میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گا۔۔۔ تحریر: عمر منہاس

پاکستان دنیابھر میں موبائل فون کے صارفین کے اعداد وشمار کے اعتبار سے نواں سب سے بڑا ملک ہے ۔ دیکھا جائے تو پاکستان میں ہر 100میں سے 80افراد کے پاس موبائل فون موجود ہے۔ پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2018ء تک ملک بھر میں( بشمول آزاد کشمیر و گلگت بلتستان)موبائل فون استعمال کرنے والے 151ملین صارفین موجود تھے۔ ان صارفین کی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے۔ان صارفین کو ملک کی چار بڑی کمپنیاں سروسز فراہم کرتی ہیں جن میں ٹیلی نار، موبی لنک /وارد، یوفون اور زونگ شامل ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے گزشتہ سال جون میں ایک از خود نوٹس کی سماعت کے دوران موبائل فون کے استعمال پر لگائے گئے ٹیکسوں کے بارے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور موبائل فون کمپنیوں سے جواب مانگا۔ جس کے بعد

انہوں نے تا حکم ثانی تمام پری پیڈ صارفین سے ہر طر ح کا ٹیکس ختم کرتے ہوئے سور وپے کے کارڈ پر سو روپے ریچارج کر نے کا حکم دیا ۔ابتدائی کچھ دنو ں میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے موبائل صارفین کو بھی سوروپے کے کارڈ پر سو روپے ملے لیکن اس کے بعد موبائل فون کمپنیوں نے آہستہ آہستہ آزاد کشمیر حکومت کی ملی بھگت سے آزاد کشمیر کے صارفین سے موبائل ریچارج پر یہ موقف دیتے ہوئے کہ آزاد کشمیرکی اپنی حکومت اور قانون ساز اسمبلی ہے ۔ اس رو سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کا اطلاق آزادکشمیر پر نہیں ہوتا پھر ٹیکس کٹوتی شروع کردی۔ موبائل فون کمپنیوں کی طرف سے آزاد کشمیر کے شناختی کارڈ پر جاری ہونے والی سموں کے صارفین کو بذریعہ ایس ایم ایس اطلاع دی گئی کہ حکومت آزاد کشمیر نے موبائل ریچارج پر 12.5فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کر دیا ہے ۔ ا ب ہر ریچارج پر یہ ٹیکس کٹوتی کی جائے گی مزید یہ کہ دو جولائی کے بعد 10فیصد سروس چارجز بھی چارج ہو ں گے۔ یعنی آزاد کشمیر کے عوام اب موبائل ریچارج پر 22.5فیصد ٹیکس کٹوتی ہو گی۔اس ضمن میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے صارفین کی طرف سے سوشل میڈیا پر صدائے احتجاج بھی بلند ہوئی،ا ٓن لائن پٹیشنز بھی درج ہوئیں، پی ٹی اے کو تفصیلی اور تحریری طو ر پر موبائل فون کمپنیوں کی طرف سے اس جبری ٹیکس کی وصولی کی نشاندہی بھی کی گئی کہ تیرھویں آئینی ترمیم کے بعد موبائل فون کمپنیاں شیڈول تھری کے حصہ اول میں شامل ہونے کی وجہ سے آزاد کشمیرحکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں ہیں بلکہ انٹری نمبر 6 کے تحت حکومت پاکستان کا سبجیکٹ ہیںلیکن مناسب پذیرائی نہ ہونے اور گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ یہ معاملہ ٹھنڈا ہو گیا۔اس کے بعد 19نومبر2018ء کو آزاد جموں و کشمیر

عدالت عالیہ ہائی کورٹ میںآزاد کشمیر میں موبائل کمپنیوں کی طرف سے ناجائز ٹیکسزکی وصولی کے خلاف ایک رٹ پٹیشن عنوانی شیخ عادل مسعود بنام ٹیلی نار پاکستان لمیٹڈ وغیرہ دائر کی گئی جس میں تقریباً 17متعلقین کو فریق بناتے ہوئے یہ مئوقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک ازخود نوٹس کی سماعت کے بعد موبائل کارڈز پر ٹیکس کٹوتی کو معطل کیا ہوا ہے لیکن آزاد کشمیر بھرمیں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیاں صارفین سے ابھی تک ٹیکس اور سروس چارجزوصول کر رہی ہیںلہٰذا سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں موبائل کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ شہریوں سے سروس چارجز سمیت دیگر ٹیکس وصول نہ کریںکیونکہ آزاد کشمیر پاکستان کے ہی زیر انتظام علاقہ ہے۔ پٹیشنر کے اس موقف کو عدالت عالیہ نے درست قرار دیتے ہوئے اورٹیکسز کے

