یاسر شاہ 82سال پرانا ریکارڈ رتوڑنے کے قریب، ڈبل سنچری کیلئے صرف کتنی وکٹیں درکارہیں

لاہور (نیوز ڈیسک)قومی ٹیم کے لیگ سپنر یاسر شاہ ٹیسٹ وکٹوں کی تیز ترین ڈبل سنچری کے عالمی ریکارڈ سے محض دو وکٹیں دور رہ گئے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین تین ٹیسٹ میچز کی سیریز 1-1سے برابر ہوگئی ہے اور پاکستان کے پچھلے کئی میچز سے ٹاپ سپنر یاسر شاہ کی پرانی فارم ایک بار پھر بحال ہوگئی ہے۔2سالہ یاسر شاہ نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں اب تک تین وکٹیں اپنے نام کرچکے ہیں اور اپنے 33ویں ٹیسٹ میں اپنی وکٹوں کی تعداد198کرلی ہے اور ان کی وکٹیں حاصل کرنے کی اوسط 27.93 ہے۔یاسر شاہ اب تک 3 مین آف دی میچز جبکہ 4 مین آف دی سیریز کا ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں۔اب پاکستان کے بہترین لیگ

سپنر کو ایک اور ریکارڈ توڑنے کا چیلنج درپیش ہے جس کے لئے ان کے پاس 3 میچز باقی ہیں جس میں یاسر شاہ کو2 وکٹیں درکار ہیں۔ اگر یاسر شاہ اپنے اگلے2 ٹیسٹ میچز میں 5 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ تیز ترین 200 وکٹیں حاصل کرنے کا 82 سال پرانا ریکارڈ توڑ ڈالیں گے۔اس سے پہلے یہ ریکارڈ آسٹریلیا کے کلیری گریمٹ کے پاس ہے جنہوں نے1936ءمیں 36 ٹیسٹ میچز میں 200 وکٹیں حاصل کر کے یہ ریکارڈ قائم کیا تھا۔اگلے 3 ٹیسٹ میچز میں یاسر شاہ نے ایک ٹیسٹ نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلنا ہے جب کہ اس کے بعد تین ٹیسٹ میچز جنوبی افریقہ کے خلاف دسمبر اور جنوری میں کھیلے جائیں گے۔32سالہ یاسر شاہ اگرتیسرے ٹیسٹ میچ میں یہ کارنامہ سر انجام نہیں دے پاتے تو اگلے تین ٹیسٹ میچز میں 200 وکٹیں حاصل کرنے کی صورت میں بھی وہ یہ 82 سال پرانا ریکارڈ برابر کر دیں گے۔یاد رہے کہ اب تک پہلے نمبر پر آسٹریلیا کے کلیری گریمٹ جب کہ دوسرے نمبر پر بھارت کے آف سپنر روی چندرن ایشون ہیں جنہوں نے 37 میچز میں 200 وکٹیں مکمل کی تھیں۔لیجنڈری قومی فاسٹ باؤلر وقار یونس نے38میچز میں 200شکار مکمل کیے تھے۔