حکومت اور فوج کے تعلقات کی وہ نوعیت نہیں ، اب تعلقات کس طرح کے ہیں، وزیراعظم کے قریبی ساتھی نے بڑا دعویٰ کردیا

لاہور(نیوز ڈیسک) سینئرتجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا ہے کہ عمران خان اور فوج کے تعلقات کی وہ نوعیت نہیں ہے،عمران خان چار وزیر بدلنا چاہتا ہے، فوج کے ساتھ تعلقات کی اب وہ نوعیت نہیں ہے،تعلقات کی نوعیت بدلنے والی ہے، قرض لینے میں کوئی آر نہیں قرض لیا جاسکتا ہے، لیکن میں قرض پر زندگی نہیں گزار سکتا۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے ممالک سے تعلقات باہمی اعتماد پر مبنی ہوتے ہیں۔باہر سے ہمیں سرمایہ کاری مل سکتی ہے؟ سیاحت کو فروغ مل سکتا ہے؟اس میں یہ یہ شرائط ہیں،جی بالکل یہ سب کچھ ہوسکتا ہے۔ اس میں اتفاق رائے یا اختلاف ہوسکتا ہے۔لیکن ہم خود کیا کررہے ہیں؟ یہ سولہویں ، سترویں یااٹھارویں صدی

نہیں ہے۔زراعت میں توصرف چین اور انڈیا کی دوتہذیبیں پروان چڑھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب اڈسٹریل انقلاب آگیا ہے توآپ کو تو صنعتوں میں ترقی کرنی ہے۔ایوب خان کے دور میں ترقی ہوئی تھی ۔ باقی اگر کسی نے اسی پیٹرن پر کام کیا ہے توترقی ہوئی ہے۔ لیکن اس کے علاوہ ویسی ترقی دوبارہ نہیں ہوئی۔جس کو یاد رکھا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری پوٹینشنل 30 فیصد کا ہے۔ فوجی حکومت میں 7فیصد کیوں ہوجاتا ہے؟ یہ پریکٹیکل معاملات ہیں لیکن عمران خان ان کو نہیں سمجھتے۔انہوں نے کہا کہ ایک دنیا ہمارے سامنے ہے، ایک اوپر آسمان میں ہے، ایک زمین کے نیچے ہے، جس کو ہم انڈرورلڈ کہتے ہیں۔اس میں صرف غنڈے نہیں ہوتے اور بھی بہت سارے پلیئر ہوتے ہیں۔انہوں نے ایک خبر دینا چاہتا ہوں کہ عمران خان چار وزیر بدلنا چاہتا ہے، فوج کے ساتھ تعلقات کی اب وہ نوعیت نہیں ہے، نوعیت بدلنے والی ہے۔ہارون الرشید نے کہا کہ قرض لینے میں کوئی آر نہیں قرض لیا جاسکتا ہے، لیکن میں قرض پر زندگی نہیں گزار سکتا۔ اگر آپ دس ہزار سال پہلے والی دنیا میں رہ رہے ہیں ، توے پر روٹی پکتی ہے ، وہی انداز فکر ہے۔ضیاء الحق کی بڑی عزت کرتا ہوں میری رائے مختلف ہے۔