خواتین کے حقوق،دعوے اور حقیقت۔۔۔ تحریر: محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

خواتین کے حقوق کے حوالے سے جب سے قلم داز ہوں تو سمجھ نہیں آرہی کہ میں عورت کی آزادی کے حوالے سے مروجہ سوچ کو کیا کہوں۔ عورت کی آزادی کو کیا معنی پہنائے جائیں۔ عورت ماں ہے ، بہن ہے،بیٹی ہے بیوی ہے۔زمانہ جہا لیت میں عورت کو خاندان کے لیے شرمندگی کا باعث تصور کیا جاتا تھا اور عورت کو خاندان کی بدنامی کا عنصر سمجھا جاتا تھا۔عرب جو کہ زبان پہ بہت قادر تھے اور شاعری اُن کے گھر کی باندھی تھی وہ جس شخص کی کوئی بیٹی ہوتی تو وہ اُس کے ایک ایک اعضا کی نشاندہی کرتے اور لڑکی کا نام لے لے کر شاعری کرتے یوںبیٹیوں کے باپ یہ بے عزتی برداشت نہ کر پاتے وہ بچی کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیتے ۔ رب پاک نے عورت کو ترکہ میں سے حصے دار بنایا اور اللہ پاک نے کھول کھول کر قران مجید میں وراثت کی تقسیم کو تفصیل کے ساتھ ارشاد فرمایا۔ عورت کو مرد

کے لیے باندھی نہیں بلکہ اگر وہ ماں ہے تو اُس کے قدموں تلے جنت کو قرار دیا۔ اگر وہ بیٹی ہے تو اچھی پرورش کرنے پر والدین کو جنت کی بشارت دی اور اگر وہ بہن ہے تو اُسکو عزت واحترام دیا اگر بیوی ہے تو اُس کو ہر قسم کی مالی مشکلات سے آزاد کروا کر مرد کی یہ ڈیوٹی لگائی کہ وہ گھر کا معاشی نظم و نسق خود چلائے اور عورت گھریلو امور کو انجام دئے بچوں کی پرورش کرئے اور معاشرئے کو بہترین نسل تیار کرکے دے۔ اسلام سے پہلے عورت کو انتہائی گھٹیا مخلوق کا درجہ دیا گیا۔ ہندو مذہب میں تو مرد کے مرتے ہی عورت کو بھی اُسکے خاوند کے ساتھ زندہ ہی جلا دیا جاتا جسے ستی کی رسم کہا جاتا ہے۔ عورت کو معاشرئے میں غلام سے بھی بدتر حثیت حاصل تھی۔ گویا کہ عورت ہونا جرم بن جاتا۔ اللہ پاک کے نبی پاکﷺ نے عورت کی عظمت کو چار چاند لگا دئیے۔عورت کی آزادی کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں لیکن راقم کے نزدیک صرف ایک بات ہی فی زمانہ بہت اہمیت کی حامل ہے۔ عورت موجودہ حالات میں کمانے کے لیے گھر سے نکلتی ہے تو اُسے کن کن مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ یہ حالات اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ہیںاسلام نے تو سینکڑوں سال قبل ہی معاشی ذمہ داری مرد پر ڈال دی تاکہ عورت عزت و احترام کے ساتھ گھر کا نطم و نسق سنبھالے اورخوش وخرم پاکیزہ زندگی بسر کرئے اور معاشی پریشانیوں سے آزاد ہوجائے۔ذرا تصور فرمائیں عورت جب معاشی سرگرمیوں کے لیے ملازمت بھی کرتی ہے پھر اُس کو گھر کے معاملات بھی دیکھنا پڑتے ہیں تو اُس کو دوہری مشقت کرنا پڑتی ہے۔ راقم یہاں عورتوں کی ملازمت کے خلاف بات نہیں کر رہا ۔عورت کو کام ضرور کرنا چاہیے تاکہ معاشرئے کے نظام میں روانی رہے لیکن عورت سے کام اتنا ہی لینا چاہیے جتنا یہ صنف نازک

