پاکستان کو لال ٹماٹروں سے ترسانے کے خواب دیکھنے والے بھارت کو منہ کی کھانا پڑگئی، پاکستان نے سستے ترین ٹماٹروں کا حل تلاش کرلیا

فیصل آباد(نیوز ڈیسک) بھارت نے پاکستان میں دراندازی کی جس کا پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا جس کے بعد بھارت نے پاکستان میں ٹماٹر نہ بھیجنے کا اعلان کیا اور کہا کہ اب پاکستان بھارت کے لال لال ٹماٹروں کو ترسے گا۔ لیکن اب پاکستانیوں کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ ان کی بھارتی ٹماٹروں سے جان چھوٹ گئی ہے۔ اس حواالے سے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ نے ہائبرڈ بیج تیار کر کے ٹماٹروں کی 10 گنا زیادہ پیداوار حاصل کرنے کا کامیاب تجربہ کر لیا۔عام کھیت میں لگنے والی فصل 20 ٹن فی جبکہ ہائبرڈ ٹیکنالوجی کے ذریعے 250 ٹن فی ہیکڑ تک پیداوار دیتی ہے۔ اور فصل بھی سارا سال حاصل کی جا سکتی ہے جس سے ٹماٹر نہ صرف ملکی ضروریات پوری کرے گا بلکہ قیمت کم

ہونے کے ساتھ ساتھ برآمد کرنے کے لیے بھی میسر ہو گا۔ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ کی ہائبرڈ ٹیکنالوجی10 سال کو نچوڑ ہے۔ اس کامیاب تجربے کے مطابق ٹماٹر کی فصل سے 20 ٹن فی ہیکڑ کی بجائے 250 ٹن فی ہیکڑ تک پیداوار حاصل کی جا سکے گی۔اور کسی خاص سیزن میں نہیں بلکہ ٹماٹر سارا سال ہی دستیاب ہو گا۔ تحقیقاتی اداہ کے ڈائریکٹر شعبہ سبزیات محمد نجیب اللہ نے کہا کہ ٹماٹر کی پیداوار دس گنا زائد ہونے سے نہ صرف ملکی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ پاکستان ٹماٹر برآمد کرنے کے قابل بھی ہو جائے گا جو کہ خوش آئند بات ہے۔ دوسری جانب حال ہی میں سامنے آنے والی بھارتی میڈیا کی رپورٹ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ پاکستان کو ترسانے کا خواب دیکھنے والا بھارت ٹماٹروں کی پاکستان کو برآمدات بند کر کے اب خود پچھتا رہا ہے۔اس ویڈیو میں موجود کسان نے بھارتی رپورٹر کو بتایا کہ ہم منڈی میں اتنا زیادہ ٹماٹر لے کر آتے ہیں لیکن ٹماٹر فروخت نہیں ہوتا ٹماٹر فروخت نہ ہونے کی وجہ سے منڈی کے اخراجات پورے نہیں ہوتے جس کی وجہ سے ہمیں کافی نقصان اُٹھانا پڑتا ہے۔ کچھ ٹماٹر صبح کے وقت تیس اور چالیس روپے میں فروخت ہو جاتا ہے جبکہ باقی بچنے والے ٹماٹر کو ہمیں مجبوراً گائے بھینسوں کے آگے ڈالنا پڑتا ہے۔حالانکہ ہم 70 ، 80 کلو ٹماٹر روزانہ کی بنیاد پر لے کر آتے ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا گیا کہ کئی کلو کے حساب سے ٹماٹر زمین پر پڑے ضائع ہو رہے تھے۔ بھارتی کسان نے اپنی حکومت کی پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ 25 کلو کے ٹماٹر کا کریٹ پانچ روپے کے حساب سے ایک سو پچیس روپے کا فروخت ہونا چاہئیے لیکن یہ 20 روپے میں فروخت ہو رہی ہے ۔بھارتی میڈیا کی یہ رپورٹ منظر عام پر آنے کےبعد سوشل میڈیا صارفین نے بھارت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بھارت نے بڑے غرور سے کہا تھا کہ ہم پاکستان کو ٹماٹر فروخت نہیں کریں گے اور بھارت لال لال ٹماٹر کو ترسے گا لیکن بھارت نے ان غریب اور بے قصور کسانوں کے بارے میں نہیں سوچا جن کے گھر کا چولہا اسی کام سے چلتا ہے۔بھارتی سرکار کی اس پابندی کے بعد کسان شدید پریشانی کا شکار ہیں جو کہ قابل افسوس ہے۔