خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لئے سیز فائر لائن کو مکمل طور پر کھول دیا جائے، سردار عتیق احمد خان

راولپنڈی(نیوز ڈیسک)آل جموںو کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیر اعظم آزادکشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لئے سیز فائر لائن کو مکمل طور پر کھول دیا جائے۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوںکے عین مطابق کشمیریوں کو آر پار آنے میں مکمل آزادی ہونی چاہیے۔ کشمیریوں کو حق خودارادیت اقوام متحدہ کی قرار دادوں نے دے رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پر ہندوستان پکی ہٹ دھرمی خطے کو کسی بڑی تباہی سے دوچار کر سکتی ہے ۔عالمی طور پر تسلیم شدہ حق کے لئے کشمیریوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ مسلم کانفرنس کشمیر کی آزادی اور تکمیل پاکستان کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین

خلاف ورزیاں، پیلٹ گنز کا ستعمال، نہتے مسلمانوں پر ہندوستانی فوج کا بلاجواز جبرو تشدد پوری دنیا کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔بارڈرایریاز میں ہندوستانی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ تشویشناک ہے۔ مقبوضہ ریاست میں ہندوستانی فوج کے مظالم عالمی برادری کی توجہ چاہتے ہیں۔انھوںنے ان خیالا ت کا اظہار یوم حق خود ارادیت کے موقع پر جاری اپنے ایک خصوصی پیغام میں کیاسردار عتیق نے کہا کہ کشمیر پر جتنی بھی قراردادیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل یا اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندو پاک نے منظور کی ہیں ان سب میںکشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کو دہرایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ خود بھارتی زعماء جن میں آن جہانی پنڈت جواہر لعل نہرو سر فہرست ہیں کے اقوام متحدہ کے اندر اور باہر واضع بیانات اور وعدے موجود ہیں کہ کشمیریوں کو استصواب رائے کا موقع دیا جائے گا۔ وہ جس کے ساتھ چاہیں شامل ہو سکتے ہیں۔یہا ں تک کے ۲۰۰۸؁ء کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے دنیا کو بتایا کہ بھارت کشمیر سمیت پاکستان کے ساتھ تنازعہ کشمیر کا حل بذریعہ مذاکرات تلاش کرے گا۔مگر کوئی عملی پیش رفت نہ کی۔انھوں نے کہا کہ حق خود ارادیت ایسا حق ہے جس سے کسی قوم کو یا خطے کو محروم نہیں کیا جا سکتا۔ ابھی چند ہی سال ہوئے کہ ایسٹ تیمور کے مسئلے کو حق خود ارادیت کی بنیاد پر ہی اقوام متحدہ نے حل کیا۔کشمیریوں نے تو اس حق کو حاصل کرنے کے لیے کئی لاکھ انسانوں کی قربانیاں پیش کی جن کا اعتراف پوری دنیا کر رہی ہے ۔ آج مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر زندہ ہے اس کی وجہ کشمیریوں کی بے پنا ہ قربانیاں اور سیاسی جدوجہد ہے۔اس قدر لا تعداد انسانی قربانیاں پوری کشمیری قوم کے لیے شناخت بن چکی ہیں۔ بھارت ان خونی راستوں کو

اپنی آٹھ لاکھ کشمیر میں قابض افواج کے ذریعے بند نہیں کر سکتا۔انھوں نے کہاکہ آر پار کے کشمیری کسی ملک یا ریاست کے خلاف نہیں ہیں ۔ اہل کشمیر حق خود ارادیت کے بارے میں ان وعدوں کی تکمیل چاہتے ہیں جو بھارت سمیت اقوام متحدہ نے کشمیریوں سے کر رکھے ہیں۔سب کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وقت گذرنے کے ساتھ تحریک کشمیر مدہم پڑھ جائے گئی یا مسئلہ کشمیر از خود الماری میں بند ہو جائے گا۔ ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ جموں و کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ سے زائد انسانوں کی قسمت سے وابستہ ہے۔جس وقت ہم جموں وکشمیر کے عوام کی بات کرتے ہیں تو ہم یہ بھی واضع کر دیں کہ اس سے ہمارا مطلب جموں و کشمیر کی ریاست کے اندر بسنے والا ہر فرد ہے خواہ وہ کسی

بھی مذہب یا سماجی نظام سے وابستہ ہو۔انھوں نے کہا کہ خو د سرینگر کے ریکارڈ کے اندر جموں و کشمیر کے آخری مہارجہ ہری سنگھ کی اصل پیش کش کی دستاویز موجود ہوگی جو ا نھوں نے ۱۲ اگست ۱۹۴۷؁ء کو آزادانہ طور پر پاکستان کو پیش کی پاکستان نے مہاراجہ کی اس پیش کش کو فوری قبول کرتے ہوئے ۱۵ اگست کو مہارجہ کو قبولیت کا مراسلہ بذریہ ٹیلی گرام ارسال کر دیا۔ یہ معاہدہ سٹینڈ سٹل ایگریمنٹ کہلاتا ہے(Stand still agrement)۔اس ایگریمنٹ کی منظوری کے بعد حکومت پاکستان کو جموں وکشمیر میں وہی اختیار اور حق حاصل ہے جو آزادی ہند سے پہلے ریاست میں انگریز کی حکومت کو حاصل تھا ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر پر ہندوستان کی ہٹ دھرمی خطے کو کسی

بڑی تباہی سے دوچار کر سکتی ہے ۔ہندوستان ہی نہیں بلکہ ساری دنیا یہ بات جان چکی ہے کہ دنیا بھر میں موجود پاکستان مخالف قوتوں کی مشترکہ کاوشوں سے کی جانے والی مسلح دہشت گردی کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ اورخاتمہ کرنے والی بہادر افواج پاکستان کے ساتھ لڑنا ہندوستان کے بس کی بات نہیں۔مقبوضہ کشمیر میں قتل عام اور انسانی حقوق کی پامالی کی روک تھا م عالمی برادری کی اولین ترجیح ہونی چاہیے ۔جموں وکشمیر کے عوام ۵/ جنوری 1949 /سے لے کرعالمی برادری جانب سے حق خود ارادیت کے وعدے کے منتظر ہیں۔ہندوستان کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ پاکستان کے پاس اپنے دفاع کے لیے روایتی ،غیر روائیتی اور جدید ترین ضرب وحرب کی بھرپور صلاحیت

موجود ہے ۔ہندوستان کی عسکری اور حربی صلاحیت کے بڑے حصے کا انحصار ہندوستان سے باہر کے ممالک پر ہے جبکہ پاکستان اپنی تمام عسکری اور دفاعی ضروریات میں بڑی حد تک خود کفالت کے قریب پہنچا ہوا ہے ۔نریندر مودی کی سیاسی،دفاعی اور معاشی ناکامیوں کے بعدہندوستان علاقائی اور عالمی طور پر تنہائی کی زد میں جاتا ہوا دکھائی دیتا ہے جبکہ اس کے برعکس پاکستان کئی قسم کی تنہائی سے نکل کرعلاقائی اور عالمی سطح پر استحکام کی طرف جا رہا ہے ۔مسلم کانفرنس حق خود ارادیت کے حصول اور تحریک آزادی کی تکمیل تک اپنا سفر جاری رکھے گی۔جموں وکشمیر کو جلد یا بدیر آزاد ہو کر آزادی تقسیم ہند کے سفر کی تکمیل کرنی ہے۔