کشمیریوں کو بھی ملنے دو!۔۔۔عمر منہاس

کرتارپور سکھ مذہب کے بانی’گرونانک دیو‘ کی رہائش گاہ اور جائے وفات ہے۔ گرو نانک نے اپنی 70برس اور 4ماہ کی زندگی میں دنیا بھر کا سفر کیا۔ کرتارپور میں انہوں نے اپنی زندگی کے 18برس گزارے جو کسی بھی جگہ ان کے قیام کا سب سے زیادہ عرصہ ہے۔ ’کرتارپور‘ کا نام بھی انہوں نے خود تجویز کیا تھا ۔ ’کرتار‘ کا مطلب ہے ’کرنے والا‘۔۔۔گرو نانک مسلمان نہیں تھے تاہم ان کی تعلیمات مسلمانو ں کے مذہبی عقائد سے خاصی مطابقت رکھتی تھیں۔ مسلمان انہیں ایک بزرگ کی حثیت دیتے تھے کیونکہ وہ معاشرے میں رنگ و نسل یا مذہب کی بنیاد پر تفریق کے قائل نہیں تھے۔گرو نانک کی رب باری تعالیٰ کے بارے میں رائے کچھ یوں تھی ’کہ وہ اکیلا ہے اور ناقابل تقسیم ہے۔ وہ زماں اور مکاں سے ماوراء ہے اور آزاد ایسا کہ ہر شے میں سمایا ہوا ہے‘ ۔ نبی کریم ﷺکی شان میں وہ لکھتے ہیں کہ تمام انبیاء کے نو ر

کا نور محمدی سے ظہور ہوااور نانک خد اکی یہ قدرت دیکھ کر اپنی خودی کو بھول گیا۔ جن لوگوں کے دلوں میں نبی کریم ﷺ کی محبت نہ ہوگی وہ اس دنیا میں بھی بھٹکتے پھریں گے اور اور مرنے کے بعد ان کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔ دنیا کی نجات نبی کریمﷺ کی غلامی سے ہی وابستہ ہے‘ ( سکھ مذہب کی کتاب ’گرنتھ صاحب ‘ میں اس کا ذکر ہے)۔ یہی وجہ ہے کہ سکھ مذہب کے بانی ’گرونانک دیو‘ کا جب 1539ء میں انتقال ہوا تو روایت ہے کہ مقامی مسلمان اور سکھ آبادی میں ان کی آخری رسومات کے حوالے سے تفرقہ پڑ گیا۔ دونوں اپنی مذہبی روایات کے مطابق ان کی آخری رسومات ادا کرنا چاہتے تھے۔۔۔آگے کیا ہوا۔۔۔اس پر مختلف آراء ہیں مگر اس بات پر اتفاق ہے کہ بابا گرونانک کی میت چادر کے نیچے سے غائب ہو گئی اور اس کی جگہ مقامی افراد کو محض پھول پڑے ملے۔ان کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک حصہ مسلمانوں نے اپنی روایات کے مطابق دفنایااور دوسرا پاس ہی سکھوں نے احتراق کیا۔ لگ بھگ اسی مقام پر آج ‘گردوارہ دربار صاحب‘ کرتارپور کی عمارت کھڑی ہے۔ ۔۔یہ مقام سکھ برادری کے لیے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے تاہم دنیا میں بسنے والے تقریباً تین کروڑ سکھوں کی اکثریت گزشتہ 71برس سے اس کی زیارت سے محروم تھے۔وزیر اعظم عمران خان کی حلف برداری کی تقریب میں آرمی چیف کی جانب سے بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ کو کرتارپورہ سرحد کھولنے کے حوالے سے بیان سامنے آیا۔ جس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے بھی کہا کہ بال اب بھارت کے کورٹ میں ہے ۔ دو ماہ کے انتظار کے بعد اب بھارت نے سکھ یاتریوں کے لیے کرتارپورہ بارڈر کھولنے کا عندیہ دے دیا ہے جس سے سکھ برادری میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔مذہبی بنیادوں پر ’گرونانک دیو‘ کے جنم دن پر کرتارپور بارڈر

کھلنا پاک بھارت اچھے تعلقات کا آغازہے جس سے تاریخ ایک نیا رخ اختیار کرے گی اور یقیناً برصغیر کی سیاست پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے تاہم ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان متنازع ریاست جموں و کشمیر میں بھی مذہبی بنیادوں پر عبادت گاہیں کھولی جائیں اور انسانی بنیادوں پر گزشتہ 71برسوں سے منقسم خاندانوں کو بھی ملنے کے مواقع فراہم کئے جائیں۔اس ضمن میں 2003ء میں جنرل (ر) پرویز مشرف نے واجپائی حکومت سے مل کر کشمیریوں کو ملانے اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے چار نکاتی فارمولا پیش کیا تھا جس کا پہلا نقطہ ہی دونوں اطراف کے کشمیری عوام کو آپس میں ملانا تھا۔ اس فارمولے میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ ’بھارتی زیر انتظام کشمیر اور پاکستانی زیر انتظام کشمیرکی سرحدوں(سیز فائر لائن )کو جوں کا توں برقرار رکھا جائے اور دونوں جانب سے لوگوں کو آزادانہ نقل و حمل کی اجازت دی جائے ۔ دونوں جانب کے کشمیریوں کو ایک کارڈ دیا جائے جس پر ان کی مستقل سکونت

