میڈیا کے سامنے کیا بولنا ہے اور کیا نہیں، وزیراعظم کیلئے اسپیشل اسسٹنٹ لانے کا فیصلہ، جانتےہیں وہ معروف شخصیت کون ہے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معروف صحافی خوشنودعلی خان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے لیے میڈیا کا اسپیشل اسسٹنٹ لانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں اور یہ شخص ٹی وی کے حوالے سے جانی مانی شخصیت ہے جسے عمران خان کا میڈیا کا اسپیشل اسسٹنٹ لگایا جائے گا تاہم اس حوالے سے تھوڑا انتظار کیا جا رہا ہے کیونکہ اس شخص کی دہری شخصیت ہے،اور یہ مخلتف عہدوں پر پہلے بھی کام کر چکے ہیں۔ابھی مذکورہ شخص کو اسپیشل اسسٹنٹ لانے کا عمل روک دیا گیا ہے۔اس کا فیصلہ زلفی بخاری کے کیس کے بعد کیا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ زلفی بخاری کے کیس کا فیصلہ کیا ہوتا ہے۔جب کہ دوسری جانب نااہلی کیس میں زلفی بخاری نے جواب جمع کروا دیا ہے۔ہائیکورٹ کے

ڈویڑن بنچ نے زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست کی سماعت کی ،وکیل زلفی بخاری نے کہا کہ زلفی بخاری کو نیب نے شوکاز نوٹس جاری کیا۔جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وہ خط کہاں ہے جس میں زلفی بخاری کا نام ای سی میں ڈالا ،حکومت نے خط پر کیا ایکشن لیا وزارت داخلہ حکام نے بتایا کہ کابینہ ڈویڑن نے زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں ڈالا تھا،عدالت نے کہا کہ ابھی کورٹ کیا کرے کابینہ ڈویڑن کے فیصلے کا انتظارکریں ۔ دوسری جانب زلفی بخاری نےنااہلی کیس میں سپریم کورٹ میں جواب جمع کرواتے ہوئے استدعا کی ہے کہ نااہلی کی درخواست خارج کی جائے۔انکا کہنا تھا کہ اوورسیزپاکستانیوں کےمسائل حل کرنےمیں وزیراعظم کی معاونت کرتا ہوں۔عالمی اداروں سےمعاونت لی جا سکتی ہےتودہری شہریت والے سے کیوں نہیں۔سمندرپارپاکستانیوں کوووٹ کا حق عدالت نے دیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم کومعاون خصوصی تعینات کرنےکا مکمل حق ہے۔میں رکن پارلیمنٹ نہیں ہوں اس لئیے آرٹیکل62 اور63 کااطلاق صرف ارکان پارلیمنٹ پرہوتاہے۔برطانیہ میں پیدا ہوا بعد میں شہریت حاصل نہیں کی۔