تبدیلی کے نام پر قومی سانحہ کی بازگشت۔۔۔ غلام مرتضیٰ باجوہ

اخلاقی بگاڑ کا سب سے بنیادی سبب دنیا پرستی کی وہ لہر ہے جس میں لوگ وقتی مفاد کے آگے ہر چیز کو ہیچ سمجھتے ہیں۔دنیا جتنی حسین آج ہے اتنی کبھی نہیں تھی۔ خصوصاً جن سہولتوں تک ایک عام آدمی کی پہنچ آج ممکن ہے، وہ پہلے کبھی ممکن نہ تھی۔تاہم یہ دنیا بلا قیمت دستیاب نہیں۔ اس کے حصول کے لیے مال چاہیے۔چنانچہ مال کمانا اور اس سے دنیا حاصل کرنا اب ہر شخص کا نصب العین بن چکاہے، مگر یہ مال آسانی سے نہیں ملتا۔ خاص طور پر اس شخص کو جو حلال و حرام، جائز و ناجائز، عدل و ظلم ا ور خیر و شر کو اپنا مسئلہ بنالیتا ہے۔چنانچہ ایک انسان جس کا سب سے بڑا مسئلہ مال و دنیا بن جائے، اپنے مفادات کی خاطر اخلاقی اقدار سے چشم پوشی شروع کردیتا ہے۔ جب

کبھی کوئی اخلاقی قدر حصول زر کے عمل میں رکاوٹ بنتی ہے تو وہ پر کاہ کے برابر بھی اسے اہمیت نہیں دیتا۔ رفتہ رفتہ اس کا اخلاقی وجود کمزور ہوتا چلاجاتاہے اور ایک روزدم گھٹ کر مرجاتا ہے۔بزرگ کہتے ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ انسانوں کے اخلاقی وجود کی موت کے بعد زمین فساد سے بھر جاتی ہے۔ رشوت و بدعنوانی کا باعث یہی ہے۔ظلم و ناانصافی اسی کی پیداوار ہے۔ خیانت و بددیانتی یہیں سے پھوٹتی ہے۔ ملاوٹ و جعل سازی اسی طرح جنم لیتی ہے۔جھوٹ اور دروغ گوئی اسی کا نتیجہ ہے۔غرض دنیا پرستی اخلاقی زندگی کی عمارت کے ہر ستون کو دیمک کی طرح کھاجاتی ہے۔خاص طور پر نوجوان جو کسی بھی قوم کی امیدوں کا مرکز ہوتے ہیں اور بلند مقاصد کے لیے قربانی دینے میں سب سے آگے ہوتے ہیں، جب ان کی منزل صرف مادی منفعتوں کا حصول بن جائے تو اس سے بڑا سانحہ کوئی نہیں ہوسکتا۔ بدقسمتی سے ہمارے ساتھ یہ سانحہ بھی ہورہا ہے۔آج کس کے گھر لوٹے جا رہے ہیں؟ کس کے وسائل پر قبضے ہو رہے ہیں؟ آج دنیا میںچار سُو کس کی نسل کشی کی جا رہی ہے؟ آج ہر سو جلی نعشیں، بکھرے لاشے، کٹے اعضاء، بین کرتی مائیں، سسکتی بہنیں، اجڑے سہاگ، بلکتے بے سہارا بچے کس ملت سے وابستہ ہیں؟ آج دنیا میں کونسی قوم ظلم و جبر کی چکی میں پس رہی ہے؟ کیا کبھی کسی نے یہ سوچا؟ کیا یہ سب کچھ دیکھ کے کبھی کسی کا خون کھولا؟ کب بیدار ہو گی یہ سوئی بے جان ملت؟ کب کھولیں گی اس مردہ بے ضمیر امت کی آنکھیں؟ اگر کسی بہت گہری نیند سوئے آدمی کو زخمی کریں یا کوئی کیڑامکوڑا بھی ڈس لے تو وہ فوراً بیدار ہو کر ہوشیار ہو جاتا ہے۔اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ اشرافیہ، مقتدر طبقات اور بیرونی طاقتیں کیا کررہی ہیں اور ان کے منفی طرز عمل سے نمٹنے کا درست طریقہ کیا ہے،

جب یہ روش اختیار کی گئی تو عوام کی تربیت یہ ہوئی کہ ہر خرابی کی جڑ صرف دوسروں میں ہے۔اصلاح کا واحد طریقہ یہ ہے کہ دوسرے ٹھیک ہوجائیں۔جب ایسا ہوگا توسب ٹھیک ہوجائے گا۔ اس سوچ کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ اپنی ذمہ داریاں فراموش کرنے لگے۔ ان کی توجہ اپنے دائرے میں عائد شدہ ذمہ داریوں سے زیادہ دوسروں کے اس دائرے پر ہوگئی جس پران کا کچھ اختیار نہیں۔ ایک عام آدمی نہ ملک کے مقتدر طبقات کی اصلاح کرسکتا ہے اور نہ بیرونی طاقتوں کے خلاف لڑکر حالات بدل سکتا ہے۔بے بسی کے اس احساس کے تحت اس کے ذہن میں مایوسی کاپیدا ہونا لازمی تھا۔یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ مایوس آدمی ہمیشہ منفی طرز عمل اختیار کرتا ہے۔سسٹم کی وہ خرابی

جو پہلے بالادست طبقات تک محدود تھی اب گھر گھر پھیل گئی۔اگربات کی جائے تحریک انصاف کی جس کا منشور ’’نیا پاکستان ‘‘ ہے اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے کئی اہم احسن اقدامات قابل تعریف ہیں ۔ دوسری جانب پاکستان میں برسراقتدار چندلوگوں کے بداخلاق رویوں سے تبدیلی کے نام پر بڑا قومی سانحہ رونما ہوسکتا ہے،وزیراطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کی صحافی برداری مسلسل تلخ کلامی ، پاکپتن میں تعینات خاتون ڈی پی او ماریہ محمود کی کھلی کچہری میںشہری سے نارواسلوک جیسے واقعات تحریک انصاف کی حکومت اور پنجاب پولیس کے لئے اچھا شگون نہیں ہیں۔ کہاجاتاہے اپنے دائرہ اختیار تجاویز کرنے والے سب اتنے ہی بڑے ظالم ثابت ہوتے ہیں۔اس ظلم کے خلاف اپنے اندر سے جوآواز اٹھتی ہے، اسے دبانے کے لیے وہ اسی منفی سوچ کا سہارا لیتے ہیں۔جیسے سلوک ڈی پی او پاکپتن نے بزرگ شہری کیا۔ البتہ پاکستان میں تبدیلی یہ آئی ہے کہ چند بد اخلاق وفاقی ،صوبائی وزراء سے کو بڑاقومی سانحہ رونما ہوسکتا ہے جس میں وزیر اعظم عمران خان اپنے منصب سے ہاتھ دوبیٹھے گے ۔