کر سکتی ہے۔ اُسے اذیت سے دوچار نہیں کر دینا چاہیے۔کہ وہ گھر اور دفتر کے درمیان فٹ بال بن جائے۔ اِس طرح کا توازن رکھ کر اگر عورت کو کوئی ایسا کام کرنے کو مل جاتا ہے تو اسے ضرور کرنا چاہیے ۔عورت کو ہراساں کیا جانا معمول بن چکا ہے۔ گو خاتون محتسب کے ادارئے کا قیام صوبہ پنجاب کی حد تک عمل میں آچکا ہے لیکن خود ہی غور فرمائیں کتنے فی صد خواتین جا کر اِس محتسب کے دفتر میں یہ درخواست دیتی ہیں کہ مجھے ڈیوٹی کی جگہ فلاں شخص نے ہراساںکیا۔عورت کی عزت و احترام کے لیے معاشرے میں روحانی انقلاب کی پھر سے ضرورت ہے وہ انقلاب جو نبی پاکﷺ کا عطا کردہ ہے ہے تاکہ زمانے کی آنکھوں میں حیا ہو۔قوانین تو بے شمار ہیں اور مروجہ نظام میں قوانین پر عمل درآمد کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔خواتین کی آزادی کے حوالے سے دنیا بھر میں بے شمار تحریکیں چل رہی ہیں

اور بہت سی تنظیمیں بھی میدان عمل میں ہیں۔ عورت کو مارکیٹینگ کے لیے بطور ماڈل نیم برہنہ پیش کرنا کونسی آزادی ہے اور اِس سے معاشرئے کی کس طرح خدمت بجا لائی جارہی ہے۔ عورت کو باپردہ ہونے کا حکم اُس کے لیے قید نہیں بلکہ اُس کی عزت و ناموس کی حفاظت اور احترام کے لیے بہت بڑی سہولت اور عزت و تکریم کا مقام ہے۔ دنیا کے کسی معاشرے میں فحاشی کے حق میں وکالت نہیں کی جاسکتی ، ہر مذہب عورت کی عزت و ناموس کو اعلیٰ و ارفعٰ مقام دیتا ہے ۔اِس لیے جو خواتین خواہ وہ ملازمت پیشہ ہیں یا گھر کے انتظام وانصرام میں مصروف رہتی ہیں پردئے میں رہنے سے اُن کے احترام میںبے حد قدرومنزلت پائی جاتی ہے۔دین نے جو حدود قیود معاشرئے کے ہر فرد کے لیے مقرر کی ہیں اُن کے پیچھے نفسیاتی طور پر جو پہلو کا ر فرما ہے وہ یہ ہے کہ کسی طور بھی کوئی بھی فرد فطرتی

روش سے ہٹنے نہ پائے۔اللہ پاک ہر انسان کا خالق و مالک ہے اور اپنے بندئے سے اتنی محبت کرتا ہے کہ اُتنی محبت ستر مائیں مل کر بھی نہیں کر سکتی وہ خدا اپنی مخلوق کی بے عزتی بے حرمتی کیسے برداشت کر سکتا ہے۔اِس لیے فطرتی تقاضے اُسی صورت پورئے ہو سکتے ہیں جب معاشرئے کا ایک ایک فرد ایک دوسرئے کی عزت و ناموس کو مقدم رکھے۔ نبی پاکﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ کے بندئے کے دل کو دُکھانا کعبہ کو ڈھانے سے زیادہ بڑا گناہ ہے۔عورت کی آزادی کی رٹ لگانے والے عورت کو جسم فروشی کی طرف لگا تے اور مالی مفاد حاصل کرتے ہیں کیا یہ آزادی ہے۔ عورت کو اپنے مالی فائدئے کے لیے بطور شو پیس، پیش کرنا کیا یہ آزادی ہے۔پاکستانی معاشرئے میں خواتین کو بہت زیادہ مسائل کا سامنا ہے پرائمری تعلیم سے لے کر ثانوی و اعلیٰ تعلیم تک کے مواقع بہت کم ہیں۔ ملازمتوں کی کمی

