ان الباطل کان ذھوقا۔۔۔ ملک شفقت اللہ

اکتوبر کے آخری ہفتے میں مقبوضہ کشمیر کے ضلع کولگام کے لاروو گائوں میں تین مجاہدین کی شہادت کے بعد مظاہرین اور حکومتی فورسز کے درمیان پر تشدد کاروائیوں میں پچیس عام شہری گولیوں اور پیلٹ چھروں کی زد میں آئے۔ جس مکان میں مجاہدین چھپے ہوئے تھے اس کو بھی بارودی مواد سے زمین بوس کر دیا گیا ۔ جیسے ہی مقامی لوگ مکان کی طرف آگ بجھانے کیلئے بھاگے تو مکان کے ملبے میں موجود ایک طاقت ور بم پھٹ گیا ، اس دھماکے میں سات انسانی جانیں قربان ہو گئیں۔ مواصلاتی نظام کو بھی ضلع بھر میں بند کر دیا گیا اور پھر مزید اضلاع میں انٹر نیٹ کی سہولت پر پابندی لگا دی گئی۔ اکتوبر کے مہینے سے اب تک سو کے قریب مجاہدین کے ساتھ ساتھ تیس سے زائد شہری شہید ہوئے ، جن میں ایک چھے ماہ کی حاملہ خاتون بھی شامل ہیں جو ایک نہیں بلکہ دو جانیں تھیں۔ خونی مہینوں کے اس نہ

تھمنے والے سلسلے نے عوام کو آہوں اور سسکیوں میں ماتم کناں چھوڑ دیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وادی کشمیر میں گزشتہ دس مہینوں میں64 1نوجوانوں نے مجاہدین کی صفحوں میں شرکت کی ہے۔ اور یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ سال رواں وادی میں سر گرم مجاہدین کی تعداد چار سو تک پہنچ سکتی ہے۔ حق اور سچ کی فطرت ہے کہ اسے جتنا دبایا جائے یہ اتنی طاقت سے ابھر کر آتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیری اور مجاہدین آزادی کیلئے جد و جہد کر رہے ہیں جنہیں بھارت اور بھارت نواز اقوام متحدہ دہشتگرد اور عسکریت پسندوں کا نام دیتے ہیں ۔ میری نظر میں یہ انسانیت کے ساتھ بھونڈا مذاق اور انسانی اقدار کی مبینہ توہین ہے ۔ جس طرح سے کشمیر ی اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اس طرح مجاہدین کی صفحوں میں شامل ہو رہے ہیں اور آزادی کیلئے اس انتہائی اقدام کی جانب مائل ہو رہے ہیں ممکن ہے کہ یہ بھارت اور اس کے ہم نوائوں کیلئے باعث تشویش ہو ، لیکن کشمیر کے درد دل اور صاحب بصیرت افراد کو ایک بڑے سوال کی طرف متوجہ ضرور کر رہی ہے۔بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹا ہوا ہے اور اسے کوئی فکر نہیں کوئی مرے یا جئے۔اس کے حربوں اور منصوبوں سے تو یہ واضح ہو چکا ہے کہ کشمیر کی پوری آبادی اس کیلئے دہشت گرد ہے اور یہاں کے باسیوں کو مختلف نام دے کر ختم کرنا ہی اصلی ہدف ہے۔ نہ وہ محاصروں کے پر تنائو آپریشنز اور جھڑپوں کے جنگی جنون کے ذریعے سے ، بلکہ حربے استعمال کر کے ڈرایا دھمکایا جانا بھی شامل ہے تاکہ کشمیریوں کی جانی و مالی حیثیت کو بکھیر دیا جائے۔کشمیر یونیورسٹی سے استاد ڈاکٹر رفیع بٹ کا مئی کے مہینے میں شہید ہونا ، پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہونہار اسکالر کا اکتوبر میں ظلم و جبر کی نذر ہو جانا ، بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔18 اکتوبر کو ہی

کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ ادویہ سازی سے فارغ التحصیل طالب علم شوکت احمد بٹ پلوامہ میں شوٹ آئوٹ کے دوران شہید ہوگئے۔شوکت احمد محض آٹھ دن پہلے مجاہدین کی صف میں شامل ہوئے تھے۔اسی طرح اکتوبر کے آخری ہفتے میں ایک اور نوجوان اسکالر ڈاکٹر سبزار احمد کے اپنے ساتھی سمیت نوگام سرینگر میں گولی کا نشانہ بننے پر پوری وادی غم و اندوہ کی لہر میں ڈوب گئی۔ 24 اکتوبر کو بیج بہاڑا کے علاقے میں چار مزید مجاہدین شہید ہوئے ۔ پچیس اکتوبر کو دو مختلف کاروائیوں کے دوران آرونی بیج بہاڑ اور کریری بارہمولہ میں چھے مجاہدین شہید ہوئے۔نومبر کا مہینہ بھی اس حوالے سے خونیں واقعات دہراتا ہوا آیا ۔ نومبر کے مہینے میں اٹھارہ مجاہدین شہید ہونے کے ساتھ ساتھ حریت راہ نما میر حفیظ اللہ کو مسلح افراد نے دو نومبر کو گھر میں گھس کر شہید کر ڈالا۔اس حملے میں ان کی اہلیہ بھی شدید زخمی

