وزارت بلدیات نہیں بلکہ فیاض الحسن چوہان کو کونسی اہم وزارت دی جارہی ہے، اندر کی خبر سامنے آگئی

لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی خاور گھمن نے کہا کہ پچھلے دنوں جب وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے اپنے حوالے سے ایک پیکج پنجاب اسمبلی میں پیش کیا تو اس پر وزیراعظم عمران خان کا خاصا سخت رد عمل آیا۔ عثمان بزدار کو تبدیل کرنے کی خبریں بھی تھیں لیکن اُس وقت میں نے خبر بریک کی تھی کہ عثمان بزدار کو تبدیل نہیں کیا جا رہا البتہ انہیں ایک فائنل چانس دے دیا گیا ہے۔اور عثمان بزدار کو کہاگیا تھا کہ آپ پنجاب میں جو بھی کرنا چاہتے ہیں ، جس طرح کی بھی گورننس کرنا چاہتے ہیں مجھے صرف اور صرف رزلٹ چاہئیے۔ وزیراعلیٰ پنجاب اپنی ذمہ داریوں کے لیے کسی اور کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے۔ پنجاب میں بیوروکریسی کی جو تبادلے اور تقرریاں ہوئی ہیں اس حوالے سے یا تو عثمان

بزدار کو کہہ دینا چاہئیے کہ انہوں نے کسی سے ڈکٹیشن لی ہے۔کیونکہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں اور کچھ بھی ان کے حکم اور ان کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اس حوالے سے کچھ اہم تقرریاں بھی ہوئی ہیں جیسے پنجاب کی بیوروکریسی سنبھالنے والے عبداللہ سنبل مسلم لیگ ن کی حکومت کے دوران لاہور کے کمشنر رہ چکے ہیں جن کو اب سیکرٹری سروسز مقرر کر دیا گیا ہے جو پنجاب کی بیوروکریسی کو سنبھالیں گے۔ خاور گھمن نے کہا کہ ہوم سیکرٹری تعینات کیے جانے والے سید علی مرتضیٰ رضا زراعت کے محکمہ میں تھے لیکن اب انہیں ہوم سیکرٹری مقرر کر دیا گیا ہے۔ایک اور اہم بات یہ ہے کہ محمد شعیب نامی جس شخص کو پرنسپل سیکرٹری بنایا گیا ہے وہ صاحب 8 سال تک ہوم سیکرٹری رہ چکے ہیں اور اب خبر یہ ہے کہ فیاض الحسن چوہان کو سماجی بہبود کا قلمدان دیا جا رہا ہے۔