غرور کا نشہ ۔۔۔ تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

میرے سامنے ایک ہارا ہوا شکست خوردہ انسان بیٹھا تھا ‘ غرور تکبر جوانی دولت کا نشہ اڑ چکا تھا ‘ گردن کا سریا دماغ کی تمام چالاکیاں پھرتیاں تیزیاں ہوا میں تحلیل ہو چکی تھیں ‘ ہر وقت دوسروں کو بے وقوف بنانے اور ذاتی کامیابی کی مسکراہٹ جو اس کے چہرے کا حصہ تھی وہ بھی دور دور تک نظر نہیں آرہی تھی ‘ یہ اپنے وقت کا تیز طرار چالاک شیطانی عقل مندترین آدمی تھا اِس نے اپنی عقل چالاکی سے اپنی بہشت بنا رکھی تھی انسانی نفسیات سے کھیلنا اِس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا کس انسان کے ساتھ کیسے کھیلنا ہے اُس سے کام کیسے لینا ہے اُس کے دل میں گھر کیسے کر نا ہے ‘ معاشر ے میں کامیاب زندگی گزارنے کے گُر کیا ہیں اِس کے پاس ہر مسئلے کا حل تھا ‘ انتہائی زرخیز شیطانی دماغ کے بل بوتے پر مشکل سے مشکل پریشانی کو چٹکیوں میں حل کر لیتا ‘ اپنی اسی ذہانت کے بل بو تے پر معاشرے کا

کامیاب ترین انسان تھا ‘ بے پناہ خوبیوں کامالک اپنی انہی خوبیوں کی بدولت اِس کا حلقہ اثر بہت وسیع تھا زندگی کے تمام شعبوں کے بااثر افراد سے اِس کے ذاتی تعلقات تھے یہ تعلقات بنانے کاآرٹ خوب جانتا تھا کس شخص کے قریب کیسے ہونا ہے پھر اُس سے کام کیسے لینا ہے میری زندگی میں جو حیران کر دینے والے بندے آئے یہ اُن میں سے ایک تھا ‘ حضرت انسان اِس کی فطرت اندرونی بیرونی تضادات اچھائی برائی کے اظہار شخصیت کے مختلف روپ سوچوں کے زاویے فرشتوں اور شیطانی صفات جب بھی کو ئی انسان اپنی فطرت ذہانت کا انوکھا اظہار کرتا ہے تو میں دنگ رہ جاتا ہوں ‘ طاقت دولت جوانی تعلقات اقتدار شہرت کا نشہ عام سا بندہ بھی فرعونیت کا شکار ہو جاتا ہے کہ میں ہی سب کچھ ہوں ‘زندگی کے سارے رنگ اتار چڑھائو صرف میری ذات سے وابستہ ہیں اپنے عروج پر انسان اِس خوش فہمی میں مبتلا ہوتا ہے کہ میں اپنی عقل سے تمام الجھے ہوئے کام منٹوں میں حل کر سکتا ہوں ‘ ایک شریر فاتحانہ مسکراہٹ ہر وقت ان کے چہروں پر رقص کر تی نظر آتی ہے ‘ میرے سامنے موجود شخص بھی بے پنا ہ شیطانی صلاحیتوں کا مالک تھا لیکن آج نہ اِس کے چہرے پر فاتحانہ مغرور مسکراہٹ تھی اور نہ ہی آنکھوں اورچہرے پر زندگی سے بھرپور تاثرات تھے ایک مریل انسان کی طرح جس کے جسم سے خون نچوڑلیا گیا ہو ‘ رگوں میں خون کی جگہ خوف بے بسی شکست نظر آرہی تھی جو میرے لیے حیران کن تھی میری اِس سے پہلی ملاقات ایک کام کے سلسلے میں ہوئی میرے پاس ایک مظلوم بیوہ کتنے دنوں سے آرہی تھی کہ پٹواری اُس کاکام نہیں کر رہا ‘ ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ پریشان تھی آخر ایک دن میں نے اُس بیچاری عورت سے پٹواری کانام لیا پھر اُس پٹواری کا بائیو ڈیٹا لیا خوش قسمتی سے اُس پٹواری کا باس میرا

جاننے والا تھا اب میں نے پٹواری سے ملاقات کا ارادہ کیا اور جاکر پٹواری کے کمرے میں بیٹھ گیا ‘ پٹواری کو اُس کے باس نے کسی اور کا فون بھی کرا دیا باس کو میں نے آخر آپشن کے طور پر رکھا تھا ہم لوگ پٹواری کے کمرے میں بیٹھے تھے کافی انتظار کے بعد پٹواری لٹھے کا سفید سوٹ پہنے اپنے منشیوں کے ساتھ تشریف لاتا ہے پٹواری کا انداز کرو فر غرور ایسے جیسے کو ئی منسٹر ہو ‘ مہنگا فون راڈو گھڑی کپڑے جوتے شاہانہ انداز اوپر سے مغرور انداز گفتگو ‘ باری باری سب اپنا مسئلہ بتانے لگے میری باری آئی تو میں نے بیوہ کے بیٹے کو سامنے کیا جناب اِن کی فرد دے دیں تو پٹواری نے میرا نام پو چھا اور مغرور انداز سے اپنے منشی سے بولا پروفیسر صاحب نے فلاں تحصیل دار کا مجھے فون کرایا تھا پھر میری آنکھوں میں جھانکتے ہو ئے بولا جناب ہم ایسے فونوں کا بھار نہیں لیتے آپ کو کام تھا آپ براہ راست

