آئی ایم ایف نے قرضہ دینے کی کڑوی شرطیں ختم کردی، کتنے ارب ڈالر کا سہولتی قرضہ دیا جائے گا، پاکستانیوں کیلئے شاندار خبر

لاہور(نیوز ڈیسک) آئی ایم ایف نے پاکستان کو 12 ارب ڈالر کا سہولتی قرضہ دینے کی پیشکش کردی۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرضہ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم قرضے کیلئے حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ابھی شرائط طے کرنا باقی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف نے حکومت پاکستان کو قرضہ دینے کی پیشکش کردی ہے۔آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو 12 ارب ڈالر کا سہولتی قرضہ دینے کی پیشکش کی گئی ہے۔ تاہم قرضے کے حصول کیلئے حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ابھی شرائط طے کرنا باقی ہیں۔ دوسری جانب معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پچھلی حکومت کے پیش کردہ بجٹ پر نظرثانی تحریک انصاف کی حکومت کا حق تھا، صنعتی

شعبوں کے لیے گیس کے نرخ کم کرنا اور بجلی کی قیمت بڑھانا اورحکومت کا آئی ایم ایف کے پاس جانا درست فیصلہ ہے۔حکومت نے پانچ شعبوں کے لیے گیس کے نرخ کم کیے ہیں اور 44ارب روپے اپنے ذمے لیے ہیں، کیونکہ حکومت مہنگے نرخوں پر گیس درآمد کر رہی ہے۔ نان فائلرز پر پابندی برقرار رکھنا درست فیصلہ ہے، امپورٹ ڈیوٹی میں اضافے سے مقامی صنعتوں کو تحفظ ملے گا، ٹیکس فائلر بننے کا طریقہ آسان بنایا جائے، ٹیکس نیٹ میں نئے افراد شامل کرنا ہوں گے۔ صرف ضروری اشیا ہی درآمد کی جارہی ہیں،آئی ایم ایف کی نگرانی سے معیشت منظم ہوتی ہے،ملک میں 14 لاکھ نہیں، کروڑوں افراد ٹیکس ادا کر رہے ہیں، لیکن وہ ٹیکس ریٹرنز جمع نہیں کرواتے،ایف بی آر میں ڈویلپمنٹ کا ادارہ قائم کیا جانا چاہیے. ماہر معاشیات مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے انتخابات سے قبل کہا تھا کہ وہ حکومت میں آنے کے بعد ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو 8ہزار ارب تک لے جائے گی، اس کے لیے وہ اقدامات کررہی ہے مزید ابھی کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے نان فائلرز پر جائیداد اور گاڑیاں خریدنے پر پابندی عاید کر دی تھی، لیکن موجودہ حکومت نے یہ فیصلہ ابتدا میں واپس لے لیا لیکن پھر پابندی برقرار رکھی ، خیال یہ تھا کہ یہ لوگ تعمیرات و گاڑیوں کی صنعت اور زراعت اس ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان سے روزگار کے ذرائع بھی پیدا ہوتے ہیں‘ اگر یہ شعبے غیر فعال ہو جائیں گے، تو ان سے جڑی صنعتیں بھی متاثر ہوں گی اور بے روزگاری میں اضافے کے ساتھ ساتھ ٹیکس کی شرح مزید کم ہو جائے گی۔