میاں صاحب! کچھ تو خیال کرتے؟عمر منہاس

ڈان لیکس والا معاملہ آپ کے ذہن میں تو ہوگا۔۔۔جس میں پرویز رشید کو وزارت سے ہاتھ دھونا پڑے۔۔۔طارق فاطمی دفتر خارجہ سے گئے اور رائو تحسین سے پرنسپل انفارمیشن آفیسر کا عہدہ چھڑا لیا گیا۔ ۔۔اس معاملے کا اتنا شور مچا کہ ابھی تک اس کی گرد بیٹھ نہیں سکی۔ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار سمیت کئی اور مستقل مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس بارے میں کی جانے والی انکوائری رپورٹ کو شائع کیا جائے اور بتایا

جائے کہ انکوائری کرنے والوں نے اس میں کیا لکھا ہے۔اس بار بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے۔ ایک بار پھر وہی اخبار ہے۔۔۔وہی رپورٹر ہے اور وہی شخصیت ہے لیکن فرق صرف یہ ہے کہ وہ شخصیت اب اقتدار میں نہیںمگر چوتھی بار اقتدار میں آنے کے لیے ہاتھ پائوں مار ہی ہے۔ ۔۔میاں نواز شریف کا حالیہ شائع ہونے والا انٹرویونہ تو کوئی حادثاتی تھا اور نہ ہی راہ چلتی گفتگو۔۔۔اس کے لیے سیرل المیڈا نامی صحافی کو ملتان بلوایا گیا ۔ اس کے لیے وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے خصوصی مشیر برائے ہوا بازی کے پی ایس اواحتشام علی نے خصوصی طور پر چیف سیکورٹی آفیسر ایئر پورٹ سیکورٹی فورس ملتان کوایک خط جاری کیاکہ سیرل المیڈا کو ملتان ایئرپورٹ کے ایپرن تک جانے کی رسائی دی جائے۔۔۔سیرل المیڈا وی آئی پی پروٹوکول میں ملتان ایئرپورٹ پہنچے جہاں میاں نواز شریف نے انگریزی زبان میں تحریر شدہ بیان پڑھ کر ان کے حوالے کیا۔ دیگر باتوں کے علاوہ میاں نواز شریف نے اپنے بیا ن میں کہا (جو ڈان میں چھپے انٹرویو سے لیے گئے ہیں )’’ہم (مملکت پاکستان ) نے خود کو تنہا کر لیا ہے ۔قربانیاں دینے کے باوجود ہمارا مئوقف دنیا میں رد کیا جاتا ہے اور افغانستان کے مئوقف کو پذیرائی ملتی ہے ۔ ہمیں اس پر غور کرنا چاہئے ۔ ملک میں عسکری تنظیمیں متحرک ہیں۔ آپ انہیں غیر ریاستی عناصر کہہ لیجئے لیکن کیا ہمیں ان کو اجازت دینی چاہئے کہ یہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150لوگوں کو ہلاک کر دیں؟ مجھے بتائیے کہ ہم ان کے خلاف ٹرائل

مکمل کیوں نہیں کر سکتے (اشارہ راولپنڈی میں ممبئی حملوں کے مبینہ ملزمان کے خلاف مقدمے کی جانب ہے جو ابھی التواء میں ہے)‘‘۔۔۔میاں صاحب! اگر ہم (خارجہ محاذ پر) تنہا ہیں توچین سی پیک کا منصوبہ کس کے ساتھ بنا رہا ہے؟ ترکی کے ساتھ درجنوں معاہدے کس کے ہیں؟ ایران اور سعودی عرب اپنی باہمی مخاصمت کے باوجود کس سے تعلقات رکھتے ہیں؟چلیں اگر مان بھی لیں کہ ہم تنہا ہیں اور اسی باعث FATF(فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ) نے ہمیں گرے لسٹ میں ڈال دیا ہے تو یہ ارشاد

فرمائیے کہ اس بیان کے بعد ایف اے ٹی ایف میںپاکستان کی پوزیشن خراب ہو گی یا نہیں۔۔۔! میاں صاحب! آپ کہتے ہیں کہ ہمارا مئوقف دنیا میں رد کیا جاتا ہے اور افغانستا ن کے مئوقف کو پذیرائی ملتی ہے ۔۔۔گویا پاکستان کا ایک سابق وزیراعظم دنیا پر یہ باور کروا رہا ہے کہ ملکی اسٹیبلشمنٹ پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں۔ آپ کہتے ہیں ملک میں عسکری تنظیمیں متحرک ہیں آپ انہیں غیر ریاستی عناصر کہہ لیجئے۔۔ لیکن میاں صاحب! ریاست پاکستان تو انہی کے خلاف کاروائی کر رہی ہے۔آپ جس