خلاف رٹ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے ریسپانڈنٹس کو ودہولڈنگ ٹیکس،سیلز ٹیکس اور سروس چارجز کی کٹوتی سے تاحکم ثانی روکتے ہوئے سو روپے کے کارڈ پر سو روپے ہی ریچارج کرنے کا حکم دیا۔ معزز عدالت کے اس فیصلے سے شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے اس فیصلے کو حق و سچ کی فتح قرار دیا۔ تاہم اس فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوا جس کے پٹیشنر عادل مسعود شیخ ایڈوکیٹ نے دوبارہ عدالت عالیہ سے رجوع کیا جبکہ ساجد حسین عباسی ایڈوکیٹ کی جانب سے بھی توہین عدالت کی درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا گیاکہ موبائل کمپنیز عدالتی حکم پر عمل در آمد سے گریز پا ہیں جس پر توہین عدالت کے نوٹس جاری ہوئے سات دن کے اندر وضاحت طلب کی گئی اور حکم دیا گیا کہ سوروپے کے کارڈ پر سو روپے ہی ریچارج کیے جائیں۔یاد رہے کہ عادل مسعود شیخ

ایڈوکیٹ جموں وکشمیر پبلک رائٹس پارٹی کے جنرل سیکریٹری ہیں ۔ عام آدمی کے لئے عادل مسعود شیخ ایڈوکیٹ اور انکی پارٹی نے اپنے تمام تر دستیاب وسائل کے ساتھ بھرپور جدو جہد کی۔عنقریب وہ بجلی بلوں میں نیلم جہلم سرچارج اور میٹر رینٹ وصولی کے خلاف بھی ایک رٹ دائر کرنے والے ہیں ۔زندگی تو ہر انسان جیتا ہے مگر کچھ لوگ اپنی زندگی سے عظیم ، عمدہ اور بڑے لوگ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ تاریخ پڑھنے والے نہیں بلکہ تاریخ رقم کرنے والی عظیم ہستیاں ہوتی ہیں اور عادل مسعود شیخ یقیناً ایک تاریخ رقم کر رہے ہیں تاہم عوام کے لیے خوشی کے یہ لمحات اس وقت عارضی ثابت ہوئے جب موبائل فون کمپنیوں کی طرف سے آزاد کشمیر کے شہریوں سے اضافی ٹیکس وصول کرنے کا عدالتی فیصلہ آزاد حکومت کو ایک آنکھ نہ بھایا اور ایک نئی حکمت عملی کے تحت اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

گیا۔حکومت آزاد کشمیر کا یہ اقدام سمجھ سے بالا تر ہے کیونکہ ایک طرف تواس پار کے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی صدائیں بلند کی جاتی ہیں اوردوسری اپنے ہی لوگوں کو سہولیات کی فراہمی کی بجائے ان کا استحصال کیا جاتا ہے، ان کے خون پسینے کی کمائی کوصرف اشرافیہ کے مفادات کو تحفظ دینے اوراپنی عیاشیوںکے لیے بطور ٹیکس وصول کیا جا تا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ آزاد کشمیر حکومت کے اس اقدام کے خلاف پورے آزد کشمیر میں سے کہیں سے بھی کوئی آواز بلند نہیں ہوئی!ہمیں لوٹا جا رہا ہے اور دھڑلے سے لوٹا جا رہا ہے لیکن ستم یہ ہے کہ ہم میں احتجاج کی بھی سکت نہیں رہی کیونکہ ہمیں ایک عرصے سے لٹنے کی عادت ہے۔آہ!ہم کتنے بے حس ہو چکے ہیںجو حکومت کو ایسے اقدامات کرنے کا جواز فراہم کرتے ہیں؟ اس بے حسی کے دریا میں ڈوبنے والوں پر صرف ماتم ہی کی جاسکتا ہے۔ شایدہماری اسی جبلت کے بارے میںمحسن نقوی نے بہت پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ’’ میرا ماتم اسی چپ چاپ فضاء میں ہوگا۔۔۔میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی‘‘