عوامی سوچ ، احتسابی اقدام ، آگے بڑھنے کی راہ۔۔۔ غلام مرتضیٰ باجوہ

حکومت کے زوال پذیر ہونے کے سبب کیا ہیںاس پر بحث جاری ہے کہ وہ کون سا فعل ہے جو ملک کی ترقی کی راہ میں رکائوٹ پیداکرتا ہے۔تاریخی حوالات جات سے پتہ چلتا ہے کہ ’’کرپشن‘‘ تمام ملکوں اور قوموں کی ترقی اور بدحالی کی ذمہ دارہے۔جہاں کرپشن ہوگی وہاں انسانی حقوق اور ملک کے آئین کی پامالی ہوگی ۔ایک محاورے کے مطابق طاقت اپنے ساتھ کرپشن لاتی ہے لیکن بہت زیادہ طاقت بہت زیادہ کرپشن کا باعث بھی بنتی ہے۔ سیاست میں کرپشن ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہے لیکن وہاں قانون کی گرفت اور اداروں کا عمل دخل کرپشن کو محدود رکھنے میں معاون رہتا ہے لیکن ترقی پذیر ممالک میں جمہوریت اور جمہوری ادارے ابھی اس قدر مظبوط نہیں ہو سکے کہ اقتدار کی اندھی طاقت کے سامنے بند باندھ سکیں۔ ان چند مثالوں کے علاوہ دنیا بھر میں بے شمار ممالک میں عجب سیاست نے کرپشن کی غضب کہانیاں جنم

دی ہیں۔ البتہ تبدیلی یہ آ رہی ہے کہ بیشتر ممالک میں کرپشن پر برداشت کا چلن اب کم ہو رہا ہے۔ پاکستانی سیاست میں بیشتر پارٹیوں پر کرپشن کے الزامات رہے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ خلیفہ عمربن عبدالعزیزؒ کے کسی حاکم نے اپنے شہر کی ویرانی کا شکایت نامہ بھیجا اور امیر المومنین سے اس کو آباد کرنے کے لیے مال طلب کیا ۔امیر المومنین نے اس کو جواب میں لکھا :’’ جب تم خط پڑھو تو اپنے شہر کو عدل وانصاف کے ذریعے سے محفوظ کردو اور شہرکے راستوں سے ظلم وزیادتی دورکردو،کیونکہ ظلم وزیادتی ہی شہر کی ویرانی کا باعث ہے ، والسلام‘‘یہ درست کہا گیا ہے :’’ ملک لشکرکے بغیر نہیں ، لشکر مال کے بغیر ، مال شہروں کے بغیر نہیں ، شہر عوام کے بغیر نہیں اور عوام انصاف کے بغیر نہیں‘‘حالیہ ایک رپورٹ 2017میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر کے ایک تہائی ملکوں میں بدعنوانی

کے تدارک کی کوششیں جاری ہیں۔ لیکن، ان کی رفتار انتہائی سست ہے۔بدعنوانی کے تدارک کے کام میں وقت لگتا ہے ،لیکن، یہ رفتار اس حد تک سست ہے کہ گزشتہ 6برس میں کوئی خاص پیش رفت دیکھنے میں نہیں آتی۔بدعنوانی کے لحاظ سے پاکستان کو ’’بدتر ملک‘‘ قرار دیا گیا ، جہاں رشوت ستانی ہر سطح پر موجود ہے۔ یہاں تک کہ ایک سے 100 کے اسکیل پر پاکستان کی سطح 98 جب کہ بنگلہ دیش 93 کی سطح پر ہے۔ ایشیائی ملکوں پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، بھارت، قرغیزستان، میانمار، نیپال، اور تاجکستان میں انتہائی درجے کی بدعنوانی ہے، جس کے نتیجے میں وسیع شعبہ جات اور ادارے متاثر ہو رہے ہیں ۔ زیادہ تر کمپنیاں رشوت ستانی کو ان ملکوں میں سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتی ہیں۔عمل داری کے ضمن میں منی لانڈرنگ خطے کا ایک باعث تشویش معاملہ ہے۔ جب کہ زیادہ تر ملکوں میں منی لانڈرنگ

