مودی امن کا قاتل اور نظریاتی مملکت پاکستان ۔۔۔ تحریر: میاں محمد اشرف عاصمی

اللہ اکبر کا نعرہ لگانی والی پاکستانی فوج پچھلے کئی سالوں سے حالت جنگ میںہے اِس جنگ نے پاکستانی فوج کو مسلسل فعالیت کے ماحول میں رکھا ہے۔ بھارت نے جس طرح پاکستان پہ جارحیت کی اور مانسہرہ کے قریب بم پھینکے اُس کا جواب پھر جس انداز میں بھارت کے دو جنگی جہاز گرا کر دیا گیا اور بھارتی پائلٹ کو زندہ پکڑ لیا گیا۔ اِس سے بھارت کا جان لینا چاہیے کہ پاکستان اُس کے لیے کسی طور بھی تر نوالہ نہیں ہے۔قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کل سے جو صورتحال بنی چاہتا تھا کہ قوم کو اعتماد میں لوں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے پلوامہ حملے کے بعد بھارت کو ہر قسم کی تحقیقات کی پیشکش کی، پلوامہ حملے میں جو ہلاکتیں ہوئیں اس پر علم ہے کہ ان کے لواحقین کو تکلیف پہنچی ہوگی کیونکہ ہمارے ہاں 10 سال میں 70 ہزار سے زیادہ لوگ مرے۔عمران خان کا کہنا تھا ہم نے

سیدھی پیشکش کی کہ پاکستان کسی بھی طرح کی تحقیقات میں تعاون کے لیے تیار ہے، یہ پاکستان کے مفاد میں نہیں کہ ہماری زمین استعمال کی جائے، ہمیں تحقیقات میں کوئی مسئلہ نہیں تھا، ہم تیار تھے لیکن مجھے خدشہ تھا کہ اس کے باوجود بھارت نے کوئی ایکشن کرنا ہے، اسی لیے کہا تھا کہ جواب دینا ہماری مجبوری ہوگی کیونکہ کوئی بھی خود مختار ملک کسی کو اپنے ملک میں آکر کارروائی کی اجازت نہیں دیتا اور پھر وہ خود ہی منصف بن کر فیصلہ بھی کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے خدشہ اس لیے تھا کہ انڈیا میں الیکشن ہیں، اسی لیے ان کو کہا کہ ہماری مجبوری ہوگی کہ ہم جواب دیں۔وزیراعظم نے بتایا کہ میری تینوں مسلح افواج کے سربراہان سے بات ہوئی،کل صبح اس لیے ایکشن نہیں لیا کہ گزشتہ صبح جب ایکشن ہوا تو ہم پوری طرح نقصان سے آگاہ نہیں تھے، اس لیے جب تک پتا نہیں چلتا تو کوئی بھی ایکشن غیر ذمہ داری ہوتی، ہم نے انتظار کیا اور آج ایکشن کیا، ہمارا پہلے سے منصوبہ تھا کہ اس ایکشن میں کوئی ہلاکتیں نہ ہوں، صرف بھارت کو یہ بتائیں کہ ہم میں بھی صلاحیت ہے، اگر آپ آسکتے ہیں تو ہم بھی آپ کے طرف آکر کارروائی کرسکتے ہیں۔عمران خان نے بھی بھارت کے 2 مِگ طیاروں کی بارڈر پر انگیجمنٹ اور انہیں گرانے کی تصدیق کیانہوں نے کہا کہ اب ہم یہاں سے کہاں جائیں گے، اس لیے بھارت سے کہتا ہوں کہ یہاں عقل اور حکمت کا استعمال بہت ضروری ہے، دنیا میں جتنی بھی جنگیں ہوئیں سب جنگوں میں غلط اندازے لگے، کسی نے نہیں سوچا کہ جنگ شروع کرکے کدھر جائیں گے، پہلی عالمی جنگ مہینوں کے بجائے سالوں میں ختم ہوئی، دوسری جنگِ عظیم میں بھی ایسا ہوا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکا نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اسے 17 سال افغانستان میں پھنسے رہنا پڑے گا۔وزیراعظم کا کہنا تھا دنیا کی

