بھٹو کا فیصلہ تاریخ کرے گی۔۔۔ تحریر: عمر منہاس

دنیا میں 60اور70کی دہائی میں بے شمار نئے لیڈر پیدا ہوئے ۔ ان میں انڈونیشیا کے سوئیکارنو ،مصر کے سادات اور جمال عبدالناصر ، انڈیا کی اندرا گاندھی ، امریکہ کے جان ایف کنیڈی ، ایران کے آیت اللہ خمینی ،سعودی عرب کے شاہ فیصل ،عراق کے صدام حسین ، کیوبا کے فیڈرل کاسترو ، برطانیہ کی مارگریٹ تھیچر ، لیبیا کے کرنل قذافی ، فلسطین کے یاسر عرفات ، ملائیشیا کے مہاتیر محمد اور جنوبی افریقہ کے نیلسن منڈیلا شامل ہیں۔ لیکن سیاسی تاریخ کے مئورخین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ذوالفقار علی بھٹو دنیا کے ان تمام لیڈرز کے بھی لیڈر تھے۔ بھٹو صاحب کا 60 اور70کی دہائی میںدنیا کے دس بڑے اور ایشیاء کے سب سے بڑے لیڈروں میں شمار ہوتا تھا ۔بھٹو صاحب کو اللہ تعالی ٰ نے بے شمار صلاحیتوں سے نوا ز رکھا تھا۔ مثلاً ان کی یاداشت حیران کن تھی۔ انہیں پوری پوری کتابیں اور چار چار سو صفحات کی کتابیں

زبانی یاد ہو تی تھیں۔ وہ ٹیبل ٹاک اور عوامی جلسوں سے ڈیل کرنے کا فن بھی جانتے تھے۔ وہ کانفرنسز اور مذاکرات کے دوران مخالفین کی شکست دے دیتے تھے۔ اور عوامی جلسوں میں لوگوں کے دل جیت لیتے تھے۔ بھٹو صاحب بے انتہا حاضر جواب تھے۔آپ ان کی حاضر جوابی کے دو واقعات ملاحظہ کریں ۔ بھٹو صاحب 1963ء میں وزیر خارجہ کی حثیت سے امریکہ کے دورے پر تھے۔ وہاں صدر جان ایف کنیڈی کے ساتھ ان کی ملاقات ہوئی۔ صدر کنیڈی بھٹو صاحب کی ذہانت سے بے انتہا متاثر ہوئے اور ان سے کہا’اگر آپ امریکہ کے شہری ہوتے تو اس وقت امریکہ کے وزیر ہوتے‘۔۔۔بھٹو صاحب نے فوراً جواب دیا’سر! اگر میں امریکہ کا شہری ہوتا تو میں امریکہ کا وزیر نہیں بلکہ امریکہ کا صدر ہوتا‘۔ کنیڈی نے بھٹو صاحب سے کہا’آپ اس وقت وائٹ ہائو س میں ہیںاور بخوبی جانتے ہیں کہ وائٹ ہائوس دنیا کا پاور ہیڈ کوارٹر ہے‘۔ بھٹو صاحب نے فوراً جواب دیا’ اور اس وقت دنیا کا پاور ہیڈ کوارٹر میرے قدموں کے نیچے ہے‘۔ بھٹو صاحب! سوتے بھی کم تھے، کھاتے بھی کم تھے اور بیوروکریسی کی سنتے بھی کم تھے۔ پاکستان کے ابتدائی تیس سال میں لیڈروں نے غریبوں، کسانوں ، مزدوروں اور ہاریوں کی بات کی۔ لیکن بھٹو صاحب پاکستان کے پہلے لیڈر تھے جنہوں نے غریبوں، کسانوں ، مزدوروں اور ہاریوں کے دکھوں کو آواز دی۔ بھٹو صاحب نے انہیں فرش سے اٹھا کر سینے سے لگایا ۔۔۔یہ ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار کے آخری دن تھے۔بھٹو صاحب کے پرانے ساتھی انہیں سمجھاتے تھے آپ احتیاط سے کام لیا کریں۔ آپ امریکہ کو یوں نہ للکارا کریں۔ امریکن انتقام کے معاملے میں بڑے سنگدل ہیں۔ آپ مزدوروں اور کسانوں کی بات نہ کیا کریں۔ سرمایہ دار دنیا آپ کو اپنا دشمن سمجھ رہی ہے۔ آپ فوج کو بھی بیرکوں تک محدود کرنے کی بات

