’’ہاں ہم اعتراف کرتے ہیں کہ ہمیں افغان جنگ میں ناکامی ہوئی‘‘امریکہ نے اپنے ناکامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اہم اعلان کردیا

واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکہ نے افغان جنگ میں ناکامی کا برملا اعتراف کرلیا، امریکی جنرل نے کہا ہے کہ افغانستان سے اچانک انخلاءیا حکمت عملی میں تبدیلی نقصان دہ ہوگی. امریکی سینیٹ میں آرمڈ فورسز کمیٹی کے روبرو بیان دیتے ہوئے امریکی جنرل میکنزی نے کہا کہ افغان جنگ میں پیشرفت نہیں ہورہی، بڑی تعداد میں افغان فوجیوں کی اموات ناقابل برداشت ہیں، افغانستان سے اچانک انخلاء یا حکمت عملی میں تبدیلی نقصان دہ ہوگی.جنرل میکنزی نے کہا کہ نہیں معلوم کہ افغان فوج کو صلاحیت حاصل کرنے میں مزید کتنا وقت لگے گا، ابھی افغانستان چھوڑا تو افغان فوج کامیابی سے اپنا دفاع نہیں کرسکے گی.طالبان سے مذاکرات سے متعلق جنرل میکنزی نے کہا کہ افغان طالبان

بھی جمود کا شکار ہیں‘ زلمے خلیل زاد کی امن مذاکرات کی کوشش امریکا کے لیے نیا موقع ہے. واضح رہے کہ گزشتہ روز پینٹاگون میں امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ 40 سال افغان جنگ کے لیے بہت زیادہ ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ افغان امن کے سلسلے میں اقوام متحدہ، بھارتی اور افغان وزیراعظم سے تعاون کیا جائے.دوسری جانب بھارت کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے جیمز میٹس کا کہنا ہے امریکا چاہتا ہے کہ ہر ذمہ دار قوم برصغیر اور افغانستان میں امن کی کوششوں کی حمایت کرے. ان کی جانب سے بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کو افغانستان میں امن عمل میں اپنے خصوصی سفیر زلمے خلیل زاد مکمل حمایت کی درخواست کی تھی.چناچہ جب جیمز میٹس سے امریکی صدر کے لکھے گئے خط کے حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم برصغیر اور افغانستان میں جاری جنگ کے لیے تمام ذمہ دار اقوام کی حمایت کے متلاشی ہیں. انہوں نے 1979 میں سوویت یونین کے چڑھائی کے بعد افغانستان میں شروع ہونے والی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کو 40 برس ہورہے ہیں، 40 برس بہت بڑا عرصہ ہوتا ہے.ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت ہے کہ ہر کوئی ایک میز پر آئے اور اقوامِ متحدہ کی حمایت کرے، بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی حمایت کرے، افغان صدر اشرف غنی کی حمایت کرے اور ان سب کی حمایت کرے جو قیامِ امن کی کوششوں میں مصروف ہیں اور دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے کی خواہشمند ہیں. ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا اب امریکی وزارت دفاع کو پاکستان کی امن مذاکرات میں مدد کے ارادوں پر زیادہ بھروسہ ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم اس پر کام کررہے ہیں اور یہ

سفارتی سطح پر ہورہا ہے، ہم افغان عوام کے تحفظ کے لے اپنی بہترین کوششیں کریں گے.جیمز میٹس کا کہنا تھا کہ افغانستان کے حوالے سے نئی امریکی پالیسی کے اہم نکات وہی ہیں جو ہیلری کلنٹن نے بطور سیکرٹری اسٹیٹ بیان کیے تھے. خیال رہے کہ کلنٹن نے طالبان کے سامنے 3 شرائط پیش کی تھیں جس میں القاعدہ کے ساتھ روابط ختم کرنا، افغان عوام کا قتلِ عام روکنا اور آئینی دائرہ کار میں رہنا شامل تھا. جیمز میٹس کا کہنا تھا کہ یہ وہ 3 ابتدائی نکات تھے جن پر ہمیں جنگ کے خاتمے کے لیے مشاورت کرنی تھی. امریکی سیکرٹری دفاع کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ اقوامِ متحدہ اور خطے کے دیگر ممالک کی حمایت کے ساتھ جنگ کا خاتمہ کیا جائے۔