تاریخ بتاتی ہے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں، بھارت سے سوال ہے کہ جو ہتھیار آپ کے اور ہمارے پاس ہیں کیا ہم غلط اندازے برداشت کرسکتے ہیں؟ کیا ہمیں اس وقت سوچنا نہیں چاہیے کہ اس وقت جو بڑھاوا ہوگا تو بات کہاں جائے گی؟ جنگ شروع ہو گئی پھر پھر یہ نہ میرے اور نہ مودی کے کنٹرول میں ہوگی۔عمران خان نے کہا کہ بھارت کو پھر سے دعوت دیتا ہوں، ہم پلوامہ واقعے کی تحقیقات کے لیے تیار ہیں، ہم بات چیت چاہتے ہیں اور دہشت گردی پر بھی بات چیت کے لیے تیار ہیں، اس وقت ہمیں بیٹھ کر بات چیت سے مسئلے حل کرنے چاہئیں اس سے قبل نیشنل کمانڈ کنٹرول اتھارٹی کے اجلاس میں بھارتی دراندازی کے جواب میں پاکستانی ردعمل پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے پاکستان کو جس طرح کے ازلی دشمن جو کہ اُس سے طاقت کے لحاظ سے بڑا ہے کا سامنا ہے اور اُس ملک کے حکمران ببانگ دہل اعتراف

کر رہے ہیں کہ ہاں ہم نے پاکستان توڑا۔ اِن حالات کے پیش نظر اِس مملکتِ خداداد کا قائم رہنا اللہ پاک کا بہت بڑا احسان ہے۔موجودہ بھارتی وزیر اعظم نریندر موددی نے جس طرح سے پاکستان اور بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کو نفرت کا نشانہ بنایا ہے اُس سے اُن پاکستانی باشندوں کو بھی دو قومی نظرئیے کا بھولا ہوا سبق یاد آگیا ہے۔ جو کبھی سرحدیں ختم کرنے کی بات کرتے ہیں ااور کبء امن کی آشا کا راگ الاپتے ہیں۔ پاکستان کا وجود صرف ایک زمین کا ٹکرئے تک محدود نہیں ہے۔یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ 1857 سے لے کر 1947 تک کا نوئے سالہ دور مسلمانوں نے شدید ابتلاء میں گزارا۔ معاشی سماجی سیاسی عمرانی ہر لحاظ سے پستی مسلمانوں کا مقدر بن چکی تھی۔ان حالات میں خطے میں امن وسکون کے لیے بہتر یہ ہی تھا کہ مسلمانوں کی علیحدہ ریاست ہو۔اگر پاکستان کی تخلیق کے حوالے سے دیکھا جائے تو

بھارتی مسلمانوں کی جو حالت بھارت میں ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔ ہندو مسلمانوں کو غدار سمجھتے ہیں۔ ُٓنام نہاد دانشور اپنے غیرملکی آقاوٗں کی خوشنودی کی خاطر پاکستان کے خلاف زبان درازی کرکے اور پاکستان کی تخلیق کو انگریز کی سازش گردان کر درحقیقت ابلیس کی پیروی کا فریضہ ادا کرنے کی سہی میں لگے رہتے ہیں۔حضرتِ قائدِاعطمؒ، حضرتِ علامہ اقبالؒ،مجدد د ین و ملت حضرتِ مولانا امام احمد رضاء خانؒ،پیرجماعت علیشا ہ، حضرت مولانا فضل خیرحق آبادیؒ، مولانا شبیر عثمانیؒ جیسے عاشقانِ توحید و سنت کے عظیم علمبرداروں کی مساعی جمیلہ سے کفرستانِ ہندوستان میں نبی پاکﷺ کے حکم سے بننے والی یہ پاک سرزمین جو 27 رمضان المبارک کی شب کی پرُ نور ساعتوں میں وجود میں آئی ہو اُسکی حفاظت تو رب پاک خود کرتا ہے۔اسلا میہ جمہوریہ پاکستان، ایک مخصوص نظرئے کی بنیاد پر معرض

