بار ایسوسی ایشن عباس پور کی ہڑتال اور حکومتی اداروں کی بے حسی،لمحہ فکریہ ؟ راجہ افضل

وکلاء کو معاشرے کی کریم گرداناجاتا ہے اور لوگ ان سے رہنمائی اور مشاورت حاصل کر کے اپنے معاملات کو آگے بڑھاتے ہیں جب یہ طبقہ ہی ہڑتال کر نے پر مجبور ہو جائے تو یہ سمجھا جائے کی پانی کانوں سے اُوپر ہو گیا ہے بار ایسوسی ایشن عباس پور کی ہڑتال کو ستر دن ہونے کو ہیں لیکن حکومت کے کانوں پرجوں تک نہیں رینگی ایسا معلوتا ہے کہ آزا دکشمیر میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں نا یہاں کوئی وزیر اعظم ہے نہ کو ئی وزیر قانون وزیراعظم آزادکشمیرراجہ فاروق حیدر کی گوڈ گورنس کے دعوے ہوا میں چلے گئے چوہدری عبدالمجید سابق وزریر اعظم آزاد کشمیر پر تنقید کر نے والے ان سے دو ہاتھ آگے نکلے وکلاء جیسی سنجیدہ فکر کمیونٹی ہڑتال پر ہے اور ہڑتال کوستردن سے زاہد ہو چکے ہیںوزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان صرف تعزیت کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کر کے عباس

پور کے اوپر سے گذرکر ضلع حویلی کہوٹہ جا سکتے ہیں لیکن اُن کو اقتدار میںعباس پور بھول جاتا ہے یہی صورت حال پاکستان میںراجہ فاروق حیدر خان کی ان کے قائد میاں نواز شریف نے عوام کے ساتھ روا نہیں رکھا چار سال تک انہوں نے پاکستان میں وزیر خارجہ نہیں بنایا تمام اپوزیشن پارٹیاں میاں نوا زشریف سے کہتی رہیں لیکن انہوں نے مغل بادشاہ کی طرح عوام کا خیال نہیں رکھااور اقتدار کے نشے میں سب کچھ بھول گئے آج یہی حالت وزیر اعظم آزاد کشمیر کی ہے کہ وہ لوگوں کے مسائل کو ایڈریس نہیں کر رہے وکلاء عباس پور اپنے ذاتی مقصد کے لیے کوئی ہڑتال اور احتجاج نہیں کر رہے وہ تو ضلع پونچھ کی سب سے پہلی تاریخی سول عدالت کی عمارت اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی عدالت کا قیام ،وکلاء چمبرز، ڈی ایس پی کی عمارت اور اس کی پوسٹ کے احتجاج کر رہے ہیں اس وقت حالت یہ ہے کہ دن کو عدلیہ اپنی عدالت لگاتی ہے اورشام کے وقت پالتو جانور آرام کر تے ہیں اور دن کے اوقات میںحشرات الرض وکلاء ، ججز اور اہلیان مقدمات کی خدمت کر تے ہیں بارایسوسی ایشن عباس پور کے صدر سردار مشتاق خان ایڈووکیٹ کی قیادت میں تہیہ کیے ہوئے ہیں کہ ہم کشتیاں جلا کر میدان میں آگئے ہیں اب وکلاء اپنے مطالبات کو پورا ہوئے بغیر ہڑتا ل ختم نہیں کریں گے ساٹھ کی جاری ہڑتال میں عدالت کا نظام تقریباً جام ہو کر رہ گیا ہے سائلین در پدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیںمقامی ایم ایل اے اور وزیر حکومت چوہدری یاسین گلشن وکلاء کے ہڑتالی کیمپ میں بھی آئے اس کے علاوہ تمام سیاسی قیادت وکلاء کے ہڑتالی کیمپ میں آئے اور وکلاء کی مکمل حمایت کی اور تمام مطالبات کو سوفیصد جائز قرار دیالیکن یوں تو سب ڈویژن عباس پور کی ماسوائے ڈگری کالجز کے تما م سرکاری عمارتوں کی حالت انتہائی خستہ حالی اور کسمپرسی اور نادیدہ

صورتحال حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے لیکن کالم کا موضوع سابق تحصیل حویلی اور موجودہ سب ڈویژن عباس پور کی سول عدالت/تحصیل فوجداری عدالت عبا س پور کی عمارت سے متعلقہ مسائل کا احاطہ کئیے جانے کا تقاضا کرتا ہے۔ سابق تحصیل حویلی کی سب سے پرانی عدالت کی عمارت جو غالباً 1948ء میںتعمیر ہوئی تھی۔اکتوبر 2005ء کے قیامت خیز زلزلہ میں یہ پرانی عمارت جزوی طور پر متاثر ہوئی تھی لیکن تعمیر نوکے نام پر اس عدالت کی عمارت کو اکھاڑ کر اس کا ملبہ نیلام کردیا گیا اُ س کے بعد عدالت اور وکلاء شدید مشکلات کا شکار ہیں پہلے محکمہ زراعت مگس بانی کی عمارت میں کچھ عرصہ عدالت قائم رہی ۔اس کے بعدپرانی عدالت کی عمارت کو اکھیڑنے سے قبل دوبارہ معمولی مرمت کے بعد اس میں منتقل کر دیا گیا ۔کچھ عرصہ کے بعد جب ایک مقامی ٹھیکیدار کو عدالت کاکام الاٹ ہوا تو عدالت بار

