کیا اسد عمر کو عہدے سے ہٹادیا گیا ہے، کس وفاقی وزیر نے منسٹر انکلیو سے اپنا سامان شفٹ کرنا شروع کردیا، تہلکہ خیز انکشافات

لاہور(نیوز ڈیسک)معروف صحافی چوہدری غلام حسین کا کہنا ہے کہ ایک وفاقی وزیر جن کی جانب سے متنازعہ آراء آنے کا سلسلہ جاری ہے۔وہ وفاقی وزیر افواہوں کی زد میں ہیں اور ان کے بارے میں متضاد افواہیں سامنے آ رہی ہیں کہ وہ اپنے عہدے کی منسابت سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کو ان سے جتنی امیدیں تھیں وہ ان کو پورا کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔اور اب ان کے بارے میں مصدقہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ انہوں نے اپنا سامان منسٹرانکلیو سے شفٹ کرنا شروع کردیا، اور 15 جنوری کو وہ سرکاری گھر چھوڑ دیں گے۔خیال رہے اس قبل میڈیا پر یہ خبریں گردش کرتی رہی تھیں کہ وزیر خزانہ ا سد عمر کو مایوس کن کاگردگی پر عہدے سے

ہٹائے جانے کا امکان ہے۔جب کہ حکومت نے اس حوالے نئے ناموں پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔وزیر خزانہ کے لیے نئے ناموں میں شمشاد اختر کا نام سر فہرست ہے جب کہ اس کے علاوہ بھی دو ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔ شمشاد اختر نگران وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک بھی رہ چکی ہیں۔دو روز قبل صحافیوں کو دئیے گئے انٹرویو میں وزیراعظمعمران خان نے اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ آنے والے دنوں میں کابینہ میں بڑی تبدیلی کی جا سکتی ہے اور ناقص کارگردگی دکھانے والے وزراء کو فارغ کیا جا سکتا ہے۔تحریک انصاف کی حکومت کے بعد ڈالر بہت مہنگا ہو گیا جس کے بعد اسد عمر کی کارگردگی پر سوال اٹھنے لگ گیا۔ تاہم اسد عمر کے بارے میں عمران خان پہلے ہی کہتے تھے کہ میری حکومت میں اسد عمر وزیر خزانہ ہوں گے۔اس کے بعد دو روز سے اسد عمر کے استعفی کی خبریں بھی گرد کرتی رہیں۔تاہم وزیراعظم ہاؤس نے ایسی تمام خبروں کی تردید کی تھی اور اب اسد عمر نے بھی اپنا قلمدان واپس لیے جانے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا تھا اور کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے،ایسی خبریں پراپیگینڈا کا حصہ ہیں۔