’’امریکہ کا اپنے ملک سے باہر تمام فوجی آپریشن بند کرنے کا فیصلہ‘‘امریکی صدرٹرمپ نے ناقابل یقین فیصلہ سنادیا

واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور اہم فیصلہ کر لیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ سے باہر تمام فوجی آپریشن بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ان تمام ممالک میں آپریشن بند کر دے گا جہاں غلط فیصلوں سے فوج داخل ہوئی۔جن ممالک میں کئی سالوں سے آپریشن جاری ہیں وہاں سے فوج نکال لی جائے گی۔یاد رہے کہ امریکی صدر اور ان کی حکومت کے سینئر عہدیداران نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ ان کا شام سے امریکی فوجی دستے واپس بلانے اور افغانستان میں موجود 14 ہزار فوجی اہلکاروں کی تعداد کم کر کے نصف کردینے کا منصوبہ ہے، واشنگٹن میں موجود مبصرین کا

کہنا تھا کہ افغان جنگ، امریکا میں اتنی غیر مقبول ہوچکی ہے کہ کوئی امریکی سیاستدان افغانستان میں فوجیں رکھنے کی حمایت نہیں کرے گا اور رواں برس جب صدارتی مہم کا آغاز ہوگا تو افغانستان سے فوج کے انخلا کا مطالبہ اور شدت سے سامنے آئے گا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے’ ’اے ایف پی‘‘ کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا نے شام میں دہشت گرد تنظیم داعش کو شکست دے دی ہے۔امریکی فیصلے کے بعد داعشکے خلاف امریکی عسکری تعاون سے لڑنے والے کردش ملیشیا کی قسمت پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر نے ٹوئٹ کیا کہ ’شام میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کا واحد مقصد داعش کے جنگجوؤں کی شکست تھی۔ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ شام میں تقریباً 2 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں جو کردش ملیشیا کو ٹریننگ اینڈ ایڈویز کے فرائض انجام دے رہے تھے تاکہ مقامی ملیشیا داعش کا مقابلہ کرسکیں۔ امریکی حکام کی جانب سے فوجیوں کی واپسی کے لیے اوقات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔پینٹاگون نے محدود تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ ’فوجیوں کا تحفظ یقینی طور پر اولین ترجیح ہے تاہم واپسی کا عمل جلد از جلد ہوگا۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے کہا کہ شام میں داعش کی شکست کے بعد بھی گلوبل کولیشن کا عمل جاری رہیگا۔