وجوڈ میں آیا تھا اور وہ نظریہ تھا، نظریہ پاکستان۔۔ برِ صغیر میں دو قومی نظرئے کی کوکھ سے اْبھرنے والا نظریہ دراصل اپنے تمام معانی، مصادر منابع کے نقطہ نظر سے نظریہ قرآن اور نظر یہ اسلام ہے۔ کیونکہ تحریک پاکستان کے مراحل کے دوران اسلامیان ہند نے جو نظریاتی نعرہ بلند کیا تھا وہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لاالہٰ پ۔اکستان عالیشان کا وجود باسعود، ایک مرد قلندر، مرد حریت اور مرد ایمان اور مرد امتحان، حضرت قائداعظم ؒ، کی محنت شاقہ کی بدولت ہوا۔ حضرت علامہ اقبال ؒ کی روحانی اور ایمانی الہامی شعری کا وشوں نے اپنا رنگ دکھایا اور انہوں نے برصغیر کی غلامی میں پھنسی ہوئی مسلمان قوم کو احساس تفاخر ور خودی کی بیداری کا پیغام دے کر انہیں آزادی کی اوج ثریا تک پہنچانے کیلئے اپنا خون جگر عطا کیا۔علم و عقل میں اگر تضاد اور تصادم رہے گا تو ظاہر ہے کہ اس بنی ہوع انسان میں انتشار

اور تخریب کا باعث بنے گا، اور بالآخر قومی زوال کا پیش خیمہ۔ خدائے بزرگ و برتر نے اْن افراد کو یہ اعزاز عطا فرمادیا۔ جنھیں دائرہ اسلام نے اسلام میں داخل ہونے کا شرف نصیب ہوا، وہ افراد دنیائے انسانیت کے خوش قسمت ترین انسان ہیں جنہیں حضور اکرم ﷺ کے امتی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ دین اسلام نے مسلمانوں کے قلوب و ارواح میں جس فلسفہ توحید کو موجزن اور مرتسم کیا ہے، اْس سے ان میں فکری وحدت، تہذیبی ہم آہنگی، دینی حریت ور نسانی سطح پر احساس تفاخر کی تخلیق ہوئی۔ جب قلوب و اذہان میں تصور توحید جلوہ گر نہ ہو انسان کی شخصیت میں وحدت پیدا نہیں ہو سکتی، ظاہر ہے کہ مسلمان ایک باری تعالیٰ جو وحدہ لاشریک ہے اس پر پختہ ایمان و ایقان رکھے گا، تو جب ہی اپنے ا ندر بھی وحدت پیدا کرے گا۔ اس تمام فلسفہ حیات کا منبع، ماخذ، روح، اساس، سرچشمہ اور بنیاد قرآن الحکیم ہے۔

اس نظریئے کو قرآن کی تعلیمات اور حکام کے پیش نظر مجدد الف ثانی ؒ، حضرت داتا گنج بخش ؒ اور دوسرے اولیائے کرام اور مجتہدین قابل صد احترام نے اسی نظرئے کو اپنے خون جگر سے سینچا اور روحانی کمالات سے اس عظیم عمارت کی بنیاد وں کو استحکام سے ہمکنار بھی فرمایا۔ انہی بابرکت اور روحانی شخصیات کی تعلیمات مقدسہ نے حضرت علامہ اقبال ؒ اور حضرت قائد اعظم ؒ کے افکار ملیہ اور قومی نظریات، دینی، اسلامی، قومی امنگوں کا رنگ بھر دیا تھا۔ حضرت علامہ اقبال ؒ نے اسلامیان ہند کو پیغام خودی دیا۔ انہیں انتشار ونکبت سے جگایا او ایک قوم کی شکل میں متشکل کر دیا۔ حضر ت قا ئد اعظم ؒ نے اسلامیان ہند کو اپنی تقاریر، خطابات، اور علمی اور قانونی نظریات وارشادات کی روشنی میں انگریزوں اور ہندؤں کی استعمار پسند انہ اور تشدد آمیز رویوں سے آگاہ کرتے رہے اور انہیں اپنی اسلامی اقدار و

