جمہوریت اور ریاستی اداروں کے خلاف سازش ۔ذمہ دارکون۔؟ غلام مرتضیٰ باجوہ

کوئی نظام حکومت ہو اس میں خوبیوں کے ساتھ خامیاں بھی پائی جاتی ہیں اور اس سے جمہوری حکومت بھی مستثنیٰ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے اہل علم اور ارباب سیاست نے جمہوریت پر تنقید کی ہے اور اس کے بعض اصولوں کو غلط بتایا ہے۔ جمہوریت’’Democracy‘‘ دو یونانی لفظوں ’’‘Demos’ اور ‘Cratea‘‘ سے مرکب ہے۔ اس کے معنی بالترتیب عوام اور طاقت کے ہیں۔ گویا جمہوریت اس نظامِ حکومت

کو کہتے ہیں جس میں اقتدار یا قوت عوام کے ہاتھوں میں ہوتی ہے، دوسرے لفظوں میں عوام ہی فرماں روا ہوتے ہیں۔ ارسطو نے جمہوریت کے ذکر میں لکھا ہے کہ اس میں ارباب حل وعقد’’Magistrates‘‘ کے انتخاب میں افراد کی کثیر تعداد شریک ہوتی ہے اور ان میں غریب بھی ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف مطلق العنان حکومت میں صرف امراء حکومت کرتے ہیں اور یہ تعداد چند افراد تک محدود ہوتی ہے۔جمہوریت کی سب سے عمدہ تعریف وہ ہے جو ابراہم لنکن کی طرف منسوب کی جاتی ہے، یعنی ’’Government of people, by the people, for the people‘‘’’عوام کی حکومت، عوام کے ذریعہ، اور عوام کے فائدے کے لیے۔‘‘جمہوریت کی یہ تعریف محض اس کے ایک پہلو کی وضاحت ہے۔ بعض اصحاب علم کے نزدیک جمہوریت ایک سماجی فلسفہ ہے اوراس لحاظ سے اس کی تعریف اس طرح کی گئی ہے کہ یہ انسانی شخصیت ’’Human personality‘‘ کا احترام ہے اور اس احترام کا مستحق سماج کا ہر فرد ہے۔ اس احترام میں پیدائش، امارت اور سماجی حیثیت کا کوئی لحاظ نہیں کیا جاتا ہے۔یہ جمہوریت کا سنگِ بنیاد ہے۔ جمہوریت میں عوام ہی ملک کے اصلی فرماں روا ہوتے ہیں۔ ان ہی کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ جن لوگوں کو چاہیں اقتدار کی مسند پر بٹھائیں اورجن کو نہ چاہیں انھیں اس سے محروم کردیں۔ ان کی مرضی کے بغیر نہ کوئی حکومت بن سکتی ہے اور نہ ہی کوئی قانون منظور ہو سکتا ہے۔ غرض یہ کہ عوام ہی ملک و حکومت

کے سیاہ و سفید کے مالک ہوتے ہیں۔یہ جمہوریت کی روح ہے۔ جمہوری حکومت میں ہر شخص کو اس بات کی آزادی حاصل ہوتی ہے کہ وہ جو مذہب یا عقیدہ رکھنا چاہے اس کو رکھ سکتا ہے۔ کسی شخص یاجماعت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے کے عقیدہ و مذہب میں مداخلت کرے۔ اسی طرح ہر شخص کو اجتماع، جماعت سازی اور اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے۔ جمہوری ریاست کے ہر فرد کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ حکومت پر تنقید اور اس کے کار پردازوں کا

محاسبہ کرے تاکہ ان کی کج روی کا سد باب ہو۔ ہر مذہبی گروہ کو اس بات کی آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنے اصول و نظریات کے مطابق اپنے مذہبی رسوم و رواج ادا کرے اور ملکی قانون کی حدود میں رہتے ہوئے اپنے مذہب کی تبلیغ و اشاعت اور اپنی تہذیب و کلچر کو فروغ دینے کے لیے کوشش کرے۔ اسی طرح ہر شخص کو اپنی مرضی کے مطابق پیشہ اختیار کرنے، تجارت کرنے اور اس سے نفع حاصل کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ یہ حق بھی اس کو حاصل ہے کہ وہ اپنی محنت کی جائز

