دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت کا بھیانک چہرہ،بھارت میں نچلی ذات کےلوگوں کو انسانی فضلہ کھانے پر مجبور کیا جانے لگا

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں نچلی ذات کے افراد کے ساتھ انسانیت سوز سلوک ہونا عام بات ہے لیکن حال ہی میں سامنے آنے والے انکشاف نے سب کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارت میں نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو انسانی فضلہ کھانے پر مجبور کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ نوجوانوں کے ساتھ اس انسانیت سوز سلوک کے خلاف ملک میں انسانی حقوق کے رضاکار سراپا احتجاج ہیں۔میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈسٹرک کلکٹوریٹ کے سامنے احتجاج کرنے والے افراد میں شامل سماجی رضا کار ڈاکٹر بابا آدھو نے کہا کہ میں وزیراعظم نریندر مودی سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ ”ہندو دہشت گردی” کا کیس نہیں ہے؟ بھارتی میڈیا کے مطابق

نوجوانوں کے ساتھ افسوسناک سلوک ملشی تعلقہ کے گاؤں جمبھی میں پیش آیا، جہاں ہندوؤں کی نچلی ذات دلت سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ نوجوان سنیل انیل پاولے نے بھٹہ مالک سندیپ پور، اس کی اہلیہ اور برادرِ نسبتی کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی تھی۔جس پر پولیس نے مقدمے کا اندراج کر کے ملزمان کو گرفتار کیا تھا لیکن اس کے بعد تینوں ملزمان کو ضمانت پر رہا کردیا گیا۔ملزمان کی رہائی کے خلاف سماجی تنطیموں نے احتجاج کیا اور ضمانتی حکم کے خلاف پولیس سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا، سراپا احتجاج افراد نے کہا کہ وزیراعظم نے وارڈھا میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندو دہشت گردی کا کوئی وجود نہیں، ایک غریب مزدور کو اس کے مالک کی جانب سے انسانی فضلہ کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے، ہم ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ یہ غیر انسانی عمل کیا کہلائے گا؟ واضح رہے کہ عثمان آباد سے تعلق رکھنے والا سنیل انیل پاولے، بھٹہ مالک سندیپ پور کے اینٹوں کے بھٹے پر گزشتہ 2 سال سے کام کررہا تھا جبکہ اس کے اہلِ خانہ بھی بھٹے کے احاطے میں رہائش پذیر تھے۔پولیس کو درج کروائی جانے والی شکایت میں بھٹہ مزدور نے بتایا کہ وہ اور اس کے والد دوپہر کا کھانا کھا کر سُستا رہے تھے جس پر بھٹہ مالک نے آکر دوبارہ کام شروع کرنے کا کہا اور تکرار کے دوران فریقین نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا۔ تکرار کے بعد بھٹہ مالک نے اپنی بیوی سے ایک برتن میں انسانی فضلہ لانے کا کہا، جو وہ لے آئی۔ بھٹہ مزدور نے بتایا کہ میرے بُری طرح مشتعل ہو کر مجھے اتنا خوفزدہ کردیا تھا کہ میں انسانی فضلے میں سے تھوڑا سا کھانے پر مجبور ہوگیا۔ اس واقعہ کے بعد بھٹہ مزدور اور اس کے اہل خانہ اپنا گھر چھوڑ کر رشتہ داروں کے گھر منتقل ہوگئے تھے۔