پاکستان میں بون میرو کا کامیاب ٹرانسپلانٹ ،بون میرو کیا ہے اوریہ مرض کیسے پھیلتا ہے،جانئے

لاہور(اے این این ) نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز اینڈ بون میرو (این آئی بی ڈی) میں 5 ماہ قبل کامیاب بون میرو ٹرانسپلانٹ کے عمل سے گزرنے والا بچہ اب مکمل طور پر صحت یاب ہے۔بچے کا بون میرو ٹرانسپلانٹ آپریشن رواں برس جون میں کیا گیا تھا جب اس کی پیدائش کو صرف 12 دن ہوئے تھے۔واضح رہے کہ اس بچے کا بڑا بھائی بھی گذشتہ برس اسی مرض میں مبتلا ہوکر چند ہفتوں کی عمر میں چل بسا تھا۔این آئی بی ڈی سے منسلک ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق بچے میں پیدائشی طور پر قوت مدافیت بہت

کمتھی اور اس میں اومنز سنڈروم (Omens Syndrome) کی تشخیص ہوئی تھی، اس بیماری میں مبتلا بچے پیدائشی طور پر جسم اور جلد میں دانوں اور دیگر انفیکشنز میں مبتلا ہوتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ بچے کی زندگی بچانے کے لیے اس کی والدہ کا بون میرو بچے میں منتقل کیا گیا۔واضح رہے کہ طبی زبان میں اس مرض کو سرور کمبائنڈ ایمو ڈیفیشنسی ڈس آرڈر (SCID) کہا جاتا ہے، یہ موروثی مرض ہے جو عام طور پر خاندان میں آپس میں شادیوں کے نتیجے میں ماں باپ سے اولاد میں منتقل ہوتا ہے۔