بھارتی خاتون کا کامیاب آپریشن کرنیوالے پاکستانی ڈاکٹرکے سوشل میڈیا پر چرچے، کتنے ممالک کے مریضوں کے کامیاب آپریشن کیے، جانئے

لاہور(نیوز ڈیسک) ایک بھارتی خاتون کا لاہور کے نجی ہسپتال میں موٹاپے کا کامیاب آپریشن کیا گیا۔37سالہ بھارتی خاتون مولی ساسن کا وزن 140 کلو ہے، جنہوں نے اپنا موٹاپا کم کرنے کیلئے بھارت میں آپریشن کروایا جو ناکام رہا۔ بعدازاں مولی کے کچھ پاکستانی دوستوں نے انہیں لاہور آکر ڈاکٹر معاذ حسن سے آپریشن کروانے کا مشورہ دیا، جس کے بعد وہ بھارت سے اپنا آپریشن کروانے کے لیے لاہور پہنچیں۔صوبائی دارالحکومت لاہور کے نجی ہسپتال کے ڈاکٹر معاذ حسن نے گزشتہ روز بھارتی خاتون کا کامیاب آپریشن کیا۔تاہم بھارتی خاتون کا کامیاب آپریشن کرنے والے ڈاکٹر معاذ راتوں رات سوشل میڈیا سٹار بن گئے ہیں۔لاہور میں مقیم ڈاکٹر معاذ الحسن گذشتہ 20سال سے کام کر

رہے ہیں۔جنھوں نے وہ لیپروسکوپی سرجری،ہیپیٹوبیلیری سرجری اور باراٹیرک سرجری میں سپیشلائزیشن کر رکھی ہے۔مولی ساسن کا بین الاقوامی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ میں 6 سال قبل اپنے ہونے والے ناکام آپریشن کی وجہ سے بہت پریشان تھی۔اپنے ایک دوست کے مشورے پر پاکستان علاج کروانے کے لیے آئی اور میری سرجری کامیاب رہی،دوسری سرجری سے قبل بھارتی خاتون کا وزن 140 کلو تھا جو کہ کم ہو کر 128ہو گیا۔اور اب مولی ساسن کا دوبارہ آپریشن کرکے معدہ چھوٹا کیا گیا ہے اور 6 ماہ کے دوران ان کا وزن 60کلو کم ہو جائے گا۔پاکستانی ڈاکٹر کی طرف سے بھارتی خاتون کے کامیاب آپریشن کی خبر دنیا بھر میں پھیل گئی۔پاکستانی لوکل میڈیا نے بھی اس خبر کو بطور ہیڈ لائن نشر کیا۔اور کہا کہ پاکستانی ڈاکٹر نے بھارتی خاتون کی کامیاب سرجری کر کے ملک کا سر فخر سے بلند کر دیا۔اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستانی ڈاکٹر پورے سوشل میڈیا پر چھا گئے اور اس خبر کو ہزاروں لوگوں نے شئیر کیا۔پاکستانی ڈاکٹر ثوبیہ علی حنا کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر معاذ حسن کے غیر ملکی خاتون کا کامیاب آپریشن کر نے پر ہم فخر محسوس کر ہے ہیں جس سے دنیا بھر میں پاکستان کی مثبت تصویر مزید اجاگر ہو گی۔مولی ساسن ساتویں غیر ملکی تھی جس کا ڈاکٹر معاذ کے کلینک پر کامیاب آپریشن کیا گیا۔ڈاکٹر معاذ نے اس سے قبل آسٹریلیا، متحدہ عرب امارات، اردن، یمن اور سری لنکا کے مریضوں کا بھی کامیاب آپریشن کیا۔ڈاکٹر معاذ نے گزشتہ 20 سالوں کے دوران 3،000 آپریشن کیے۔لیکن یہ آپریشن اس لیے بھی خاص تھا کیونکہ پہلی بار کوئی بھارتی پاکستان میں علاج کروانے کی غرض سے آیا جب کہ ہزاروں پاکستانی مریض ہر سال علاج کروانے کے لیے انڈیا اجاتے ہیں۔