رو ایا ت اور تاریخ کی روشنی میں تیار رہنے کی ہدایت کرتے رہے۔ حضرت قائداعظم ؒ نے اسلامیان ہند کے قلوب واذہان میں آزادی کی جو لو لگائی وہ الاؤ بن کر سامنے آئی اور پاکستان دنیائے انسانیت کے نقشے پر بڑی شان وشوکت کے ساتھ ظہور پزیر ہوا۔ قرآن حکیم نے استفسار فرمایا: خدا تعالیٰ نے تم سب کو تخلیق فرمایا‘ پھر تم میں سے ایک گروہ نے بلند و بالا اور عالمگیر انسانیت سے انکا کردیا‘ اور دوسرے گروہ نے اسے تسلیم کر لیا۔ ((64/2یہی وہ انسانیت کی تفریق اور امتیاز کا میعار ہے جو قرآن حکیم انسانوں کے لیے پیش کرتا ہے۔ اسی کے مطابق دواقوام واضح ہوتی ہیں ایک دوسری غیر مسلم۔ کیونکہ دونوں کی حقیقی کیفیت میں نظریہ حیات مبنی بروحی سے ہم رمگ اور ہم آہنگ نہ تھا قرآن کے حوالے سے چنانچہ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ اسلامی ریاست وحکومت میں شامل نہ گیا۔ حضور پاک ﷺ کی مجلس شوریٰ میں کبھی

کوئی غیر مسلم نہ تھا۔ خلفائے راشدین رضی اللہ علیم اجمعین کی مجلس شوریٰ اور پارلیمان میں کوئی غیر مسلم کا داخل نہ تھا۔ بلکہ کافر یا غیر مسلم، ملت اسلامیہ کا فرد ہی نہیں تھا لہٰذا اسلام اور قرآن کے نزول کے ساتھ ہی بنی انسان دو مختلف نظریات اور حتمی طبقات میں تقسیم ہو گئے۔ ایک نظریہ ایمان نہ لانے والوں کا۔ چنانچہ اولاد آدم دو کیمپوں میں تقسیم ہو گئی شرار بو لہبی ایک جانب اور چراغ مصطفیٰ ﷺ دوسری جانب، اس نظریے نے خون اور حسب و نسب کی نفی نھی کردی۔ برادری، قبیلے اور ذات پات کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا۔ اس کی بہترین مثال جنگ بدر اور جنگ اْحد ہے جس میں نبی الزماں حضور اکرم ﷺ دوسرے صحابہ کرام کے قریبی رشتہ دار دشمن کے صف میں براجمان تھے، چنانچہ قرآن نے کافروں اور منافقین کے ضمن میں ملت اسلامیہ کو بڑی سختی سے متبنہ کیا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے

نظریہ پاکستان کا آغاز، تشکیل برصغیر میں اس وقت ہوئی جب مسلمانوں کو انتشار و افتراق اور زوال و انحطاط کا سامنا کرنا پڑا اور ہندوں کی اصل فطرت کے شاہکار وں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مظالم کا ،گھناونی سازشوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔ بالخصوص 1857ء ؁ کی جنگ آزادی کے بعد کی بڑی دلدوزداستان ہے، جسے غربی اور شرقی مفکرین و مصنفین نے خوب بیان کیا ہے یہ اپنے طور پر ایک طویل داستان ہے۔ مولانا ابولکلام آزاد کی کتاب india wins freedom ولیم ہنٹر کی کتاب 5 indian mussalmans عبدالوحید خان کی کتاب تقسیم ’’ہند‘‘ اور ان کی دوسری کتاب ’’مسلمانوں کا ایثار اور آزادی کی جنگ‘‘ کالنز اور لاپیئر کی کتاب \’freedom at midnight\’ اور پروفیسر منور مرزا کی کتاب Dimension of Movement اور دیوار’’برہمن‘‘ کا مطالعہ کرلیں۔ ان شنکرو ں، دیالوں، بگوپالوں،

