تحریک انصاف حکومت کا’’بلین ٹری‘‘ منصوبہ پاکستان اور خطے میں کیا تبدیلیاں لائے گا، ورلڈ اکنامک فورم حقیقت سامنے لے آیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بین الاقوامی تنظیم ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے شائع شدہ ایک حالیہ مضمون میں پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ’’بلین ٹری‘‘ منصوبے کی تعریف کرتے ہوئے اسے پاکستان اور خطے میں ماحول کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم نے کہا ہے کہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں درختوں کی کٹائی اور قدرتی آفات کے باعث پاکستان کے جنگلات میں شدید کمی آئی

ہے۔پاکستان میں جنگلات صرف 2 سے 5 فیصد حصے پر مشتمل ہیں جو اقوام متحدہ کے تجویز کردہ 12 فیصد سے کم ہے۔ پاکستان کا شمار ان پہلے چھ ممالک میں ہوتا ہے جو گلوبل وارمنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ میں سیلاب،، لینڈ سلائیڈنگ اور درختوں کی کٹائی کے باعث جنگلات بری طرح متاثر ہوئے ہیں لیکن پاکستان تحریک انصاف نی2014ء کی گزشتہ صوبائی حکومت نے ’’بلین ٹری‘‘ منصوبے کا آغاز کیا اور منصوبے کی لاگت 169 ملین ڈالر تھی۔پبلک اور پرائیویٹ پارٹنر شپ میں کام کرنے والی تنظیم ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف ماحول کے لیے اچھا ہے بلکہ اس کی وجہ سے درختوں کی نجی نرسریوں کا ایک نیٹ ورک بھی قائم ہوا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی افراد کی آمدن بڑھی ہے اور بے روزگار نوجوانوں اور خواتین کو ‘گرین ‘ نوکریاں بھی ملی ہیں۔