،ٹرانسپورٹ کے مسائل،معاشرتی اونچ نیچ امارت اور غربت کے درمیان خلیج کا حائل ہونا، جہیز کی لعنت وٖغیرہ۔عورت کو بطور پروڈکٹ سمجھنے کے عمل کی نفی کرنے کی از حد ضرورت ہے۔اسلام نے عورت کو مختلف نظریات و تصورات کے محدود دائرے سے نکال کر بحیثیت انسان کے عورت کو مرد کے یکساں درجہ دیا، اسلام کے علاوہ باقی تمام تہذیبوں نے خصوصاً مغرب جو آج عورت کی آزادی، عظمت اور معاشرے میں اس کو مقام و منصب دلوانے کا سہرا اپنے سر باندھنا چاہتاہے۔ لیکن اس معاشرے نے ہمیشہ عورت کے حقوق کو سبوتاژ کیا، اور عورت کو اپنی محکومہ اور مملوکہ بنا کر رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی مختلف تہذیبوں اور اقوام نے عورت کے لئے سینکڑوں قانون بنائے مگر یہ قدر ت کا کرشمہ ہے کہ عورت نے اسلام کے سوا اپنے حقوق کی کہیں داد نہ پائی۔الغرض یونانی تہذیب سے لے کر روم، فارس،

ہندوستان، یہودی اور عیسائی تہذیب نے عورت کو معاشرے میں کمتر درجہ دے رکھا تھا،انہوں نے دنیا میں برائی اور موت کی ذمہ دار اور اصل وجہ عورت کو قرار دیا، حتیٰ کہ انگلینڈ کے آٹھویں بادشاہ ہنری -8-کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ اس نے اپنے دور میں پارلیمنٹ میں یہ قانون پاس کیا تھاکہ عورت اپنی مقدس کتاب انجیل کی تلاوت تک نہیں کرسکتی کیونکہ وہ ناپاک تصور کی جاتی تھی۔جدید تہذیب بھی عورت کو وہ حیثیت نہ دے سکی جس کی وہ مستحق تھی۔ارتقائے تہذیب نے عورت و مرد کے درمیان فاصلوں کو اتنا بڑھا دیا کہ عورت کی حیثیت کو اور زیادہ پست کردیا۔ علاوہ ازیں مذہب اور خصوصاً بڑی بڑی تہذیبوں نے صنفِ نازک کو ناپاک بتا کر اس کا رتبہ اور بھی کم کردیا۔ مگر اسلامی تہذیب نے عورت کو عظیم مقام دیا، بلکہ کائنات کا اہم ترین جزو قرار دیا۔عصر حاضر کی جدید علمی تہذیب نے اسے ایک اٹل حقیقت

تسلیم کر لیا ہے۔لیکن جہاں عورت کا وجود مرد کی زندگی کے نشو و ارتقاء میں ایک حسین اور مو?ثر محرک تھا، وہاں مردوں نے عورت کو ہمیشہ اپنی عیش کوشی اور عشرت پرستی کا ادنیٰ حربہ اور ذریعہ تصور کیا اور یوں معاشرے میں اس کی حیثیت ایک زر خرید کنیز کی سی بن کر رہ گئی، اقوام عالم کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی تہذیب کی تباہی ایسے حالات میں ہوئی جب عورت اپنی صحیح حیثیت کھو بیٹھی اور مرد کے ہاتھوں میں آلہ کار بن گئی۔اسلام کی آمد عورت کے لئے غلامی، ذلت اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی کاپیغام تھی۔ اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا قلع قمع کردیا جو عورت کے انسانی وقار کے منافی تھیں، اور عورت کو وہ حیثیت عطا کی جس سے وہ معاشرے میں اس عزت و تکریم کی مستحق قرار پائی جس کے مستحق مرد ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تخلیق کے

درجے میں عورت کو مرد کے ساتھ ایک ہی مرتبہ میں رکھا ہے۔ اسی طرح انسانیت کی تکوین میں عورت مرد کے ساتھ ایک ہی مرتبہ میں ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتداء) ایک جان سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا پھران دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا‘‘۔اللہ تعالیٰ کے ہاں نیک عمل کا اجر دونوں کے لئے برابر قرار پایا ہے، کہ جو کوئی بھی نیک عمل کرے گا اسے پوری اور برابر جزاء ملے گی، اس کو پاکیزہ زندگی اور جنت میں داخلے کی خوش خبری ملے گی، ارشاد ربانی ہے:’’جو کوئی نیک عمل کرے (خواہ) مرد ہو یا عورت جبکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے ضرور پاکیزہ زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے،اور انہیں ضرور ان کا اجر (بھی) عطا فرمائیں گے ان اچھے اعمال کے عوض جو وہ انجام دیتے تھے‘‘۔ (النحل، 16: 97)اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا اور پاکیزہ زندگی دنیا و آخرت میں عطا کئے جانے کی خوشخبری کو عمل صالحہ کے ساتھ مشروط کیا، جس طرح