مہاجروں، ساہنیوں، دھوتی پرشادوں، چٹیا گھنٹانوں، ایڈانیوں، ملکانیوں، مشراوں، بال ٹھاکروں، من موہنوں اور بڑے بڑے مہاپرشوں نے اسلام، پاکستان، نظریہ پاکستان دو قومی نظریہ اور مسلمان دشمنی میں کسر اٹھا رکھی اور یہ سلسلہ ہنوز جاری وساری ہے۔ ہمارے سابق مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے غدار سیاستدانوں نے ہماری تاریخ اسلام کومسخ کر دیا۔ جو ایمانی اور ایقانی روح سے محروم تھے۔ جو قرآنی جرات و استقامت سے سرمایہ دارا نہ تھے۔ ہمارے جسم کا ایک بازو کٹ گیا چنانچہ اندرا گاندھی نے زور خطابت کے نشے میں یہ کہا ’’آج ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے، ہم نے ایک ہزار سال کا بدلہ لے لیا ہے۔ لیکن ہم نے اندرا گاندھی اور ان کے مخلص چیلوں چانٹوں اور حواریوں اور ان کے حاشیہ برداروں کو اسی وقت باور کرارہے ہیں اور کراتے رہیں گے کہ جب تک ایک مسلمان بچہ بھی برصغیر پاک و ہند میں زندہ ہے اسلام اور کفر کی جنگ جاری رہے گی، اسلام کا جھنڈا موجود رہے گا، اس جذبہ محرکہ کو جس تصور، خیال، اصول، ضابطے یا نقطہ نظر نے تخلیق کیا اسے نظریہ پاکستان کا نام دیا گیا۔ جسے انگریزی میں Iddeology of pakistan کہتے ہیں۔ چنانچہ حضرت قائداعظم 1944ء ؁ میں مسلم یونیورسٹی (علی گڑھ) میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’آپ نے غور فرمایا کہ پاکستان مطالبہ کا جذبہ محرکہ کیا تھا؟ مسلمانوں کے لیے ایک جداگانہ مملکت کی وجہ جواز کیا تھی۔ تقسیم ہند کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اس کی وجہ نہ ہندوں کی تنگ نظری ہے۔ نہ انگریزوں کی چال، یہ اسلام کا بنیادی مطالبہ ہے۔ اور یہی دراصل مطالبہ نظریہ پاکستان کی ترجمانی کرتا ہے۔ مسلہ یہ ہے کہ تکلیف صرف اسلام سے ہے کیونکہ کسی غیر مسلم کے اسلام قبول کر لینے کے بعد جس طرح اس کے زمین و آسمان بدل

جاتتے ہیں وہ عجیب کیفیت ہے، اس کے خیالات و تصور ات اس کے جذبات و احساسات اور انسانیت کے جملہ تمام اطوار یکدم وحدہ لاشریک کی ذات اقدس سے جڑ جاتے ہیں اور پھر۴ اس کا رخ ممبیء کلکتہ اجودھیا دہلی اور بجنور سے مکہ اور مدینہ کی طرف ہو جاتا ہے اس روحانی اور دینی تبدیلی کی مسٹر گاندھی کو بھی سمجھ نہیں آئی تھی۔ ان سے پہلے ہو گزرے مہاپرشوں کو بھی سمجھ نہیں آئی تھی، ان مہا گرووں کو بھی سمجھ نہیں آئی تھی، اور نہ ہی آسکتی تھی اور اب یہ کیفیت کا فرما ہے مسٹر گاندھی عجیب مکاریت و فریب کاری کے انداز گفتگو میں کہا کرتے تھے کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ایک سیدھا سادھا سا ہندو جب مسلمان ہو جاتا ہے تو دنگی، فسادی اور لڑاکا ہو جاتا ہے۔ دنگئی تو وہ ہو جائے گا جب اسے اپنے نظریے کی پاسبانی کرنا پڑے گی۔ دنگئی تو وہ ہو جائے گا، جب ناموس رسالت ﷺ پر خدانخواستہ

