شہبازشریف ، احتساب اور احتجاج۔۔۔ غلام مرتضیٰ باجوہ

شریف برداران کو احتساب سے بچانے کے لئے اب احتجاج کرنے کیا سوچ رہے ہیںفیصلہ چنددنوں میں متوقع ہے۔نظام قدرت ہے جیسا کروگے ویسا بھرو گے، حکومت جو سلوک کرے گی اس کیلئے تیار رہنا چاہیے، شہبازشریف کی گرفتاری پر نوازشریف نے اپنے ردعمل میں کہا کہ گرفتاری نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ مضحکہ خیز بھی ہے۔ شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد مسلم لیگ ن کی جانب سے فوری رد عمل نہ

آنے سے ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔کیونکہ پارٹی صدر کی گرفتاری پر مسلم لیگ ن کوئی بھی بڑا احتجاج ریکارڈ کروانے میں ناکام رہی ہے۔ شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد ہی اراکین اسمبلی کو اپنے اپنے علاقوں میں احتجاج کرنے کا ٹاسک سونپ دیا گیا تھا لیکن کہیں بھی پارٹی صدر کی گرفتاری پر بڑا احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا۔ شہباز شریف کی گرفتاری پر بڑا احتجاج نہ ہونے پر احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر کارکنوں اور رہنماؤں کو پْر زور احتجاج کرنے کی ہدایت کی گئی تھی لیکن کارکنوں بڑی تعداد نے احتجاج میں حصہ لینے سے انکارکردیا حالیہ عام انتخابات میں مسلم لیگ نون نے تقریبا ء ایک کروڑ کے قریب ووٹ حاصل کیئے تھے ۔ پارٹی اعلامیہ کے مطابق کارکنوں کا احتساب عدالت کے باہر جمع نہ ہونا پارٹی قیادت کے لئے پریشانی کا باعث بن گیا ہیترجمان مسلم لیگ ن کے مریم اورنگزیب کے مْسکرانے پر سوشل میڈیا صارفین نے سوال اْٹھایا کہ شہباز شریف کی گرفتاری اور ان کی احتساب عدالت میں پیشی میں ایسی کیا بات ہے کہ مریم اورنگزیب اور عظمیٰ بخاری مْسکرائے بغیر نہ رہ سکیں۔حقیقت جلد سامنا آجائے گی بتایا جاتاہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف کی گرفتاری اور دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر شریف خاندان کے قریبی بیوروکریٹس میں ایک بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔بیوروکریسی میں اس حوالے سے چہ مگوئیاں بھی ہو رہی ہیں کہ شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد کئی انتظامی افسران اور بیوروکریٹس

کی گرفتاریوں بھی عمل میں لائی جائیں گی جبکہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے با اعتماد اور قریبی بیوروکریٹس پر بھی ہاتھ ڈالا جا سکتا ہے۔ بیوروکریٹس کے ساتھ ساتھ آئندہ دنوں میں آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں ایک سابق صوبائی یا وفاقی وزیر کی گرفتاری کا بھی امکان ہے کیونکہ کچھ اطلاعات کے مطابق آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں شہباز شریف کے خلاف فواد حسن فواد وعدہ معاف گواہ بن گئے اوران ہی کے انکشافات پر شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا۔دوسری جانب قومی

اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد کئی سرکاری افسران کے مابین بے چینی دیکھنے میں آئی۔ تاہم اب 56 کمپنیاں کیس میں مزید 8 افسران نے وعدہ معاف گواہ بننے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر پنجاب کے کئی بیورو کریٹس نے بھی 56 کمپنیوں کے حوالے سے سارا ملبہ اپنے اوپر لینے کی بجائے سیاسی رہنماؤں پر ڈالنے کا عندیہ دے دیا ہے اور تنبیہہ کر دی ہے کہ اگر نیب نے انہیں بلایا تو وہ سب حقیقت بیان کر دیں گے کہ ہم نے

