صحت اور زندگی۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر ضیاءالرحمن

پاکستان میں ہر سال تقریبًا دولاکھ کے قریب لوگ دل کی بیماریوں کی وجہ سے انتقال کر جاتے ہیں ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں تین کروڑ ہچاس لاکھ کے قریب لوگ شوگر جیسے دائمی مرض میں مبتلا ہیں اور تقریبا ایک کروڑ چالیس لاکھ لوگ بلڈ پریشر کے مریض ہیں ۔ پاکستان کینسر انڈیکس کے مطابق صرف 2012 میں کینسر کے ایک لاکھ اڑتالیس ہزار نئے کیسز سامنے آئے ۔ اگر ہم آج سے پچاس سال پیچھے چلے جائیں تو شائد ہی ان بیماریوں کا کوئی وجود ہوا ہو ۔ صنعتی انقلاب کے بعد بڑھتی ہوئی آبادی ماحولیاتی آلودگی سستی اور کاہلی سے بھر پور طرز زندگی انسانیت کو مسائل کی ایک ایسی دلدل کی طرف لے گئی جہاں سے واپسی ناممکن نہیں تو کم سے کم مشکل ضرور

دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیکل سائنس اس وقت تاریخ کے سب سے کٹھن دور سے گزر رہی ہے اور شوگر ، بلڈ پریشر ،کینسر اور ہارٹ اٹیک جیسی بیماریاں اس دور کا سب سے بڑا چیلنج تصور کی جاتی ہیں۔ عوامی سطح پر ان بیماریوں کے حوالے سے بیداری مہم اور روزمرہ زندگی میں معمولی تبدیلیاں لا کر ان امراض سے بچا جا سکتا ہے ۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نےچار چیزوں کو کینسر ، شوگر ، ہارٹ اٹیک اور بلڈ پریشر کی مرکزی وجوحات میں شامل کیا ہے ۔ نمبر 01 : کھانے میں چکنائی و چربی کا زیادہ استعمال ۔ نمبر 02 : سگرٹ نوشی ۔نمبر 03: شراب نوشی ۔ نمبر 04 : ورزش کی کمی ۔ ان چار وجوہات میں سے چکنائی کے زیادہ استعمال کو سب سے زیادہ خطرناک قرار دیا گیاہے۔ ڈاکٹرز سائنسدان اور اہل علم آج بھی اس بات پر متفق ہیں کہ اگر ہم ایک معتدل غذا کے ساتھ ورزش کو اپنا معمول بنائیں تو نہ صرف ان بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے بلکے کینسر سمیت ان تمام بیماریوں کا علاج بھی ممکن ہے ۔ آج بھی دنیا میں کچھ جگہیں ایسی ہیں جہاں یہ بیماریاں نہ ہونے کے برابر ہیں اور ایسے علاقوں میں شرح اموات دنیامیں سب سے کم اور سو سال سے زیادہ زندہ رہنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ یہاں پر نہ صرف لوگوں کی عمر زیادہ ہوتی ہے بلکہ لوگ نوے سال کی عمر میں بھی بھر پور زندگی گزارتے ہیں ۔ سائنسدان ایسے علاقوں کو بلیو زون کہتے ہیں۔ ان علاقوں میں اوکیناوا (جاپان) سرڈینیا (اٹلی )گلگت بلتستان (پاکستان) سمیت امریکہ کے کچھ دیہی علاقے شامل ہیں۔ محققین نے ان لوگوں کی صحت مند زندگی کا راز جاننے کے لئیے انکی غذا اور روزمرہ کےمعمولات کا مشاہدہ کیا۔ ایک لمبی چوڑی تحقیق کے بعد معلوم ہوا یہ لوگ زمیں سے اگنے والی چیزیں مثلا سبزیاں فروٹ دالیں وغیرہ زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ اور ان کے

کھانے کا زیادہ حصہ سبزیوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اور اسکے ساتھ گوشت چکن گھی وغیرہ کا کم استعمال ،مضبوط خاندانی روابط ، روزانہ کی بنیاد پر کھیتی باڑی (ورزش) اور سیگرٹ نوشی سے دوری ان کی صحت مند زندگی کا رازہے۔ اگلی قسط میں ہم کچھ جدید تحقیقات کا ذ کر کریں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ سبزیاں فروٹ یا زمین سے اگنے والا اناج کیسے کینسر بلڈپریشر اور شوگر جیسی بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کو مضبوط کرتاہےاور بہت سے موذی امراض سے بچانے کا ذریعہ بنتا ہے