سے نبردآزما ہونے کے سلسلے میں ضابطے غیر تسلی بخش ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کا خاتمہ ہو جائے تو اس سے وسائل ایمانداری سے خرچ ہوں تو زیادہ لوگوں کو زیادہ سہولتیں مل سکتی ہیں۔ زیادہ سکول اور زیادہ ہسپتال بن سکیں گے، اگر سڑک کاغذوں میں بنتی رہے گی یا پہلی بارش سے بہہ جائے گی تو اس سے وسائل کا ضیاع ہی ہوتا رہیگا اور اس سے عوام کو زیادہ فائدہ نہیں پہنچ سکے گا۔ کرپشن کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟ پورا نظام بدلنے کی ضرورت ہے، بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اب یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ کرپشن نہ کرنے والا ہی نظام میں رکارٹ ہے یا پولیس والے کی تنخواہ کم ہے تو اس کے لیے رشوت ضروری ہے۔دوسری جانب آج کل پاکستان میں قومی احتساب بیورو(نیب ) کی جانب سے چند اہم شخصیات کی کرپشن الزامات میں گرفتاری کے بعد عوام کی بجائے سیاسی

جماعتوں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے ۔ مسلم لیگ ن سمیت اہم سیاسی پارٹیوں کے رہنمائوں کو کرپشن کے الزامات میں (نیب) نے طلب کر رکھاہے اور کچھ زیر حراست ہیں ۔سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی گرفتاری کے بعد مسلم لیگ ن سمیت دیگر جماعتوں کے کرپشن میں ملوث رہنمائوں میں غیرمعمولی بے چینی پائی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز ایک انتخابی مہم کے دوران سابق وزیر ریلوے خواجہ سعدرفیق کی قیادت میں ریلی کو کارکنوں کی مبینہ گرفتاریوں کی بناء پر دھرنے کی شکل دی گئی ۔یہ خبر بھی سننے کو ملی کہ خواجہ سعدرفیق کی قیادت میں لاہور کی قومی شاہراہ پر دھرنے کا آغازہوچکا ہے جس میں ملک بھرسے مسلم لیگ ن سمیت اپوزیشن اتحادی جماعتوں کے کارکنوں کی غیر معمولی شرکت متوقع ہے اور یہ دھرنا طویل عرصہ تک جاری رہے گا بلکہ یہ دھرنا تحریک انصاف کی

حکومت کے ختم کا باعث بنے گا ۔یہ افواہیں چند گھنٹوں بعد دم توڑگئیں ۔ نہ تو ملک بھر سے دھرنے میں کارکنوں نے بڑی تعدادمیں شرکت کی ۔ نہ تحریک انصاف کی حکومت کو کوئی اس دھرنے سے پریشانی لاحق ہوئی ۔ پریشانی کا سامنا صرف اور صرف عوام کو ہوا ۔اوردھرنا ختم ہوگیا ۔دھرنے کا مقصدکیا تھاجلد حقیقت سامنے آجائے گی ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کی بناء پر گرفتارہونے سابق وزیراعلیٰ پنجاب ، مسلم لیگ ن کے صدر، اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہبازشریف نے اپنے سیاسی مخالفین کو کرپشن کے الزامات پر منہ توڑ جواب دیے تھے ۔لیکن اب ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ2017 پرمسلم لیگ ن سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما تحفظات کا اظہارکررہے ہیں۔ لیکن عوام ان تحفظات پر احتجاج کے لیے تیارنہیں ہیں۔ لگتاہے کہ پاکستانی قوم کی سوچ بدل چکی ہے اور وہ قومی اداروں کی حوصلہ افزائی کے لیے کرپشن ، قبضہ مافیااور کرپٹ افرادکے خلاف احتسابی مہم کو خوش آئند قرار دے چکے ہیں۔ امید ہے کہ اب ملک وقوم ترقی کے لیے آگے بڑھنے کی راہ ہموار ہوگی ۔