دوسرے مقام پر عملِ صالحہ کو جنت کے داخلے اور رزقِ کثیر کے ساتھ مشروط کیا، ارشاد فرمایا:جس نے برائی کی تو اسے بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر صرف اسی قدر، اور جس نے نیکی کی، خواہ مرد ہو یا عورت اور مومن بھی ہو تو وہی لوگ جنّت میں داخل ہوں گے انہیں وہاں بے حساب رِزق دیا جائے گا۔ (سورۃ المومن، 40: 40)اسی طرح ارشاد باری ہے:’’پھر ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرما لی (اور فرمایا) یقینا میں تم میں سے کسی محنت والے کی مزدوری ضائع نہیں کرتا خواہ مرد ہو یا عورت‘‘۔ (آل عمران) اس طرح دین اسلام نے مرد و عورت کو برابر کا مقام عطا فرمایا بلکہ عورت کو وہ مقام عطا فرمایا جو کسی بھی قدیم اور جدید تہذیب نے نہیں دیا۔ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل ایمان کی جنت ماں کے قدموں تلے قرار دے کر ماں کو معاشرے کا سب سے زیادہ مکرم و محترم مقام عطا کیا، اسلام نے نہ

صرف معاشرتی و سماجی سطح پر بیٹی کا مقام بلند کیا بلکہ اسے وراثت میں حقدار ٹھہرایا، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دنیا میں عورت کے تمام روپ اور کردار کو اپنی زبانِ مبارک سے بیان فرمایا: اب جس دور میں عورت ہو، جس مقام پر ہو اور اپنی حیثیت کا اندازہ کرنا چاہے تو وہ ان کرداروں کو دیکھ کر اپنی حیثیت کو پہچان سکتی ہے۔’’عورتوں میں بہترین عورتیں چار ہیں، حضرت مریم بنت عمران علیھماالسلام، (ام المو?منین) حضرت خدیجۃ الکبریٰ علیھا السلام،حضرت سیدہ فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا اور فرعون کی بیوی آسیہ علیہاالسلام‘‘۔ان چار عورتوں کی طرف اشارہ فرما کر حقیقت میں چار بہترین کرداروں کی نشاندہی فرمادی گئی ہے اور وہ کردار جس سے اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راضی ہوئے اور اس مقام سے سرفراز فرمایا جو کسی اور کو نصیب نہ ہوا، وہ کردار کیا ہے؟ایک

ماں کا کردار حضرت مریم بنت عمران علیھا السلام ایک عظیم بیوی کا کردار حضرت خدیجہ الکبریٰ علیھا السلام۔ایک عظیم بیٹی کا کردار حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا ایک عظیم عورت کا کردار حضرت آسیہ علیہا السلام۔ان چاروں کرداروں پر نظر دوڑا کر ہر عورت اپنی حیثیت کو پہچان کر اپنے کردار کو متعین کرسکتی ہے،کہ وہ کون سے راز تھے جنہوں نے ان ہستیوں کو خیر النساء کے لقب سے سرفراز کیا؟ عورت کو معاشی طور پر مضبوط بنا کر اُس کوسماجی ظلم سے بچایا جاسکتا ہے۔ خانگی معاملات میں بھی عورت کی مجبوریوں کو فائدہ اُٹھایا جاتا ہے وجہ یہی ہے کہ عورت معاشی طور پر کمزور ہوتی ہے۔ پاکستان میں خواتیں کو ملازمت کے مواقع اتنے زیادہ نہیں مل رہے وجہ یہ ہے کہ عورت کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے موقع کم ہیں۔ نجی ادارے عورت کو مردوں کے مقابلے میں کم اُجرت دیتے ہیں۔ عورت کو دین اسلام نے جو حقوق دئیے ہیں اُن پر عمل پیرا ہو کر عورت کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکتا ہے۔