کن کن سرکاری کاموں میں غیر قانونی احکامات کن کن سیاسی رہنماؤں کے کہنے پر کئے اور کون کونسی سیاسی شخصیت اس کام کے لیے مجبور کرتی رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو مسلم لیگ ن کو نہ صرف ضمنی انتخاب میں نقصان ہو گا بلکہ ممکنہ طور پر مسلم لیگ ن کی سیاست دم توڑ جائے گی۔ شہباز شریف کی گرفتاری پر مسلم لیگ ن کی بڑا احتجاج ریکارڈ کروانے میں ناکامی اور مرکزی قیادت کا خاموش رد عمل بھی پْر اسرار قرار دیا جا

رہا ہے۔ کچھ مبصرین اسے ڈیل سے منسوب کر رہے ہیں جبکہ کچھ سیاسی مبصرین نے اس خاموشی کو طوفان سے پہلے کے سناٹے سے تشبیہہ دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی آئندہ حکمت عملی کیا ہو گی اور کون پارٹی معاملات کو آگے لے کر چلے گا ، پارٹی صدر کی گرفتاری کے بعد پارٹی معاملات مبینہ طور پر حمزہ شہباز کے سپرد کر دئے گئے ہیں، لیکن پارٹی کے کئی رہنما ان سے ناخوش ہیں۔ خبر یہ بھی ہے کہ احتساب سے بچانے کے لئے بیوروکریٹس کی طرف

سے وعدہ معاف گواہ بننے کے خدشات کے پیش نظر سابق حکومت کے کئی وزرا اور اراکین اسمبلی جو ان کمپنیوں کا حصہ رہے ہیں اور جنہوں نے سرکاری پیسے ضائع کیے، نے نہ صرف اپنے بچاؤ کے لیے کوششوں کا آغاز کردیا ہے بلکہ کئی افسران تو منظر سے بھی غائب ہو گئے ہیں۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک سابق وزیر اور سابق مشیر خاص نے تو اپنے قریبی حلقوں کو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ گرفتاری کے پیش نظر نیب کی پیشی پر جانے کی بجائے باہر

چلے جائیں گے۔ 23 سابق اراکین اسمبلی کے حوالے سے بھی اہم ثبوت مل چکے ہیں کہ وہ ان کمپنیوں میں حصہ دار بن کر کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شہبازشریف کی گرفتاری پر ن لیگی قیادت کی خاموشی کئی اہم سوالات کو جنم دے رہی ہے ۔ کہ کریشن کے خلاف دنیا بھر کے کئی ممالک میں احتجاج جاری ہیں ۔جدید میڈیا’’ سوشل میڈیا ، موبائل فون اور نجی ٹی وی چینل‘‘ نے لاکھ کرپشن زدحکمرانوں اور مختلف مافیا گروپوںکو بے نقاب کردیا ہے

۔جس کی زد میں مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کے نام بھی منظر عام پر ہیں ۔لگتا ہے کہ اب کارکنوں کو بھی معلوم ہوچکا ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت مختلف کریشن کے مقدمات کی زدمیں ہے ،وہ کارکنوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کرسکے گی ۔اگرکسی کارکنوں نے کارسرکارمیں مداخلت کی تو وہ قانون کی گرفت میں آجائے گا ۔قانونی کاروائی سے بچانے کے لئے پارٹی قیادت کی جانب سے یہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا کہ اس کارکن کا ہمارے پارٹی (مسلم لیگ ن) سے

کوئی تعلق نہیں یہ اس کا ذاتی فعل ہے، لہذا قانو ن کی بالادستی کے لئے اس کی پارٹی رکنیت معطل کی جاتی ہے ۔اس صورت میںکارسرکارمیں مداخلت پر قانون کے مطابق سزا اس کامقدر بن جائے گی ۔حقیقت تویہ ہے کہ شریف برداران کو احتساب سے بچانے کے لئے اب احتجاج کرنے کیا سوچ رہے ہیںفیصلہ چنددنوں میں متوقع ہے ۔ لیکن آئند چندمہینوں میں آنے والے (جمعہ کے دن) بڑے اہم ہیں۔