حرف آئے گا۔ دنگئی تو لازمی ہو گا کہ جب وہ وحدہ لاشریک کی شان میں کوئی غیر قوم کا فرد گستاخی کا مرتکب ہوگا۔ قرآن پاک پر رکیک حملوں کا جواب تو پھر وہ اپنی جان پر کھیل کر دے گا اور شہادت کے مقام اولیٰ کو مسکراتے ہوئے حاصل کرنا اپنا دینی اور اسلامی فریضہ سمجھے گا۔ یہی وہ جذبہ اسلام ہے، یہی وہ قرآنی برکت ہے یہی وہ دو قومی نظریے کی بنیا د ہے۔ یہی دوقومی نظریہ اپنی روحانی معنویت اور اسلامی قومی نظریات و تصور کی شکل میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے نظریہ پاکستان کی شکل میں نمودار ہوا۔ پاکستان کی تخلیق میں لاکھوں اسلامیان ہند نے شہادتوں کا خون عطا کیا لاکھوں مسلمان عورتوں اور بچوں نے قربانیاں دیں، پاکستان کو انگریزوں اور ہندوں نے آسانی سے قبول نہیں کیا تھا۔ پاکستان انگریز نے طشتری میں رکھ کر پیش نہیں کیا تھا۔ تقسیم ہند نہ انگریزی بادشاہت کو پسند نہ تھی، نہ

برطانوی پارلیمنٹ، نہ برطانوی حکومت ہند، نہ وائسرائے صاحبان، نہ انڈین نیشنل کانگریس، نہ مسٹر گاندھی، نہرو پٹیل اور راجگو پال اچاریہ وغیرہ، لارڈ مونٹ بیٹن جو آخری وائسرائے ہند تھا۔ اسے تقسیم ہند سے ویسے ہی چڑ تھی۔ جمیعت العلمائے ہند کی اکثریت مخالف چند اور اسلام پسند گروہ بھی قائداعظم ؒ پر رکیک حملوں سے باز نہ آرہے تھے۔ اکثر مسلمان اکابرین جو کانگریس کے متاثرین میں سے تھے یہ تقسیم پسند نہیں فرما رہے تھے جن میں مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی خاص طور پر شامل تھے۔ یہ حضرت قائد اعظم ؒ کی سیاسی صداقت اور ولولہ انگیز قیادت اور مومنانہ شان و شوکت کا اعجاز تھا کہ بڑے بڑے برج گرتے چلے گئے بڑے بڑے طوفان اپنی اپنی راہ لیتے رہے بڑے بڑے پہاڑ چکنا چور ہو جاتے رہے۔ اور وہ سرحدیں قیام پزیر ہوئیں جنھوں نے معرکہ بدرو حنین کی یاد دتازہ کردی۔ یہ سرحدیں کچے دھاگے کی سرحدیں نہیں یہ اینٹوں گارے، سیمنٹ اور ماربل کی بنائی ہوئی دیوار نہیں ’’لاالہٰ الاللہ محمد الرسول اللہ‘ کے اسلامی اور قرآنی نظریے اور ایمان پر قائم کردہ دیواریں ہیں۔ جو قیامت تک قائم رہیں گی، حضرت قائداعظم ؒ نے اسی لیے قیام پاکستان کے بعد 30 اکتوبر 1947ء ؁ کو فرمایا تھا ہم نے پاکستان حاصل کر لیا کسی خونی جنگ کے بغیر امن کے ساتھ اخلاقی اور ذہنی قوت کے بل بوتے، پر یوں ہم نے ثابت کر دکھایا کہ ہم سچے اور ہمارہ مقصد بھی سچا تھا، پاکستان اب ایک قطعی اور اٹل حقیقت ہے اسے کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں سبق مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذکر بے جانہ ہوگا،جب اندرا گاندھی (وزیر اعظم بھارت) نے یہ بیان بڑے فخر وتکبر اور فتح کے نشے میں دیا کہ آج ہم نے قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا اور ٓج ہم نے ہزار سال کا بدلہ لے لیا۔ اب توجہ توجہ طلب مسئلہ یہ ہے کہ کدس نے

