بھارتی نیوز اینکر نے ایرانی وزیرخارجہ کو بھڑکانے کی کوشش کی تو جواد ظریف نے پاکستان کا مقدمہ لڑتے ہوئے ایسا جواب دیا کہ بھارتیوں کو منہ کی کھانا پڑی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) بھارت کے دورے پر گئے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے اور پاکستان کے مقدمے کو خوب لڑا۔ بھارتی اینکر کے پاکستان مخالف سوالات پر پاکستان کے موقف کی نہ صرف حمایت کی بلکہ پاکستان کے کردار کومثالی قرار دے دیا۔تفصیلات کے مطابق بھارتی ٹی وی اینکر نے بار بار پاکستان کے خلاف سوال کئے لیکن ایرانی وزیر خارجہ مثبت ردعمل دیتے ہوئے خطے کے امن کیلئے پاکستانی کردار کو سراہتے رہے ۔ بھارتی ٹی وی کے اینکرنے جواد ظریف سے باربار پاکستان کے خلاف سوال کئے اور کوشش کی کہ ایران پاکستان کے حوالے سے بھارتی موقف کی حمایت کرے لیکن اسے ناکامی ہوئی ۔ بھارتی اینکر نے پاکستان میں انتہا پسند گروپس پر بات کرتے ہوئے پھر ایرانی وزیر خارجہ کو بھارتی غیر منطقی موقف پر لانے کی کوشش کی لیکن پھر اسے منہ کی کھانی پڑی۔

جواد ظریف کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان امن عمل میں مثبت کردار ادا کر رہاہے ۔افغانستان میں پاکستان کا کردار بڑھ رہاہے ۔ پاکستان بھی افغانستان میں شدت پسند گروپوں کا غلبہ نہیں چاہتا کیونکہ پاکستان اور افغانستان میں شدت پسندی پاکستان کی بقا کیلئے خطرہ ہے ۔انہوں نے کہا افغانستان میں طالبان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ افغانستان کا مستقبل طالبان کیلئے کسی بھی کردار کے بغیر ناممکن گا۔ لیکن طالبان کا کردار بہت محدود ہونا چاہئے نہ کہ غالب۔ انہوں نے مزید کہاکہ ہم ماضی کے قیدی نہیں بن سکتے ۔ ہم نے 90کی دہائی میں پاکستان سے اختلاف کیا تھا جب وہ طالبان کی حمایت کر رہا تھالیکن ہم ماضی کے اسیر نہیں رہ سکتے ۔ ہمیں بہتر مستقبل کیلئے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے اور ایران پاکستان کے ساتھ ملکر کام کرنے کیلئے تیار ہے ۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان اور ایران کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں ۔