سردار خالد ابراہیم پر دائر توہین عدالت کیس کو ختم کردیا گیا

مظفرآباد(سخاوت خان سدوزئی)پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیرکی عدالت عظمی کی جانب سے دستور ساز اسمبلی کے رکن وجموں کشمیر پیپلز پارٹی کے سربراہ سردار خالد ابراہیم پر دائر توہین عدالت کیس کو ختم کر دیا گیا۔ جمعرات کی صبح دو رکنی بنچ کی سماعت عدالت عظمی کے چیف جسٹس ابراہیم ضیاء اور جسٹس سعید اکرم نے کی۔ خالد ابراہیم خان کے انتقال کی وجہ سے کیس کو نا قابل سماعت قرار دیتے ہوئے ختم کر دیا گیا۔رکن اسمبلی سردار خالد ابراہیم خان نے دستور ساز اسمبلی میں تقریر کے دوران عدالت العالیہ میں تعینات کیے جانیوالے نئے پانج ججوں کی سیاسی بنیادوں پر تقرریوں کا معاملہ اٹھایا تھا۔ اس دوران انھوں نے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں قائم

حکومت اور عدلیہ کو ہدف تنقید بنایا تھا۔جس پرجموں کشمیر کی عدالت عظمی نے سردارخالد ابراہیم خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلبی کی تھی جبکہ سردارخالد ابراہیم خان کاموقف تھاکہ انکی اسمبلی تقریر کو استثنی حاصل ہے لہذا وہ عدالت کے اس غیر آئینی حکم کو نہیں مانتے۔عدالت عظمی نے بعد ازاں ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے اور پولیس انتظامیہ کو پابند کیا تھا کہ آج 8 نومبر تک ہر حال میں سردار خالد ابراہیم کو گرفتار کر کے عدالت کے سامنے پیش کریں۔سردار خالد ابراہیم خان کا کہنا تھا کہ وہ پندرہ ہزار تنخواہ لینے والے پولیس کے سپاہی کا احترام کرتے ہوئے گرفتاری دے دیں گے لیکن غیر آئینی حکم دینے والے ججز کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔ 4 نومبر کی صبح جے کے پی پی سربراہ ورکن اسمبلی سردار خالد ابراہیم برین ہیمرج حملہ کی وجہ سے اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال میں انتقال کرگئے تھے۔پاکستان و جموں کشمیر کے اس حصے سےصدر سردار مسعود خان،کابینہ اراکین ،سیاسی جماعتوں کے قائدین،صحافیوں،وکلاء سمیت ہزاروں افراد نےان کی نماز جنازہ میں شرکت کی تھی۔5نومبر کی شام سردار خالد ابراہیم کو ان کے والد سردار ابراہیم خان جو پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے سابق صدربھی تھے کے مقبرہ کے پہلو میں سپردخاک کردیا گیا۔پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی عدالت عظمی کے شیڈیول کے مطابق آج 8 نومبر کو توہین عدالت کیس کی سماعت کے ہوئی تو اس کیس کورکن اسمبلی کی وفات کے باعث ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے ختم کر دیا۔ دوسری جانب رکن جموں کشمیر اسمبلی وسربراہ جے کے پی پی کے حق میں ان کے آبائی شہر راولاکوٹ میں مقامی شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی سڑکوں پر آکر ان کے حق ریلیاں نکالیں۔سماجی رابطے کی ویب سائیٹس فیس بک

اور ٹویٹر پر اس کیس میں مقامی عدالت عظمی کو بھی ہدف تنقید بنایا گیا۔جس کے مرتکب تین ہزار کے قریب افراد کو مقامی پولیس نے رپورٹ کیا۔جن کے خلاف عدالت عظمی نے تضحیک کرنے پر کارروائی کا حکم دیا تھا۔ سماجی رابطے کی ویب سائیٹس فیس بک اور ٹویٹر پر میرٹ،قانون کی حکمرانی سمیت اصولوں کی سیاست کوشعار بنانے پرمختلف سیاسی وسماجی زعماءکی جانب سے سابق رکن اسمبلی وسربراہ جے کے پی پی سردار خالد ابراہیم مرحوم کی خدمات کو خراج عقیدت بھی پیش کیا جارہا ہے۔ان کی وفات کے موقع پر سوشل میڈیا میں ٹاپ ٹرینڈ رہا۔پاکستان کے ایوان زیریں میں سابق قائد حزب اختلاف خورشید شاہ سمیت متعدد سیاسی جماعتوں نے قائدین اور سماجی رہنمائوں کا سردار خالد ابراہیم کی راولاکوٹ میں رہائش گاہ پر ان کے خاندان کے ساتھ اظہار تعزیت کے لیے آنے کا تانتا بندھا ہوا ہے۔