نئے پاکستان میں گھوسٹ اسکولوں کے بعد گھوسٹ طلبابھی سامنے آگئے، خیبرپختونخواہ میں سرکاری اسکولوں میں کتنے ہزار گھوسٹ طلبا ہیں، ہوشرباانکشاف

لاہور(نیوز ڈیسک) پڑھو گے نہیں تو بڑھو گے کیسے،کچھ اسی قسم کے نعرے ہمارے سیاستدان حکومت میں آنے سے پہلے اور بعد میںمارتے نظر آتے ہیں۔تعلیم انسان کی بنیادی سہولتوںمیں سے ہے اور اس کی ذمہ داری حکومت کے کندھوں پر ہوتی ہے۔موجودہ پی ٹی آئی حکومت کے سیاسی ایجنڈوںمیں کرپشن، اور سفارشی کلچر کے خاتمے کے ساتھ عوام کو سبھی بنیادی سہولتیں دینے کے وعدے بھی کیے گئے جس میں سرفہرست تعلیم بھی شامل تھی۔خیبر پختونخوا ہ صوبے میںاب بھی پی ٹی آئی کی حکومت ہے جبکہ گزشتہ برس بھی پی ٹی آئی کی حکومت تھی۔چونکہ گزشتہ دور میں پی ٹی آئی صرف صوبہ خیبر پختونخواہ میں تھی چنانچہ اس نے اس صوبے کی حکومت کو ٹرائل کے طور پر لیااور وہاں بلین ٹری منصوبے کے علاوہ ایجوکیشن میں بھی کامیابی حاصل کرنے کی نوید سنائی۔عمران خان صاحب کئی بار اپنی تقریروں اور

میڈیا ٹاک میں یہ بات ببانگ دہل کہہ چکے ہیں کہ خیبر پختونخواہ میں ہزاروں نہیں لاکھوں نئے طلبہ کا اندراج ہوا ہے اور وہ تعلیم کی روشنی سے منور ہو رہے ہیں۔مگر آج معروف صحافی شاہزیب خانزادہ نے اپنے پروگرام میں پی ٹی آئی حکومت کے اس جھوٹ کا پردہ چاک کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تازہ ترین تعلیمی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا ہ کے 91ہزار طلبہ میں سے43ہزار طلبہ گھوسٹ ہیں۔ان طلبہ کا کسی سکول میں کوئی وجود نہیں سوائے سکول کے رجسٹر حاضری کے۔چنانچہ یہ جھوٹ پر مبنی فگرز لکھ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ گھوسٹ سکول اور گھوسٹ ملازمین کے حوالے سے تو عمران خان خوب آواز اٹھایا کرتے تھے مگر آج ان کے اپنے ہی صوبے کے سرکاری سکولوں میں گھوسٹ طلبہ کے اندراج کا انکشاف ہوا ہے تو وہ اس پر لب کشائی کرنے کے بجائے چپ سادھے ہوئے ہیں۔