ہوئیں۔ اسی طرح دیگر اعلیٰ تعلیم یافتہ شہداء میں اظہر الدین پی ایچ ڈی عربی، منان وانی پی ایچ ڈی جیولوجی ، جاوید ملک ایم ٹیک ، مسیح اللہ خان ایم ٹیک، نعیم احمد میر بی ٹیک مکمل ، الطاف احمد ایم ٹیک، محمد رفیق بی ٹیک مکمل، طالب افضل شا ہ ایم پیڈ ، رفیق آہانگر بی ٹیک مکمل ، عمر احسن ایم ایس سی فزکس، عاشق حسین ڈار ایم اے انگلش ، محمد یونس ایم اے سوشیالوجی ، آصف نذیر بی ای مکمل ، رئیس احمد ڈار بی ٹیک مکمل ، باسط احمد ڈار بی ای مکمل ، مزمل منظور بی ٹیک مکمل، خورشید ملک بی ٹیک مکمل/ گیٹ، نواز احمد واگے ایم اے اردو، عیسیٰ فاضلی بی ٹیک مکمل، سید اویس بی ٹیک مکمل اور سجاد یوسف ایم اے اسلامیات شامل ہیں۔ جس طرح سے حکومت نواز بندوق بردار اخوانیوں نے ماضی میں چن چن کر مجاہدین کو ختم کرنے کا گھنائونا سلسلہ قائم کیا تھا اسی طرز پر آج بھی حریت راہ نمائوں کو قتل کیا

جا رہا ہے۔سال 2018 کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ظلم و بربریت کی نئی داستانیں رقم کرتے ہوئے 375 کشمیریوں کو شہید کیا۔ جن میں دس کشمیری خواتین اور 35 کمسن بچوں نے بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے آزادی کی تحریک کو جلا بخشی۔ بھارتی فورسز نے مقبوضہ وادی میں سارا سال تقریباََ تین ہزار سرچ آپریشنز کئے، 21 کشمیریوں کو حراست میں لے کر شہید کیا گیا ، 34خواتین بیوہ اور 78 بچے یتیم ہوئے ۔ 600 سے زائد گھروں کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا ، 1300افراد بینائی سے محروم ہوئے، جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکا گیا جبکہ حریت راہ نمائوں کو بھی گرفتار کر کے تو کبھی نظر بند کر کے کشمیریوں کے حوصلے پست کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ دنیا میں کس انسان کو امن ، ترقی اور سکھ جیسی حسین اصطلاحات نہیں چاہئیں ؟بے روزگاری اور سیاسی

انتقام سے کس کو نجات نہیں چاہئیے؟ دنیا میں ایسا کون سا تعلیم یافتہ نوجوان ہے جو اپنے کرئیر کے بارے میں بے فکر ہوگا؟ لیکن جس ماحول میں مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کو دھکیلا جا رہا ہے اس میں انہیں آنکھیں بند کرنے کیلئے مجبور نہیںکیا جا سکتا۔ جب سیاسی و انتظامی معاملات میں بھی ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہوں تو وہ اپنے جذبات کے اظہار کا حق دنیا کے باقی انسانوں کی طرح رکھتے ہیں، جس پر قابو پانا کسی کے بس کی بات نہیں۔اربابِ اختیار کے جملہ رویوں کا اندازہ 21 اکتوبر کے اس سرکاری حکم نامے سے لگایا جا سکتا ہے جس میں گیتا اور رامائن کو کشمیر کے سکولوں کے نظام میں متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ساتھ ساتھ یہ بھی حکم دیا گیا کہ سرکاری کتب خانوں میں اس کیلئے خاطر خواہ انتظامات کئے جائیں۔ اگرچہ بعدا زاں اس حکم نامے کو عوامی دبائو کے پیش نظر واپس

لے لیا گیا۔یہاں کی انتظامی مشینری کے ذہنی سانچے کو سمجھنے کیلئے یہ کافی ہے کہ ان متعصب حکم ناموں کے پس پردہ وہ کون کون سے مقاصد کارفرما ہیں۔حالانکہ امر واقع بالکل واضح ہے کہ وادی کی 96 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور یہاں کے درسی نظام کو چلانے کیلئے جموں خطے کے مقابلے میں الگ سے ایک ڈائریکٹوریٹ قائم ہے ۔عوامی مفاد اور وقت کی ضرورت کا پاس رکھتے ہوئے دنیا بھر میں ایسے خاطر خواہ انتظامات کئے جاتے ہیں جن سے لوگوں کا فائدہ ہو۔ لیکن یہاں جو بھی پالیسی بنائی جاتی ہے، اس کا کسی پیشہ وارانہ اخلاقیات سے بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی تعلق دکھائی نہیں دیتا۔ شاید اسی لئے یہاں جن فلاحی اسکیموں کو بظاہر سرکاری تقریبات میں بڑے مبالغانہ آمیز انداز میں بیان کیا جاتا ہے ، وہ بھی اپنے حقیقی مقصد حاصل کرنے سے پرے ہوتی ہیں۔اسی طرز کا ایک حکم نامہ ضلع بارہمولہ کے پٹواری حضرات کے نام نکالا اور ان سے کہا گیا تھا کے استادوں کی جگہ اب انہیں بورڈ امتحانات میں ڈیوٹیاں انجام دینی ہوں گی۔ یہاں کی انتظامی مشینری کی ذہنیت کو سمجھنے کیلئے یہ ایک واضح مثال ہے۔یہ بات طے ہے کہ بھارتی تسلط ایک باطل ہے اور اس باطل کو مٹ کر رہنا ہے۔کشمیری مجاہدین کی قربانیاں آزادی کا نقارہ ہیں۔