ایسوسی ایشن عبا س پور کے ایک چھوٹے سے 20×12فٹ کے بار روم میں منتقل ہوئی جہاںعدالت و وکلاء انتہائی ناگفتہ بہہ صورتحال میں کا م کرتے رہے جب بارش یا سخت گرمی یا سردی میں وکلاء عدالت اور عدالت میں آئے ہوئے اہلیان مقدمات بلخصوص خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاجس ٹھکیدار کو عدالت کی عمارت کاکام الاٹ ہوا اُ س نے ساری عمارت اکھیڑ دی اورجس کو بعد ازاں اونے پونے نیلام کردیا گیا۔جولائی 2011ء کے عام انتخابات سے چند ماہ قبل عدالت منگار میں ایک کرائے کی عمارت میں منتقل کی گئی عام انتخابات 2011ء کی رات کو مبینہ طور پر مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے اس کرائے کی عمارت کو آگ لگا دی۔ لیکن پر ائیویٹ عمارت کے مالک کو ابھی تک معاوضہ نہیں ملا اس وقوعہ کے بعد عدالت واپس بار روم میں منتقل ہوگئی اور عدالت کا ریکارڈمحکمہ زراعت کی انتہائی بوسیدہ دو منزلہ

عمارت میں رکھا گیا اور اسی عمارت میں اور عدالت کے کلرکان کا دفتراور ریٹائرنگ روم قائم ہے اس عمارت کے ستون (پلرز) ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکرلوہے کی سلاخیںنظر آرہی ہیںباقی کمروں کی حالت زار اتنی ناگفتہ بہہ ہے تمام کمروں کی دیواروں میں دراڑیں پڑی ہوئی ہیں اگرد س یا پندرہ اہلیان مقدمات اس عمارت میں چلے جائیں تو یہ بوسیدہ عمارت لرزناں شروع ہوجاتی ہے کسی بھی وقت یہ عمارت مہندم ہوجائے گی جس کی وجہ ججز اور کلر کان کے ساتھ درجنوں افراد اپنی زندگیوں سے محروم ہوجائیں گے کسی نے ایک دفعہ برطانیہ کے بادشاہ چرچل سے جنگ کے بارے سوال کیا کہ آپ کے ملک پر قبضہ ہوجائے گا تو اُس نے میرے ملک میں عدالتیں کام اور انصاف کر رہی ہیںتو ایسا نہیں ہوگا یہاں صورتحال یہ ہے یہاں عدالت تو کام کر رہی ہے لیکن ایک ایسی عمارت میں بیٹھ کرکہ جس میں کوئی پیشہ زمیندار

اپنے مال مویشی بھی ہلاکت کے خدشہ کے پیش نظر باندھنے سے کتراتا ہے ۔ عدالت کی عمارت خو د انصاف کی تلاش میں ہے اس وقت وکلاء اور عدالت اور سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے کوئی نوٹس نہیں لے رہا ڈی آر یو عضو معطل بن کر رہ گیا ڈی آر یو حکام راولاکوٹ میں بیٹھ کراپنی ذمہ داریوں سے عہدہ براء ہوجاتے ہیں عبا س پو ر کو ضلع کا حصہ ہی نہیں سمجھتے عدالت سے منسلک جوڈیشل حوالات آثار قدیمہ کا عملی نمونہ پیش کر رہی ہے یہ جوڈیشل حوالات کسی وقت بھی مہندم ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے یہاں قیدی اور کئی ڈیوٹی پر مامور پولیس کے جوان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے ۔کالم نگار کی اصلاح یا مثبت تنقید یارابطہ کے لیے سیل نمبر03455866337یا ای میل حاضر ہے آپ کی مثبت فیڈ بیک کو ویلکم کیا جائے گا منگار میں پرائیویٹ عمارت کے مالک کو معاوضہ کی

عدم ادائیگی اور عمارت کے ساتھ جو معاملہ روا رکھا گیا اُ س کے بعد کوئی بھی عدالت کے لیے اپنی عمارت دینے کے لیے تیار نہ ہے صورتحال انتہائی گھمیبر ہے کہ کسی وقت بھی کوئی حادثہ پیش آسکتا ہے حادثہ کی صورت میں وجوہات جاننے کے لیے کمیشن یا کمیٹی تو تشکیل دی دے جائے گی اور شاہدکسی سیکٹر سے شہداء کی یاد گار کا بھی اعلان ہو جائے گا لیکن حادثہ کا شکار ہونے والے آفیسران جلیس،اہلکاران عدالت،وکلاء اور اہلیان مقدمات کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کریں گے کا ش حکمران عبا س پور کے اس مسئلے کی طرف دیکھیں ڈی آر یو پونچھ اس مسئلے پر غور کر یں شاہد وہ ایک بارپھر وکلاء کی ہڑتال کو مذاق سمجھ رہے ہیں لیکن اب بار ایسوسی ایشن عباس پورکے صدر سردار مشتاق خان ایڈووکیٹ کی قیادت میں طے کر چکے ہیں کہ ہم ٹھوس اقدامات کے علاوہ کسی وعدے پر اعتبار نہیں نہیں کریں گے یا پھر لاشیں اُٹھنے کے انتظار میں ہیں اب کے شاہد تیرے دل میں اُتر جائے میری بات؟؟