتا ہے ۔ڈاکٹر شہناز حمید میاں او رثنا اللہ گھمن نے شرکاء کو سی پی آر کی اہمیت اور طریقہ کار بتا یا اور ڈمیزکے ذریعے شرکاء کو سی پی آر کی آن ہینڈ ٹریننگ کروائی ۔یہ ٹریننگ انتہائی

اہمیت کی حامل ہے ۔میری قائرین سے درخواست ہے کہ ایک بار یہ ٹریننگ ضرور لیں ۔ تاکہ آپ بوقت ضرورت قیمتی جان بچانے کے قابل ہوسکیں۔پناہ کے عہدیداران اور ممبران نہ صرف رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کرتے ہیں بلکہ اپنی جیب سے مالی معاونت بھی کرتے ہیں ۔ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ قوم کے محسنوں کے قدم کیساتھ قد م ملا کر چلیں اور عارضہ ء قلب اور اس کے اسبا ب کے بارے میں آگاہی میں پناہ کا بھرپو ر ساتھ دیں ۔پناہ

پاکستان ہارٹ اینڈ میڈیکل کمپلیکس کے نام سے 500 بیڈ پر مشتمل فری ہسپتال بنانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے ۔اللہ سے دعا ہے یہ اس نیک مقصد میں پناہ کے عہدیداروں اور رضاکاروں کو کامیاب کرے (امین)