ماحولیات کے شعبے میں کام کرنے والوں کیلئے خوشخبری، وزیراعظم نے بڑااعلان کردیا

اسلام آباد( پی کے نیوز) وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے سول ایوارڈز کی فہرست میں ماحولیات کی کیٹگیری کو شامل کرنے کی تجویز کی منظورکرلی، ملک میں مختلف شعبوں میں سرکاری سطح پر دیئے جانے والے سول ایوارڈز کی فہرست میں ماحولیات کی کیٹیگیری کو اس ایوارڈز کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے وفاقی وزیر موسمایتی تبدیلی زاہد حامد نے سمری پرائم منسٹر آفس بجھوائی تھی، جو وزیر اعظم محمد نواز

شریف نے منظور کرلی ہے۔ یہ سول ایوارڈ ہر سال تعلیم، صحت، صحافت، ادب، سائنس، آرٹس عوامی خدمت سمیت بارہ مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کرنے والی شخصیات کوحکومتی سطح پر دیا جاتا ہے۔  وفاقی زاہد حامد نے کہا کہ سول ایوارڈز کی فہرست کا ماحولیات کا بطور شعبہ حصہ ہونا انتہائی اہمیت کا حامل عمل ہے۔ اس سے اس شعبے میں غیر معمولی سطح پر کام کرنے والے لوگوں اور اداروں کی ملکی سطح پر پذیرائی ہوگی اور دوسروں کو ماحولیات کے بگاڑ کو روکنے میں اپنے اپنے طور پر کردار ادا کرنے کے لیے  حوصلی افزائی کرنے میں مدد ملے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے اس ماحولیات کے شعبے کو سول ایوارڈز کی فہرست میں شامل کرنے سے خود وزیر اعظم محمد نواز شریف کا ملک میں پائیدار سماجی اور معاشی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے ماحولیاتی بگاڑ کو روکنے اور ماحولیاتی مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی کی سنجیدگی کا اظہار اور عزم کا اظہار ہوتا ہے۔ زاہد حامد نے مزید کہا کہ سال 2015 میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام ہونے والی عالمی کانفرنس برائے موسمیاتی تبدیلی میں وزیر اعظم محمد نواز شریف نے اپنے اہم خطاب  میں عالمی سطح پر ماحولیاتی بگاڑ اور عالمی حدت کے باعث ہونے والی تباہ کن موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں اپنا کردار ادا کرنے کا سیاسی عزم کا اظہار کیا تھا۔ تاہم سول ایوارڈز کی فہرست میں ماحولیات کی

کیٹیگیری کا شامل ہونا اس عزم کی کڑی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت بین الاقامی سطح پر عالمی حدت کے باعث رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلی ایک اہم عالمی ماحولیتی مسئِلہ بن چکا ہے۔  پاکستان کو حالیہ کچھ برسوں سے اس موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں رونما ہونے والی شدید اور عاام ہوتی ہوئی گرمی کی لہر،سیلاب اور طوفانی بارشوں جیسی شدید تباہ کاریوں کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں سماجی، معاشی،

صحت اور تعلیم کے متعلق ترقی کے اہداف کے حصول میں رکاوٹ پیش ارہی ہے۔ ان مسائل کو حل کرنے میں مختلف لوگ اور ادارے موسمایتی تبدیلی کی قومی پالیسی برائے موسمایتی تبدیلی اپنا اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ تاہم ایسے لوگوں اور اداروں کی ملکی سطح پرحوصلہ افزائی اور پذیرائی کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگلات کی بلاتعتل کٹائی، ہوائی اور آبی آلودگی میں ہوتا ہوا اضآفہ، مختلف جنگلی حیات اور ان کے مسکن کی

بگڑتی ہوئی صورتحال، زمینی کٹاو اور خسکاو، سمندری سطح میں ہوتا ہوا اضآفہ ملک کے اہم ماحولیاتی مسائل بن چکے ہیں اور ان مسائل میں عالمی حدت کے باعث رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلی شدت آرہی ہے۔ اس سے ملکی معیشت اور سماجی  ترقی کی رفتار کو شدید خطرات لاحق ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ماحولیاتی بگاڑ کی وجہ سے ملکی معیشت کو ہرروز ایک ارب روپے کے نقصان ہورہا ہے، جس کو ہم سب کو ملکر روکنا ہے۔