آصف زرداری کو گرفتار کرنا مشکل نہیں ناممکن ہوگیا، جعلی اکائونٹس اور منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر کیلئے بڑی خبر

لاہور (نیوز ڈیسک) ایف آئی اے ابھی تک سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف کوئی ثبوت ڈھونڈنے میں ناکام رہی ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ڈی جی ایف آئی کا سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف ثبوتوں کا دعویٰ کھوکھلا ثابت ہو رہا ہے۔سابق صدر کے خلاف اب تک ایف آئی اے کوئی ثبوت حاصل نہیں کر سکی۔میڈیا رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ آصف زرداری کے خلاف جعلی بینک اکاؤنٹس کے الزامات تھے لیکن ابھی تک جے آئی ٹی آصف زرداری کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت لانے میں ناکام رہی ہے۔ایف آئی اے سابق صدر کے خلاف منی لانڈرنگ اور مشکوک ٹرانزیکشن ثابت نہیں کر سکی۔خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے بینک ریکارڈ میں بھی رد و بدل کیا جا

سکتا ہے۔جب کہ دوسری طرف میڈیا اور سوشل میڈیا پر افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف زرداری کو گرفتار کر لیے جانے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔اس بات کی تصدیق معروف صحافی اور تجزیہ کار خاور گھمن کی جانب سے بھی کی گئی۔ان کا مزید کہنا ہے کہ کہ ٹھوس خبریں آ رہی ہیں کہ سابق صدر اور پیپلز پارٹیکے شریک چئیرمین آصف علی زرداری جلد گرفتار ہونے جا رہے ہیں۔ خاور گھمن کہتے ہیں کہ آصف زرداری کے گرد جعلی اکاونٹس کیس کے سلسلے میں گھیرا تنگ ہو چکا ہے، اسی لیے کسی بھی وقت ان کی گرفتاری کا امکان ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ آصف زرداری کیخلاف جعلی اکاونٹس کا کیس مزید سے مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔آصف زرداری کیخلاف اب تک کئی ٹھوس شواہد حاصل کیے جا چکے ہیں۔ دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری بھی اپنے ہی والد کا دفاع کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔ جعلی اکاونٹس کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی جے آئی ٹی کے سامنے بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ان کے نام پر جو بھی اکاونٹس یا کمپنیاں ہیں، ان کا سوال ان کے والد آصف زرداری سے پوچھا جائے۔ وہ بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہے تھے، اس لیے انہیں کچھ نہیں معلوم۔ خاور گھمن مزید کہتے ہیں کہ دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف بھی ممکنہ طور پر جلد دوبارہ جیل واپس جانے والے ہیں۔