منرل واٹرزآلودہ نکلے، کمپنیوں کے نام جاری کر دیئے گئے

اسلام آباد (آئی این پی) پینے کے صاف اور محفوظ پانی کی کمی کی وجہ سے ملک بھر میں بوتلوں میں بند پانی کی صنعت تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ پاکستان کونسل برائے تحقیقاتِ آبی وسائل، حکومتِ پاکستان ، وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کی ہدایت پر بوتلوں میں بند پانی کی کوالٹی کو مانیٹر کر رہی ہے۔ ہر سہ ماہی کے اختتام پر پینے کے بوتل بند پانی کے مختلف برانڈزکی تجزیاتی رپورٹ پی سی آر ڈبلیو آر کی ویب سائٹ پر اور میڈیا میں شائع کر دی جاتی ہے ۔جولائی تا ستمبر 2018 کی سہ ماہی میںاسلام آباد ،راولپنڈی،گوجرانوالا، پشاور، ملتان، لاہور بہاولپور، رحیم یار خان، ٹنڈوجام،، کوئٹہ اور کراچی سے بوتل بند/ منرل پانی کے 118 برانڈز کے نمونے حاصل کیے گئے ۔

ان نمونوں کا پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) کے تجویز کردہ معیار کے مطابق تجزیہ کیا گیا۔ اس تجزیے کے مطابق9 برانڈز (پیورواٹر، پلس پیاس، 3 سٹار، ڈورو ، رئیل پلس، پیور اِٹ، ایلین پلس، کرسٹل مایا اور ایکواصاد) برانڈز کے نمونے کیمیائی طور اور جراثیمی طور پر آلودہ پائے گئے۔ ان میں1 نمونہ ( پلس پیاس ) میں سنکھیا کی مقدار سٹینڈرڈ سے زیادہ (15 پی پی بی ) تک تھی، جبکہ پینے کہ پانی میں اس کی حدِ مقدار صرف 10 پی پی بی تک ہے۔ پینے کے پانی میں سنکھیا کی زیادہ مقدار کی موجودگی بے حد مضرِ صحت ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے پھیپڑوں ، مثانے، جلد، پراسٹیٹ، گردے، ناک اور جگر کا کینسر ہو سکتا ہے اس کے علاوہ بلڈ پریشر ، شوگر، گردے اور دل کی بیماریاں، پیدائشی نقائص اور بلیک فُٹ جیسی بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں۔ جبکہ آلودہ برانڈز میں سے 3نمونے (ایلین پلس، کرسٹل مایا اور ایکواصاد) جراثیم سے آلودہ پایا گیا جس کی وجہ سے ہیضہ، ڈائریا، پیچش، ٹائفائیڈ اور یرقان کی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔4 برانڈز ( پیور واٹر، 3 سٹار، ڈورو اور رئیل پلس)کے نمونوں میں سوڈیم کی مقدار سٹینڈرڈ سے زیادہ (60 سے لے کے115 پی پی ایم) پائی گئی ۔1 برانڈ (پیور اِٹ)کے نمونہ میں فلورائیڈ کی مقدار سٹینڈرڈ سے زیادہ 1.8 پی پی ایم پائی گئی۔ جبکہ پینے کہ پانی میں سوڈیم کی حدِ مقدار صرف 50 پی پی ایم اور فلورائیڈ کی حدِ مقدار صرف 0.7 پی پی ایم تک ہے۔