کمائی سے ذاتی ملکیت بنائے اور قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے اس میں اضافہ کرے۔ جب تک ایک فرد کی آزادی ریاست کی سلامتی یا کسی دوسرے فرد کی آزادی کے لیے خطرہ نہ بنے، حکومت کو مداخلت کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ایک طرز حکومت۔ عوام کی حکومت۔ جس میں تمام فیصلے عوامی نمائندے کرتے ہیں۔ آمریت کی ضد۔ جمہوریت کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ بلا واسطہ جمہوریت اور بالواسطہ جمہوریت۔ بلاواسطہ جمہوریت میں قوم کی مرضی کا اظہار براہ راست افراد کی رائے

سے ہوتا ہے۔ اس قسم کی جمہوریت صرف ایسی جگہ قائم ہوسکتی ہے۔ جہاں ریاست کا رقبہ بہت محدود ہو اور ریاست کے عوام کا یکجا جمع ہو کر غور و فکر کرنا ممکن ہو۔ اس طرز کی جمہوریت قدیم یونان کی شہری مملکتوں میں موجود تھی۔ ان دنوں یہ طرز جمہوریت سوئٹیز لینڈ کے چند شہروں اور امریکا میں نیو انگلینڈ کی چند بلدیات تک محدود ہے۔جدید وسیع مملکتوں میں تمام شہریوں کا ایک جگہ جمع ہونا اور اظہار رائے کرنا طبعاً ناممکنات میں سے ہے۔ پھر قانون کا کام اتنا طویل اور پیچیدہ

ہوتا ہے کہ معمول کے مطابق تجارتی اور صنعتی زندگی قانون سازی کے جھگڑے میں پڑ کر جاری نہیں رہ سکتی۔ اس لیے جدید جمہوریت کی بنیاد نمائندگی پر رکھی گئی۔ چنانچہ ہر شخص کے مجلس قانون ساز میں حاضر ہونے کی بجائے رائے دہندگی کے ذریعے چند نمائندے منتخب کر لیے جاتے ہیں۔ جو ووٹروں کی طرف سے ریاست کا کام کرتے ہیں۔ جمہوری نظام حکومت میں عوام کے دلوں میں نظام ریاست کا احترام پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں نظام حکومت خود عوام یا عوام کے نمائندوں

کے ذریعے پایا تکمیل تک پہنچتا ہے۔ مگر یہ جذبہ صرف اس وقت کارفرما ہوتا ہے جب عوام کی صحیح نمائندگی ہو اور اراکین مملکت کا انتخاب صحیح ہو۔اگربات کی جائے پاکستان کی تو یہ ایک سلامی ریاست اور پاکستانی آئین کے تحت ہرشہری کے حقوق کو تحفظ دیا جاتاہے ۔لیکن چندسیاستدان اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں ۔تاریخ گواہ ہے کہ قتل ، ہنگامہ آرائی ،لوٹ مار ، کرپشن اورکرپٹ عناصر کی سرپرستی کا الزام صرف سیاستدانوں پر ہی لگتاہے یہ مسئلہ 70سالہ تاریخ میں

حل نہیں ہوسکابلکہ کرپٹ مافیا اور کرپشن کے فروغ دینا کی نئی نئی سکیموں متعارف کروانے میں مصروف رہنے کا الزام عام پایاجاتاہے ۔اور اس جرم میں ملوث افراد یہ بیان یا مثال پیش کرتے ہیں کہ یہ جرم تو فلاں نے بھی کیا تھا ۔اس حوالے بہت سی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کا نام آتے ہے جیسا کہ آج کل پاکستان کے تین دوفعہ وزیراعظم رہنے والے میاں نوازشریف نے اداروں سے اینٹ سے اینٹ بجانے کا سلسلے شروع کررکھاہے حالانکہ ان لوگوں یہ بھی معلو م ہے ۔یہ اقدامات جمہوریت

اور ملکی سلامتی کے خلاف ہیں ۔اور اس سلسلے میں چند ماہ کے اندراندر عالمی دنیا کی جانب سے سخت ردعمل بھی متوقع ہے جس سے پوری دنیا میں پاکستانیوں کاشدید مشکلات کا سامناکرناپڑے گا ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ جمہوریت اور ریاستی اداروں کو کمزورکر نے کی بجائے پاکستانی قوم کی بہتری کے لئے اقدامات کئے جائیں تاکہ عالمی دنیا کا پاکستانی قوم اورسیاستدانوں اعتماد برقراررہے ۔