نہ کیا کریں۔ جنرلزآپ کے گرد گھیرا تنگ کر دیں گے۔ آپ انڈیا کو بھی نہ للکارا کریںیہ آپ کے خلاف سازشیں کرے گا۔بھٹو صاحب کے ساتھی انہیں کہتے آپ ذرا سی احتیاط کرلیں۔ حالات کے ساتھ ذرا سا سمجھوتہ کرلیںتاکہ نظام چلتا رہے۔ لیکن بھٹو صاحب ہمیشہ اپنے ساتھیوں کو یہ جواب دیتے تھے کہ میرا دل بھی مجھے حالات کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ میں بھی چاہتا ہوں امریکہ کے مقابلے میں، سرمایہ داروں کے مقابلے میں ، فوج اور مذہبی جنونیت کے معاملے میں احتیاط کیا کروں۔ لیکن جب میں اس ملک کے غریب عوام کو دیکھتا ہوں تو میں بے بس ہو جاتا ہوں اور اپنے آپ سے کہتا ہوں کہ ذوالفقار!اگر تم نے بھی سمجھوتہ کر لیا تو اس غریب قوم کا مقدر کون بدلے گا۔۔۔عام انتخابات 1977ء کے بعد ملک بھر میں دھاندلی کے نام پر احتجاجی تحریک چلی۔ اس تحریک کو امریکہ سمیت سرمایہ داروں اور جرنیلوں

کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ جولائی 1977ء میں مارشل لا ء لگ گیا۔ بھٹو کو عالم اسلام کا قائد قرار دینے والے جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔بھٹو صاحب پر پہلے سے اقدام قتل میں معاونت پر درج ایک جھوٹے مقدمے کو بنیاد بنا کر سزائے موت سنا دی گئی۔۔۔بھٹو صاحب کی پھانسی سے ایک دن قبل چیف سیکریٹری مسعود نبی اور کمشنر ایف آئی ملک کے حکم پرڈپٹی کمشنر راولپنڈی سعید مہدی بھٹو صاحب کو رحم کی اپیل پر رضامند کرنے کے لیے جیل گئے۔ بھٹو صاحب اپنے سیل میں بیٹھے تھے۔ ڈی سی نے ان سے عرض کیا یہ رحم کی اپیل کا آخری دن ہے۔ آپ کل یہ اپیل نہیں کر سکیں گے۔ بھٹو صاحب نے ڈپٹی کمشنر سعید مہدی کی طرف دیکھا اور پوچھا میرا نام کیاہے۔ سعیدمہدی نے جواب دیا۔سر! آپ کا نام ذوالفقار علی بھٹو ہے۔ بھٹو صاحب نے پھر پوچھا۔ میرے والد کا کیا نام تھا۔ سعید مہدی بولے۔ ا ن کا نام

سر شاہنواز بھٹو تھا۔ بھٹو صاحب نے کہا اور قابض جنرل کا کیا نام ہے۔ سعید مہدی بولے۔ جنرل ضیا ء الحق۔۔ بھٹو صاحب دوبارہ بولے۔ اب تم اس قابض جنرل کے والد کا نام بتائو۔ مہدی صاحب نے عرض کیا۔ سر! میں نہیں جانتا۔ بھٹو صاحب نے قہقہہ لگایا اور بولیـ ’اور تم یہ چاہتے ہو کہ سر شاہنواز بھٹو کا بیٹاکسی نا معلوم کے قابض بیٹے جنرل ضیاء الحق سے زندگی کی بھیگ مانگے۔ سعید مہدی خاموش رہے۔ بھٹو صاحب پھر بولے۔ مسٹرڈپٹی کمشنر! میں اس شخص کو اپیل کا مزہ نہیں لینے دوں گا۔ میں اسے اور خود کو تاریخ پر چھوڑتا ہوں۔ بھٹو کا فیصلہ تاریخ کرے گی۔ بھٹو صاحب پھانسی چڑھے اور امر ہو گئے۔ وہ اپنی مثال آپ تھے۔پاکستا ن کی سیاسی تحریک اور تاریخ ان کے تذکرے کے بغیر نامکلمل رہے گی ۔۔۔وہ معاشرتی علوم کا باب تو نہ بن سکے مگر تاریخ کا ایک روشن باب بن گئے۔