کس سے یہ بدلہ لیا اور خلیج میں ڈبو دیا، سگر ہم یہ کہیں کہ اندرا گاندھ نے کتنی غیر منظقانہ معصومیت مین بیان داغا تھا اس قابل رحم خاتون کو معلوم ہی نہیں کہ دو قومی نظریہ اور نظریہ پاکستان کے اصل مفاہیم و مطالب اور ابدی توجیہات و تفاسیر کیا ہیں اسلام اور قرآن کی روشنی میں اگر ایک مسلمان بچہ بھی برصغیر میں زندہ ہے تو دو قومی نظریہ اپنی کامل جولانیوں کے ساتھ موجود ہے، نظریہ پاکستان مکمل طور پر قائم ہے۔ اسلام کا جھنڈا موجود ہے۔ اگر نظریہپاکستان اپنی اصلی اور ازلی حقائق کے نقطہ نظر سے مقصود ہو گیا ہوتا تو بنگلہ دیش جسے آج ہم سابق مشرقی پاکستان کہتے ہیں ہندوستان کا کوئی با جگر حصہ بن چکا ہوتا، لیکن ایسا ایسا نہیں ہوا وہ پاکستانی حضرات جنہیں پاکستان نے اعلیٰ ترین مقام سیاست و قیاست پر متمکن کر رکھا اب جلوہ افوذ ہیں، ثولیدہ، نظریاتی علم سے عاری، تحریک پاکستان کے دلدوز لمحات و

واقعات سے ناواقف، حضرت قائداعظم ؒ اور حضرت علامہ اقبال ؒ سے بغض، کینہ اور نفرت رکھنے والے ایسے قابل تعظیم افراد پاکستان کی کیا خدمت کر رہے ہو نگے اور جنہیں باقلخصوص قیامت کے روز حضرت قائد اعظم ؒ کے حضور کیا جوابدہی دینا ہو گی۔ جو نظریہ پاکستان اور تخلیق پاکستان کے بارے میں مشکوک الایمان اور متزلزل عقائد کے علمبردار ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بڑی اور کوئی بد قسمتی نہیں ہے۔ لیکن ہمارا ایمان ہے کہ پاکستان مشیت ازادی ہے، اور حضرت قائد اعظمؒ اور علامہ اقبال ؒ سات سات ولیوں کی قوت ایمانی والی شخصیات تھیں۔موجودہ حالات میں پلوامہ حملے کے بعد مودی نے اپنی انتخابی مہم کو جلا بخشنے کے لیے جس طرح پاکستان کے خلاف کھلی جارحیت کا رتکاب کیا ہے اور پاکستانی وزیر اعظم نے ہندوستان کو بتا دہا ہے کہ آئیں امن کی بات کریں اور جس انداز میں شاہینوں نے بت پرستوں کے جہازوں کو گرایا ہے پاکستانی عوام اللہ پاک کے کرم سے بھرپور جوش و جذبہ کے ساتھ ہمہ وقت بھارتی جارحیت کا مُنہ توڑ جواب دینے کے لیے اپنی فوج کے ساتھ کھری ہے ۔ پاکستان زندہ آباد۔