ن لیگ میں بڑی بغاوت ، ایک ساتھ 20رہنمائوں نے کس پارٹی میں شمولیت کیلئے رابطے کرلیے

لاہور (نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور صدر شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد سے ہی مسلم لیگ ن انتشار کا شکار ہوئی اور خیال کیا جا رہا تھا کہ مسلم لیگ ن میں فارورڈ بلاک بھی عنقریب بن جائے گا جس کی سربراہی مبینہ طور پر چودھری نثار علی خان کریں گے۔ مسلم لیگ ن کے فارورڈ بلاک کا تو علم نہیں لیکن اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی سے مسلم لیگ ن کے 20 باغی رہنماؤں کی طویل ملاقاتوں کی اطلاعات ضرور موصول ہو رہی ہیں۔وفاق اور پنجاب میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف گذشتہ کچھ عرصے سے مسلسل دعوے کر رہی تھی کہ مسلم لیگ ن میں فارورڈ بلاک بننے والا ہے، اور جلد ہی پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے

اراکین اسمبلی فارورڈ بلاک بنائیں گے تاہم اب حکومتی دعووں میں سچائی نظر آنے لگی ہے۔2018ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نے پنجاب میں اپنے گڑھ گوجرانوالہ میں کلین سویپ کیا تھا اور چھ قومی اور چودہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر مسلم لیگ ن کے اُمیدوار کامیاب ہوئے تھے۔لیکن وفاق اور پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے لیگی ممبران اسمبلی کی بجائے پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈرز کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ تاہم اب یہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی سے لیگی اراکین کی ملاقاتیں ہوئی ہیں لیکن اس کے برعکس ن لیگی رہنما ان ملاقاتوں کی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔دوسری جانب مسلم لیگ ن میں فارورڈ بلاک بننے کے خدشے کے پیش نظر پارٹی قیادت نے اہم فیصلہ کر لیا ہے اور مریم نواز کو ایک مرتبہ پھر سے سیاسی میدان میں متحرک کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ فارورڈ بلاک بننے سے روکنے کے لیےمریم نواز کو پارٹی معاملات اور سیاسی میدان میں متحرک کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔مسلم لیگ ن نے حمزہ شہباز کے ساتھ مریم نواز کو بھی سیاسی میدان میں فرنٹ پر کھڑا ہونے اور ارکان اسمبلی کو اعتماد میں لینے کا ٹاسک سونپ دیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مریم نواز جارحانہ پالیسی کی بجائے ن لیگی ارکان اسمبلی سے رابطے کر کے متوقع فارورڈ بلاک کا راستہ روکنے کی کوشش کریں گی۔