پارلیمانی نظام میں پارلیمنٹ چھت اور ممبران اسمبلی ستون کی مانند ہوتے ہیں ستون کمزور ہو گئے تو پوری عمارت زمین بوس ہو جائے گی،مشتاق ڈار

مظفرآباد(پی کے نیوز)وزیراعظم آزاد کشمیر کے پولیٹیکل ایڈوائزر مشتاق ڈار نے کہا کہ جماعت میں اختلاف رائے کی گنجائش ہے لیکن اگر اسے اختلاف تک لے جایا جائے گا تو شدید نقصان کا اندیشہ ہے پارلیمانی نظام میں پارلیمنٹ چھت اور ممبران اسمبلی ستون کی مانند ہوتے ہیں ستون کمزور ہو گئے تو پوری عمارت زمین بوس ہو جائے گی نہ پارلیمان بچے اور نہ ہی جماعت مرکز میں جماعت تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے ان حالات میں آزاد کشمیر میں ھمیں متحد ہو کر مرکزی جماعت کی مدد کرنی چاہیے. آزاد کشمیر میں جو بھی اصلاحات آئیں یا ترقیاتی کام ہوئے

اس میں جناب وزیراعظم سمیت تمام جماعتی اکابرین و کارکنان کی دن رات کی محنت اور کوشش شامل ہے سمجھ نہیں آتی ھمیں کس کی نظر لگ گئی ہے بدقسمتی یہ ہے کہ سینئر سیاسی رہنما مفاہمت و مصالحت کے بجائے متنازعہ بیان دے رہے ہیں جناب وزیر اعظم جناب سینئر وزیر اور جناب سپیکر کو کارکنان کی محنت کو مدنظر رکھتے ہوئے مل بیٹھ کر معاملات خوش اسلوبی سے حل کرنے چاہئیں مشتاق ڈار نے کہا کہ صاحبزادہ سلیم چشتی صاحب جسٹس منظور گیلانی صاحب عبدالخالق وصی صاحب پر مشتمل کمیٹی بنائی جانی چاہیے جو گفت و شنید کر کے معاملے کو حل کی طرف لے جائے۔