مسلم لیگ ن کو شکست کیوں ہوئی ؟؟

بلوچستان سے آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والے صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ بن گے، انہوں نے 57 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مد مقابل مسلم لیگ ن کے راجہ ظفر الحق نے 46 ووٹ پڑے ، یوں گیارہ ووٹوں کے واضع فرق سے اپوزیشن اتحاد کے امیدوار نے میدان مار لیا، اپوزیشن کی کامیابی مسلم لیگ ن کیلئے دھچکا ہے، حکمران جماعت اس شکست کے بعد شدید صدمے میں ہے،رہنماوں کے بیانات اور سوشل میڈیا پر مسلم لیگ ن کے کارکنان کا

ری ایکشن دیکھ کر لگتا ہے مسلم لیگ ن کے ساتھ ہاتھ ہوگیا، یہ ہاتھ کس نے کیا ؟ مسلم لیگ ن نے نیک نیتی دکھائی اور رضا ربانی کو چیئرمین سینیٹ بنانے کی پیش کش کی، اور پیپلز پارٹی کا اچھا خاصا انتظار بھی کیا، بلکہ لمبا انتظار کیا، اس دوران پیپلز پارٹی کچھ کارڈز شو کیے اور بڑی تعداد میں چھپائے رکھے، لیکن مسلم لیگ ن نے فورا کارڈز شو کردیے بلکہ پھینک کر اتحادیوں سے صلاح مشورے کرتی رہی، اتحادی بھی ماشا اللہ سے آتے رہے چائے شائے پیتے رہے، اور تعاون کا یقین دلاتے رہے، لیکن ڈیل کسی اور سے کرتے رہے، آصف زرداری کے پلان پر بھی ایک بار پانی پھرا جب عمران خان نے اعلان کیا کہ ان کے سینیٹرز پیپلزپارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے، لیکن پیپلز پارٹی نے اس معاملے کو بڑی اچھی طرح ٹیکل کیا اور عمران خان کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے، سینیٹ میں آنے والی تبدیلی پہلی نہیں ان تبدیلیوں کا آغاز پانامہ لیکس سے ہوگیا تھا، پانامہ کا معاملہ آنے کے بعد پارٹی کے کچھ سینئر رہنمائوں نے میاں نواز شریف کو وزارت عظمی سے علحیدہ ہونے اور پارٹی کو اس معاملے میں نہ گھسیٹنے کا مشورہ دیا، خیر میاں صاحبمیں نہ مانوں کے فلسفے پر عمل پیرا رہے اور کچھ ان کے مشیران بھی سیانے تھے ، وہ کیس چلا اور پہلے میاں صاحب کو وزارت عظمی چھوڑنا پڑی اور پھر پارٹی صدارت، ڈرامائی تبدیلیاں اس وقت شروع ہوئیں بلوچستان سے حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک دھڑے نے بغاوت کردی، پھر وزیراعلی ثنا اللہ زہری کو مستعفی ہونا پڑا ، اور اس آزاد دھڑے نے پیپلزپارٹی اور ق لیگ کی مدد سے

حکومت بنائی اور عبدالقدوس بزنجو وزیر اعلی منتخب ہوگئے، اس آزاد دھڑے نے سینیٹ انتخابات میں 6 نشستیں حاصل کیں، کراچی میں سینیٹ کے ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر ایم کیو ایم تقسیم ہوئی اور اس کی نشستیں بھی پیپلز پارٹی کو ملیں، سب سے پہلے بات کرتے ہیں بلوچستان میں ہونیوالی تبدیلی کی، کیونکہ مسلم لیگ کے اسی آزاد دھڑے کے سینیٹر چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے، اگر آزاد دھڑا نہ بنتا ، وزیراعلی تبدیل نہ ہوتے،6 سینیٹرز نہ بنتے

تو شاید ہی اپوزیشن کیلئے ممکن تھا کہ وہ اپنا چیئرمین سینیٹ لانے میں کامیاب ہوتی ، آزاد دھڑا کیوں بنا؟ یہ بات درست ہے کہ بلوچستان کے حالات پہلے سے بہت بہتر ہیں لیکن پانامہ آنے کے بعد مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت عدالتی جنگ میں الجھ کررہ گئی ، سابق وزیراعظم کے خلاف کیس چلا تو حنیف عباسی نے عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف درخواستیں دائر کردیں، وزرا اور رہنماوں نے سپریم کورٹ میں حاضریاں دینا شروع کردیں ، سپریم

