’’پچیس سال کی عمر میں لڑکوں کی شادی کردی جائے‘‘نوجوانوں کی ترجمانی کردی گئی،شاندار خبر آگئی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار میں آتے ہی عوام نے نئی حکومت اور نئے وزیراعظم سے کئی اُمیدیں وابستہ کر لیں ،عوام کی توقع ہے کہ نئی حکومت ان کے مسائل سنے اور جلد از جلد اُن مسائل کا حل تلاش کر کے ان کو ریلیف دے ۔ ایسے میں وزیراعظم عمران خان سے بھی کئی مطالبات کیے گئے ۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک نوجوان کا وزیراعظم عمران خان کے نام لکھا گیا

خط سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو گیا۔اس خط میں نوجوان نے اپنی دُکھ بھری داستان وزیراعظم کو سُنائی اور اپنے مسئلے کے حل کے لیے قانون سازی کی اپیل بھی کر دی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے اس خط میں پشاور سے تعلق رکھنے والی امین اللہ نامی نوجوان کا کہنا تھا کہ میں 25 سال کا لڑکا ہوں، میں پیسے کماتا ہوں اور اپنے والدین کو دیتا ہوں۔لیکن جب میں اپنے والدین سے اپنی شادی کی بات کرتا ہوں تو مجھے بد تمیز اور بد اخلاق قرار دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ شادی کی بات مت کرو۔نوجوان نے اپنے خط میں لکھا کہ میں بھی انسان ہوں، میرے بھی جذبات ہیں۔ میری آپ سے گذارش ہے کہ کوئی ایسا قانون بنایا جائےجس کے تحت 25 سال کے کے لڑکے کی شادی لازمی قرار دی جائے۔ خط کے آخر میں امین اللہ نے لکھا کہ شاید میرا یہ خط کروڑوں نوجوانوں کے دل کی آواز بھی ہو۔ اس خط کو سوشل میڈیا پر مقبولیت حاصل ہوئی تو سوشل میڈیا صارفین نے تمسخرانہ تبصرے کیے جب کچھ صارفین نے تو نوجوان کو مُفت مشورے بھی دئے اور کہا کہ اگر تُم میں ہمت ہے تو اپنے والدین کے سامنے ڈٹ جاؤ اور شادی کر لو۔کچھ صارفین نے کہا کہ نوجوان کے خط کو دیکھ کر صاف لگتا ہے کہ اُسے شادی کا بے حد شوق ہے اور وہ 25 سال کا ہونے کے بعد اپنی شادی کے لیے کافی بے چین ہے۔ ایک صارف نے تو نوجوان کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کے والدین نہیں مان رہے تو آپ ایسا کریں کہ خود ہی نکاح کر لیں اور نکاح کر کے اپنے والدین کو بتا دیں کہ آپ نے

نکاح کر لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر امین اللہ کے وزیراعظم عمران خان کے نام لکھے گئے اس خط کا کافی مذاق بھی اُڑایا جا رہا ہے ، صارفین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی سنجیدہ اور فہم شخص ایسا خط نہیں لکھ سکتا ، یہ خط یقیناً شرارتاً لکھا گیا ہے۔