آکر میرے منشی سے ملتے ‘ و ہ تحصیل دار میرے سامنے کیا حیثیت رکھتا ہے ایسے افسروں کے تبادلے تو میں خود کراتا ہوں ‘ اب پٹواری صاحب نے دائیں بائیں لوگوں کی طرف فاتحانہ نظروں سے دیکھ کر اپنی مدح سرائی شروع کر دی وہاں پر موجود لوگ پٹواری صاحب کی شان میں قصیدے پڑھنے لگے اُس کی تعریفوں میں آسمان کے قلا ئے ملانے لگے اِس دوران وہ طنزیہ نظروں سے ہماری طرف بھی دیکھ لیتا اِس کی باتوں سے جو میں نے اندازہ لگایا وہ یہ تھا میں نے شاید فون کر ا کر اُس کی توہین کر دی تھی یا پھر جو فون میں نے کرایا تھا وہ اِس کا جاننے والا نہیں تھا یا اُس سے اس کو کسی قسم کا اختلاف تھا جو فون میں نے کرایا تھا اُس سے مجھے ریلیف تو کیا ملنا تھا اِس کو مرچیں لگ گئی تھیں یہ دبے لفظوں میں احتجاج اور ہماری بے عزتی پر تُلا ہوا تھا مجھے اِس مغرور انسان سے کام تھا اِس لیے میں اِس کی ساری

بکواس خندہ پیشانی سے سن رہا تھا اب ہم مجبوراً اِس کے سامنے بے بس بیٹھے تھے یہاں تک تو بات کسی حد تک ٹھیک تھی ‘ اگلا کام اِس نے یہ کیا کہ ہمیں نظرا نداز کر کے دوسرے لوگوں سے ملنا شروع کر دیا ‘ میرے ساتھ آیا ہوا بیوہ کا بیٹا اور بھی پریشان کہ پروفیسر صاحب تو ہماری مدد کے لیے آئے تھے لیکن اِن کا کو ئی زور اِس پٹواری پر چلا نہیں ‘ ہماری مجبوری تھی کہ اب ہمیں اِس مغرور شخص سے کام تھا اِس کا مزاج غرورہمیں ہر صورت میں برداشت کر نا تھا اِسی دوران کسی نے سب کے لیے چائے منگوالی جو سب کو پیش کر دی گئی یہاں پھر اُس نے فقرہ مارا ہماری طرف دیکھ کر جناب یہاں پر بہت خرچے بھی ہو تے ہیں لوگ فون تو کرا لیتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ ہمارے بھی یہاں خرچے ہو تے ہیں وہ مسلسل توہین آمیز رویہ اپنائے ہو ئے تھا اگر میرا ذاتی کام ہوتا تو میںکب کا اٹھ کر چلا جاتا لیکن بیوہ عورت نے

درخواست کی تھی کہ ہر صورت میں کام کرانا ہے اِس لیے میں ضبط کی آخری حدوں پر تھا اُسے برداشت کئے جارہا تھا وہ اپنا دربار سجا کر بیٹھا تھا وہ بادشاہ تھا ہم سب کمزور غلام رعایا کی طرح اُس کے خوشامدی بن کر اُس کے اشاروں پر ناچ رہے تھے وہ اپنی اِس حیثیت کو انجوائے بھی کر رہا تھا اُسے اپنی طاقت دولت تعلقات کا خوب نشہ تھا اقتدار کی کر سی پر بیٹھ کر وہ اِسے خوب انجوائے کر رہا تھا میں کافی دیر سے اُس کی احمقانہ متکبرانہ حرکتیں برداشت کر رہا تھا ‘ اب میری برداشت کا لیول بھی ختم ہو رہا تھا میرا مہذب پن بھی رخصت ہو رہا تھا میرے اندر کا جوار بھاٹا اٹھ گیا تھا آتش فشاں سی کیفیت ہو رہی تھی کہ ایک جائز کام کے لیے یہ مسخرہ کس طرح سب کو اور مجھے ذلیل کر رہا ہے آخری کام اُس نے ایسا کیا کہ مجھے تو آگ ہی لگ گئی ‘ سب لوگوں سے ملنے کے بعد وہ جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا تو میں نے

سخت لہجے میں کہا جناب ہم انتظار کر رہے ہیں آپ واپس جانے لگے ہیں تو اُس نے ناگوارانداز سے میری طرف دیکھا اور بولا میرے منشی کی خدمت کریں پھر آپ کے کام کے بارے میں سوچیں گے ‘ میرے پاس فالتو کاموں کے لیے وقت نہیں ہے یہ کہہ کر وہ اپنی جیپ میں بیٹھا اور چلا گیا ہم بھی ناکام و نامراد واپس دفتر آگئے آکر میںنے اُس کے باس کو فون کر کے ساری کارروائی بتا دی تو باس پہلے تو ناراض ہوا سر آپ خود کیوں گئے مجھے بتاتے تو میں نے کہا یار مجھے نیکی کا دورہ پڑا تھا تو اُس نے ساری بات سن کر کہا آپ اپنے گھر کا پتہ لکھوائیں میں کچھ کر تا ہوں ۔ میں لوگوں سے ملنے میں مصروف ہو گیا لیکن دل و دماغ اُس پٹواری کی وجہ سے بوجھل تھے سارا دن تھکا ہارا گھر کی طرف روانہ ہوا گھر کے دروازے پر حیران کن منظر میرا منتظر تھا جس کا میں نے خواب میںبھی نہیں سوچا تھا میں جب گھر پہنچا تو وہی پٹواری ہاتھوں میں کاغذ اٹھا ئے ‘ ساتھ مٹھائی کے ڈبے اور فروٹ کے ٹوکرے کے ساتھ میراثی بنا کھڑا تھا میںپھٹی نظروں سے یہ منظر دیکھ رہا تھا فرعون اقتدار کے چبوترے پر کس شان سے جلوہ گر تھا یہاں میراثی بنا نظریں جھکائے کھڑا تھا ۔