کچھ تو ہونے والا ہے ۔۔۔عبدالجبار دریشک

اس وقت عالمی میڈیا پر سعودی شہری جمال خاشقجی کی گمشدگی یا ہلاکت کا معاملہ سرگرم ہے اس معاملے کو امریکا بہت ہی زیادہ سنجیدگی سے لے رہے جمال خاشقجی سعودی عرب کا شہری ہے لیکن وہ امریکا کے روزنامہ واشنگٹن پوسٹ کے لیے کالم لکھتا رہا ہے، جمال خاشقجی دو اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں جانے کے بعد سے لاپتہ ہوا ہے۔ ترک میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق انہیں مبینہ طور پر قتل کیا جا چکا ہے اور ایسے کوئی ثبوت نہیں کہ وہ استنبول میں سعودی قونصلیٹ جنرل سے زندہ باہر نکلے ہوں۔ اب اس موجود صورت حال پر ٹرمپ نے شاہ سلمان سے بات چیت بھی کی ہے۔ جبکہ ٹرمپ نے اس بارے بیان بھی جاری کیا کہ خاشقجی کی گمشدگی یا مبینہ قتل میں سعودی حکومت کا ملوث ہونا ثابت ہو گیا تو امریکا سعودی عرب کے خلاف اقدامات کرے گا۔لیکن دوسری طرف سعودی میڈیا حقائق

کو چھپا رہا ہے العربیہ ٹی وی نے ٹرمپ کی شاہ سلمان کے ساتھ بات چیت کو کچھ اور انداز میں پیش کیا ہے۔ العربیہ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوموار کے روز سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔ دونوں لیڈروں نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور خطے میں ہونے والی تازہ پیش رفت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔صدر ٹرمپ نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے استنبول میں لاپتا ہونے کے واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں سعودی عرب اور ترکی کے درمیان تعاون کو سراہا ہے۔سعودی قیادت نے اس واقعے کے تعلق سے تما م تفصیل کو منظرعام پر لانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔اب یہاں امریکا کھل کر سعودی عرب کے خلاف بیان دے رہا لیکن سعودی میڈیا اور سعودی حکومت دنیا کو یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ سعودی عرب اور امریکا کے تعلقات پہلے کی طرح مضبوط ہیں۔ لیکن موجودہ صورت حال کچھ اور ہی بیان کر رہی ہے کیونکہ آگ لگنے کا دھواں اوپر کو اٹھتا ہے جو سب کو نظر آتا ہے اب آگ یہاں بھی لگ چکی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا گزشتہ دنوں امریکا نے سعودی عرب میں قائم شاہ سلمان کی حکومت کے بارے ایک بیان دیا تھا جس میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ سعودی حکمران امریکی عسکری امداد کے بغیر دو ہفتے بھی اقتدار میں نہیں رہ سکتے، اس لیے سعودی عرب کو امریکا کی جانب سے فراہم کردہ تحفظ کے بدلے میں رقم ادا کرنا چاہیے۔ اسی بیان کے جواب میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب امریکا سے اسلحہ خریدتا ہے مفت نہیں لیتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ماضی میں ہمارے ایجنڈے کے خلاف کام کرتا رہا ہے۔ ہم نے اس وقت بھی اپنے مفادات کا تحفظ کیا۔شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب

1744 سے یعنی خود امریکہ کے قیام سے 30 برس پہلے سے صفحہ ہستی پر موجود ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی تیل کمپنی آرامکو کی قدر 2 ٹریلین ڈالر سے کسی طور کم نہیں۔ ٹرمپ نے ماضی میں بھی صدر بننے سے پہلے سعودی عرب کے خلاف بیان دیتا رہا ہے جب کسی کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ ٹرمپ امریکا کا صدر بنے گا، تب اس نے بیان دیا تھا ہم نے سعودی حکمرانوں کو بادشاہ بنایا ہے امریکا نے سعودی عرب میں انوسمنٹ کی ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ شاہانہ طرز زندگی بسر کر رہے ہیں۔ امریکا کو اب کسی طرح اس بات کا انداز ہو گیا ہے کہ سعودی عرب مزید اس کے ہاتھوں میں نہیں رہنے والا اور نہ ہی اس سے مزید اسلحہ خریدے گا ، جس کی وجہ سے ٹرمپ کوئی بہانا تلاش کر رہا ہے کہ سعودی حکومت کو مزید بلیک میل کر کے ان سے پیسہ نکلوایا جائے۔ ٹرمپ کو اس بات کا بھی غصہ ہوسکتا ہے کہ

سعودی عرب سی پیک میں شامل ہو کر گودرا میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، سعودی عرب کا سی پیک میں شامل ہونے کا امریکا کو جب سے پتہ چلا ہیتب سے ان کی بیان بازیوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ اسے یہاں اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ سعودی عرب ایران کی سرحد کے قریب سرمایہ کاری کر رہے جس کی وجہ سے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات بہتر نہ ہوجائیں۔ دوسرا جمال خاشقجی کا معاملہ بھی ہو سکتا ہے یہ امریکی سی آئی اے کی کوئی کارستانی نہ ہو جیسے برطانوی ایجنٹ سرگئی پر کیمیکل حملے کا بہانا امریکا کے ہاتھ آیا اور اس نے روس کے لیے سفارتی دورازے بند کر دیے۔ امریکا اس معاملے میں اپنے اتحادیوں کو بھی استعمال کر رہا ہے اب اس مسئلے پر امریکا کے علاوہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ کی طرف سے بھی کافی سفارتی دباؤ دیا جارہا ہے۔ ان تینوں یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھی سعودی

حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے کی جلد از جلد وضاحت کو یقینی بنائے۔اس تمام تر صورت حال کے تناظر میں دیکھا جائے تو امریکا کسی نہ کسی طرح سعودی عرب کو بحرانی کیفیت سے دو کرنا چاہتا ہے۔ گزشتہ روز 15 اکتوبر کو سعودی عرب کی کرنسی ریال اپنی قدر میں کمی کے بعد گزشتہ دو سال کے دوران اپنی نچلی ترین سطح پر آ گئی بلکہ اسی بے یقینی کی کیفیت میں سعودی حکومت کے جاری کردہ بین الاقوامی بانڈز کی قیمتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ سعودی عرب اور خلیج کے دیگر ممالک کی مالیاتی منڈیوں میں کاروبار کے دوران پیر کے دن سعودی ریال کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں مزید کم ہو کر 3.7524 ریال فی ڈالر تک گر گئی۔ یہ سعودی کرنسی کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں اتنی کم شرح تبادلہ ہے، جو ستمبر 2016 کے بعد سے اب تک کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔

دوسری جانب سعودی حکومت نے ایک رپورٹ جاری کی ہے کہ عالمی معیشت میں سعودی عرب کو کتنا کنٹرول حاصل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی منڈی 685 ارب ڈالر کی معیشت کے ساتھ گزشتہ برس سب بڑی رہی۔سعودی عرب نے خطّے میں دیگر ممالک کی معیشت کو سہارا دینے کی کوششوں کی بھی قیادت کی ہے۔ علاقائی معیشت میں سعودی عرب کا کردار سادہ سا نہیں ، جبکہ کرنسی کی قدر کم ہونے کے بارے کہا ہے کہ سال 2016 میں سعودی عرب کی معیشت کی نْمو میں کمی آئی جس کا اثرات پورے خطّے پر پڑے۔ ایک طرف سعودی عرب اور امریکا کے تعلقات میں گرما گرمی جاری ہے تو دوسری جانب سعودی عرب نے امریکا کے ساتھ 270 ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کر رکھے ہیں جو کہ ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب کے دوران ہوئے تھے۔ ان میں بڑا حصّہ ہتھیاروں سے متعلق

سمجھوتوں کا ہے۔ جن کی مالیت 110 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ تعلقات میں مزید دراڑ پڑتی ہے تو یہ معاہدے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔دوسری طرف سعودی عرب اور ترکی کے تعلقات جمال خاشقجی کے معاملے پر بہتر ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں صدر رجب طیب ایردوآن اور شاہ سلمان کی ٹیلی فونک بات چیت ہوئی ہے جس میں خاشقجی کے روپوشی کا معمّہ حل کرنے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ سے متعلق سعودی عرب کی تجویز کا ترک صدر نے خیر مقدم کرنے پر کا شکریہ ادا کیا۔ شاہ سلمان نے باور کروایا سعودی مملکت اپنے برادر ملک ترکی کے ساتھ تعلقات کا اتنا ہی زیادہ خواہاں ہے جتنا کہ ترکی ہے اور ان تعلقات کی مضبوطی کو ہر گز کوئی گزند نہیں پہنچائی جا سکتی۔یہ تمام تر صورت حال آنے والی اس عالمی تبدیلی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جس میں دنیا کی طاقت مختلف بلاکوں میں تقیسم ہو جائے گی۔

کوئی ایک ملک سپر پاور نہیں کہلائے گا ، بلکہ یہ طاقت دو سے تین بلاکوں میں تقیسم ہونے جارہی ہے۔ جس کا ایک اشارہ یہ بھی ہے جیسے سعودی عرب امریکا کے اثرات سے آہستہ آہستہ آزاد ہو جائے گا ایسے ہی بھارت کی صورت حال ہے روس سے میزائل خریداری پر چین نے کوئی ردعمل نہیں دیا لیکن امریکا نے ردعمل دیا۔ اب چین اور بھارت کے تعلقات میں دوسری پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ بھارت اور چین نے افغان سفارت کاروں کو تربیت دینے کے لیے ایک مشترکہ تربیتی پروگرام شروع کر رہے ہیں۔ چین اور بھارت کے درمیان اپنی نوعیت کا یہ پہلا تعاون ہے۔ماضی میں افغانستان کے داخلی معاملات کی بات ہو تو بھارت اور چین مختلف نظریہ خیال کے حامی رہے ہیں۔ اس بات سے یہ واضع اشعارہ ملتا ہے چین بھارت کو اپنے بلاک میں شامل کر کے تجارتی فائدے حاصل کرنے کے ساتھ خطے میں پائیدار امن قائم کرنا چاہتا ہے جس میں تمام ممالک کا فائدہ اور یہ صورت حال عالمی سطح پر تبدیلی کے اشارے دے رہی ہے ۔