مرے ہوئے لہجے میں انہیں غیر ریاستی عناصر کہہ رہے ہیں وہ تو شکوک و شہبات پیدا کر رہا ہے۔ اگر ریاست پاکستان ان تنظیموں کو غیر ریاستی عناصر کہتی ہے تو بحثیت سابق وزیر اعظم آپ کو بھی انہیں غیر ریاستی عناصر ہی کہنا پڑے گا۔آپ کے بیان سے ایسا لگ رہا ہے کہ جن لوگوں نے ممبئی میں جا کرحملے کیے وہ تو یہاں سے اجازت لے کر گئے تھے ۔۔۔حضور!ممبئی حملوں پر ریاست پاکستان کا مئوقف یہ ہے کہ ممبئی حملے کرنے والے پاکستانی ضرور تھے لیکن ان کی اس کاروائی

کا ریاست سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔ یہ غیر ریاستی عناصر دہشت گردی میں ملوث تھے اور یاست پاکستان ا ن کے خلاف کاروائی کر رہی ہے۔ اس ریاستی مئوقف پر کوئی فرد، کوئی ادارہ،کوئی ملک یقین کرے نہ کرے لیکن سٹیٹ آف پاکستان کا مئوقف یہی ہے اور بحثیت سابق وزیرا عظم آپ کو بھی یہی مئوقف رکھنا چاہئے تھا ۔ آپ نے ان کے خلاف ٹرائل نہ کرنے کی بات کر کے خود کو ریاست پاکستان سے الگ کر لیا ہے۔ گویا آپ ٹرائل مکمل کرنا چاہتے تھے لیکن ریاست آپ کے راستے میں رکاوٹ

بن گئی۔ کیا اس سے قبل کسی پاکستانی سابق سربراہ ِمملکت نے ایسا بیان دیا ہے ؟ اس معاملے میں پاکستانی ریاست کا مئوقف یہ ہے کہ ہم نے بھارت کی نشاندہی پر متعدد افراد کو گرفتار کیا ۔ ان پر انسداد دہشت گردی عدالت میں ٹرائل بھی شروع کیا۔لیکن بھارت نے ممبئی حملوں کے واحد گرفتار کیے جانے والے ملزم اجمل قصاب کو پاکستان تک رسائی نہ دی اور نہ ہی پاکستان کو ایسے ٹھوس شواہد فراہم کیے جن کی بنیاد پر اس مقدمے کی کاروائی منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکی۔ دریں اثناء بھارت

نے اجمل قصاب کو پھانسی دے کر اس معاملے کو مزید الجھا دیا۔ میاں صاحب! اسی وجہ سے یہ ٹرائل رکا ہوا ہے۔آپ اس ریاستی مئوقف سے کیسے اختلاف کر سکتے ہیںتا وقتیکہ آپ ریاست سے بغاوت کا ارتکاب نہ کریں؟ میاں صاحب! آپ کے اس بیان کے بعد بھارت کا ہر ٹی وی چینل پاکستان پر چڑھائی کر رہا ہے اور بھارتی سفارتخانے چوبیس گھنٹے ساری دنیا میں متحرک ہیں کہ دیکھو ! پاکستان کے سابق وزیراعظم نے خود تسلیم کر لیاہے کہ ریاست نان سٹیٹ ایکٹرز کو پال رہی ہے۔ وہ بارڈر کر

اس کرکے باہر سینکڑوں لوگوں کو قتل کر رہے ہیں اور پھر ان کا ٹرائل بھی نہیں ہونے دیتے ۔ میاں صاحب! آپ کے اس بیان نے آپ کو وہاں پر پہنچا دیا ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہے ۔۔۔آپ نے اپنے اقتدار کی خاطر ریاست کو بدنام کرنے اور دشمنوں کو اس پر چڑھائی کرنے کا مواد فراہم کیا ہے اورآپ کا یہ بیان اتنا سادہ نہیں جتنا نواز لیگ وضاحت کر رہی ہے ۔ اب کفن جو پھاڑا گیا ہے تو کوئی نہ کوئی انجام تو ہو گا ہی۔۔۔اور اب نظریں صرف انجام پر ہیں۔۔۔!