ریاست جموں و کشمیر ظاہر کی جائے اور وہ اس کارڈ پر ریاست میں ہر جگہ آسانی سے ادھر اْدھر آ جا سکیں۔اس فارمولے پر عمل درآمد تو نہ ہو سکا لیکن اس کے پہلے نکتے پر جزوی عمل در آمد ضرور ہوا۔ دونوں ممالک نے مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود مظفر آباد تا سری نگر اور راولاکوٹ تا پونچھ بس سروس کا آغاز ہوا(لیکن گلگت بلتستان کو دانستہ طور پر اس عمل میں نظر انداز کیا گیا)۔ اس بس سروس کے ذریعے دونوں اطراف بسنے والے کئی منقسم خاندان دہائیوں کے بعد ایک دوسرے سے ملے ۔۔۔اس پروسیس سے گزرنے کے لیے بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن خون کے رشتے ان کھٹن مراحل سے گزرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ابتدائی طور پراس بس سفر کے ذریعے منقسم کشمیری خاندانوں کوڈیڑھ ماہ تک قیام کی اجازت دی گئی ۔ بعد میں اس عارضی قیام کی مدت کو چھ ماہ کے لیے بڑھا دیا گیا لیکن عام

کشمیریوں کو ایک دوسرے سے ملنے کے لیے کوئی قدم نہ اٹھایا جا سکا۔ ۔۔ مشرف فارمولے کو ہی بنیاد بنا کر کام کیا جائے تو متنازعہ خطے کے کئی زمینی راستوں کو کھولا جا سکتا ہے۔اس ضمن میں بھارتی زیر انتظام کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی بھی ہندوستان کی حکومت سے’ سکردو کرگل شاہراہ‘ کھولنے کا مطالبہ بھی کر چکی ہیں اور اکثر ریاست کو آپس میں ملانے میں دوسرے زمینی راستوں کو کھولنے کی بات بھی کرتی رہی ہیں۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان کا بھی کرگل لداخ اور سری نگر استور روڈ(براستہ وادی گریز، قمری، منی برگ ، برزل )کھولنے کا بیان سامنے آیا ہے۔معروف قوم پرست رہنما سید حیدر شاہ رضوی مرحوم طویل عرصے تک اس مسئلے پر آواز بھی اٹھاتے رہے ۔ اس ضمن میں ان پر مقد مات بھی بنے ۔ اسی طرح بلتستان کے ہیڈ کواٹر سکردو میں2011 ء میں مہاجرین

کرگل نے اس روڈ کو کھولنے کے حق میں مظاہر ہ کیا اور کرگل کی طرف مارچ کا اعلان بھی کیا جس کی حمایت معروف قوم پرست رہنماء منظور حسین پروانہ نے کی جس کی پاداش میں ان پر ریاست مخالف ہونے کا مقدمہ بھی قائم کیا گیا جوآج بھی زیرسماعت ہے۔۔۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں سکھوں ، ہندوئوں اور بدھ مذہب کی کئی عبادت گاہیں موجو دہیں جہاں کشمیری سکھ، پنڈت اور بدھ مذہب کے ماننے والے عبادت کے آنا چاہتے ہیں ۔ اسی طرح یہاں سے بھی لوگ درگاہ حضرت بل ، شاہ ہمدان ، للہ عارفہ، شیخ نورالدین ولی (چرار شریف) کے مزارات پر جانا چاہتے ہیں۔ پاک بھار ت حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اگر مذہبی بنیادوں پر اپنے بارڈرز کھول سکتی ہیں تو وہ انسانی بنیادوں پر منقسم ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو بھی ایک دوسرے سے ملانے کے لیے بھی اقدامات کریںجس سے دونوں طرف بسنے والے کشمیری

کم وقت کے لیے ہی سہی لیکن اپنے پیاروں سے مل تو سکیں گے۔۔۔!اور مجھے امیدبھی ہے کہ آر پار کے کشمیری ایک دن ضرو ملیں گے کیونکہ اس امید کے کئی رنگ ہیں جنہوں نے ظلم و جبر کے اس ماحول میں ہمیں جلا بخشی ہوئی ہے اور انہی رنگوں کی قوس قزح سے امید آزادی تابناک ہے۔