دھیرکوٹ آتشزدگی،فائربریگیڈاور سردار عتیق۔۔۔تحریر: عنصر عباسی

گذشتہ روز دھیرکوٹ میں شدید آتشزدگی پر دل بہت دکھی ہے لیکن اس موقع پر بعض بغض کے ماروں نے تاجروں کی دکانوں کو جلتے راکھ کا ڈھیر بنتے دیکھا تو اپنی سیاسی دکان چمکانا شروع کر دی ان سیاسی بے روزگاروں نے سردار عتیق احمد خان پر تنقید کے نشتر چلائے اور سیاسی آگ لگانے کی جھوٹی کوشش کی آج تاجروں کی ہڑتال کے بعد ڈپٹی کمشنر سے مذاکرات کے بعد یہ چیز واضح ہوگئی کہ دھیرکوٹ ٹائون آذاد کشمیر کا واحد ٹاون ہے جس میں دو سرکاری واٹر ٹینکر موجود ہیں اور یہ دونوں سردار عتیق نے اپنے دور حکومت میں دیئے ان ٹینکرز کے زریعے سردار عتیق کے دور میں مختلف علاقوں میں مفت پانی مہیا کیا جاتا تھا ان ٹینکرز میں ہائی پاور موٹرز سسٹم بھی موجود

تھا ایک لمبا بریک نوک کا پائپ لگا کربوقت ضرورت فائر بریگیڈ کا کام بھی لیا جا سکتا ہے تاہم بعد کی حکومتوں کی نااہلی سے ایک گاڑی مکمل ناکارہ پڑی ہے جبکہ دوسری کی موٹر جہاں پریشر کھو چکی وہاں ایک عدد لمبا پائپ بھی متعلقہ محکمہ معیا نہ کر پایا یہاں عقل اور دماغ رکھنے والوں کے لیے ایک بات واضح کرنا ضروری ہے کہ ایم ایل اے کا ماتحت کوئی محکمہ نہیں ہوتا محکمے حکومت کے ماتحت ہوتے ہیں دھیرکوٹ میں سردار عتیق کے دئے دو عدد ٹینکر جنکی لاگت 80 لاکھ کے لگ بھگ ہے وہ محکمہ پبلک ہیلتھ کے سپرد ہیں اور اس محکمہ کی ایک وزارت ہے اور ایک وزیر کے انڈر یہ محکمہ ہے اب عقل والوں کو معلوم ہو جانا چاہیے کہ سردار عتیق کی حکومت ہے نہ وزارت ان کے ماتحت ہے یہ کام حکومت کا بنتا ہے کہ وہ سرکاری املاک، محکمہ جات کو تباہی سے بچائے گذشتہ عرصہ اسمبلی اجلاس میں میں سردار۔عتیق غربی باغ کے ساتھ حکومتی انتقامی کارروائی پر شدید احتجاج بھی کر چکے ۔مزید اطلاعات کی درستگی اور سیاسی بےروزگاروں کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ آج دھیرکوٹ میں ڈی سی اور تاجروں کے درمیان مذاکرات میں اسی خراب ٹینکر کو جو سردار عتیق نے دیا تھا ٹھیک کروا کر فائر بریگیڈ کے طور پر استعمال میں لانے پر اتفاق ہوا ہے۔کسی بھی تحصیل میں دو ٹینکرز موجود نہیں جو سردار عتیق کے حلقہ میں ہیں لیکن بعد کی حکومتوں کی نااہلی کو سردار عتیق کے کھاتے میں ڈالنے والوں کو کچھ تو حیاء کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور آج کے مذاکرات اور اس بات کے واضح ہو جانے کے بعد کہ یہ حکومت کے انڈر ہیں اور حکومت سردار عتیق کے انڈر نہیں ہے جبکہ دو ٹینکر کسی تحصیل میں نہیں اور یہی ٹینکر بوقت ضرورت فائر بریگیڈ کا کام کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیںاور انہی میںسے ایک کو ٹھیک کرنے پر مذاکرات کامیاب ہوئے یوں سردار عتیق کو عالمی لیڈر تسلیم کرنے والوں کو اب یہ حقیقت بھی تسلیم کر لینی چاہیے۔