کورٹ میں حاضریوں کے علاوہ شام کو پریس کانفرنسوں کی لمبی نشست ہوتی تھی، یوں حکومت کی توجہ عدالتی کیسوں پر مرکوز ہوکر رہ گئی، بلوچستان کے حالات بلا شبہ بہتر ہوئے لیکن گزشتہ ستر سال کی محرومیاں بھی ہیں، مسلم لیگ ن کی حکومت نے ترقیاتی کام بلاشبہ کروائے لیکن مرکزی قیادت نے بلوچستان کے دورے تقریبا ترک کردیے ، میرا اپنا خیال ہے کہ اگر ایک ماہ میں ایک اہم وزیر بھی بلوچستان کے دورے پر جاتا، وہاں کے ممبران

سے ملتا، ان سے مسائل پر بات کرتا، ان کے تحفظات سنتا تو شاید یہ آزاد دھڑا نہ بنتا، اور خاص طور پر جب ن لیگ والوں کو معلوم تھا کہ مخالفین انہیں ہر جگہ سے ہٹ کرنا چارہے ہیں تو انہیں سمجھ جانا چاہیے تھا کہ مخالفین کیلئے سافٹ ٹارگٹ کیا ہوسکتا ہے، شاید ان کے مخالفین سینیٹ انتخابات نہ ہونے کا اس قدر جاندار پروپیگنڈہ کرچکے تھے کہ مسلم لیگ ن کو یہ فکرکھائے جارہی تھی کہ سینیٹ انتخابات ہی نہ رک جائیں ، یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ پانامہ

فیصلے کے بعد بھی مسلم لیگ ن کا کوئی بڑا رہنما پارٹی چھوڑ کر نہیں گیا،یہ ضرور ہے کہ چند موسمی پرندوں نے اڑا ن بھری لیکن کوئی اہم رہنما پارٹی چھوڑ کر نہیں گئی ، مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے ، لیکن حکومت پھر بھی گھبرائی ہوئی ہے، وفاقی وزرا کنفیوژ ہیں ، جماعت کی حکمت عملی غیر واضع ہے ، اب تصور کریں کہ آصف زرداری کے پاس اگر مرکز میں اکثریت ہوتی تو وہ اتنی آسانی سے چیئرمین سینیٹ اپنے ہاتھ سے

جانے دیتا ؟ نہیں ،ہزگز نہیں ، ٹھیک ہے چوہدری نثار کی میاں صاحب سے نہیں لگتی ، وہ ان کی پالیسیوں کے حمایتی نہیں ہیں ، اس لئے وہ اس معاملے پر میاں صاحب کا ساتھ نہیں دے سکتے تھے ، لیکن وہ وفاقی وزرا کہاں گئے جنہیں چوہدری نثار کے متبادل کے طور پر رکھا گیا تھا، کیا وہ کوئی راستہ نہیں نکال سکتے تھے ؟ کیا چھوٹے میاں صاحب کچھ نہیں کرسکتے تھے ، یاں انہوں نے کوئی راستہ نکالنے کی کوشش نہ کی ؟ ن لیگ تو

سینیٹ انتخابات میں اپنے ورکرز پر نظر رکھنے میں ناکام رہی ، پہلے ایم پی ایز بکے اور پنجاب سے چوہدری سرور باآسانی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے ، پھر اتحادیوں نے دھوکے بازی کی تو کی ن لیگ کے اپنے سنینٹرز بھی خوب بکے ، حکومتی جماعت کے پاس بہت وسائل ہوتے ہیں وہ اپنے اراکین پر کڑی نظر رکھ سکتی ہے ، اتحادیوں نے بھی خوب بے وقوف بنایا اور ن لیگ والے بنتے رہے ، 6 ووٹوں سے جیت کا دعوہ کرنے والے 11 ووٹوں سے

ہار گئے ، مسلم لیگ ن کے ہار کی ایک وجہ اند ر کے اختلافات بھی ہیں ، اگر یہ اختلافات یونہی چلتے رہے اور جماعت کا طرز عمل یہی رہا تو پارٹی آنے والے دنوں میں بھاری نقصان اٹھا سکتی ہے ،