پاکستان میں صدارتی نظام کی افواہیں۔۔۔تحریر:عمر منہاس

پاکستان میں اس وقت پارلیمانی نظام حکومت نافذ ہے ۔ ماضی میں اس نظام حکومت کو صدارتی چھتری میں لانے کی دو بڑی کوششیں ہو چکی ہیں۔ پہلی کوشش جنرل ضیاء الحق اور دوسری کوشش جنرل پرویز مشرف نے کی تھی۔ جنرل ضیاء الحق نے آٹھویں ترمیم کے ذریعے صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار دیا۔ جس کے تحت جنرل ضیا ء الحق، غلام اسحاق خان اور فاروق لغاری نے بطور صدر چار اسمبلیاں تحلیل کیں۔ تاہم نواز شریف جب دوسری بار وزیر اعظم بنے تو انہوں نے یہ صدارتی اختیار ختم کر دیا۔ جنرل مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد جب تین سال بعد 2002ء میں انتخابات کروائے تو انہوں نے ایم ایم اے کی مدد سے سترھویں ترمیم منظور کروالی ۔ جس کے

تحت صدر کو اسمبلی توڑنے کا ا ختیار دوبارہ حاصل ہو گیا۔ تاہم اٹھارہویں ترمیم کے بعد ایک بار پھر یہ صدارتی اختیار ختم کر دیا گیا۔ آج کل پھریہ بحث اور افواہیں عروج پر ہیں کہ پاکستان کے مسائل کا حل موجودہ پارلیمانی نظام حکومت میں نہیں بلکہ ایک ایسے صدارتی نظام حکومت میں ہے جہاں صدر براہ راست منتخب ہو اور ممبران قومی اسمبلی اسے بلیک میل کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں۔ صدارتی نظام کی حمایت کرنے والے دلیل کے طور پر فوجی آمروں کے دور حکومت کو صدارتی نظام حکومت کہہ کر ان کے دور میں ہونے والی ترقی کی کہانیاں بیان کر رہے ہیں ۔ اس بحث میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جو موجودہ حکومت کے قریب تر ہیںیا پھرجن کے لیے موجودہ پارلیمانی نظام میں اوپر آنے کا موقع نہیں۔مثال کے طور پر ڈاکٹر عطا ء الرحمان ان میں سے ایک ہیں جو قائد اعظم کی ڈائریوں میں سے ایسے حوالے ڈھونڈ لائے ہیں کہ وہ ملک میں صدارتی نظام حکومت چاہتے تھے۔ وہ چاہتے ہیں کہ جنرل ضیا ء الحق جیسا کوئی شخص آ جائے اور انہیں حکومت میں شامل کر لے۔ خود وزیر اعظم عمران خان صاحب کے اگر ماضی کے بیانات کو دیکھیں تو وہ بھی جس طرح جنرل ایوب خان کی خوبیاں اور ان کے دور اقتدار کی معاشی کامیابیاں گنواتے ہیں وہ اس بات کی غماز ہے کہ وہ بھی اس نظام کے مداح ہیں۔۔۔جنرل ایوب خان ان کے ہیر وہیں اور وہ اس دور کو سنہری دور قرار دیتے ہیں۔آخر ایوب خان کے انتہائی آمرانہ اور انتہائی نابرابری کے دست نگر ’معاشی ترقی ‘ کے ماڈل میں ایسا کیا تھاجس کی صدارتی فیضیابیوں کے لیے اتنی تڑپ دکھائی جا رہی ہے۔ ایوب خان کا صدارتی نظام انتہائی آمرانہ ہونے کے باوجود اتنا بوسید ہ تھا کہ جب محترمہ فاطمہ جناح نے ان کی آمریت کو چیلنج کیا تو محترمہ فاطمہ جناح کی فتح کو دھونس اور دھاندلی

سے شکست میں تبدیل کر دیا گیا۔آپریشن جبرالٹر کے ذریعے کشمیر کو آزاد کروانے کے لیے ملٹری ایڈونچر کا سہار ا لینا پڑا جو 1965 ء کی جنگ کی صورت میں نکلا۔ایوب خان کو حق بالغ رائے دہی، پارلیمانی جمہوریت ، شراکتی وفاق اور ون یونٹ کے خاتمے کے عوامی مطالبات کو ماننا پڑا۔طبقاتی و علاقائی نا برابری کی بنیاد پر اجارہ داریاں مسلط کی گئیں۔ سارا زور در آمدی متبادل صنعت پر تھا نہ کہ مضبوط صنعتی بنیاد اور برآمدی صلاحیت پر۔۔۔نتیجے کے طور پر 76فی صد صنعت 43گھرانوں میں، نوے فیصد سے زائد بینک ڈیپازٹس سات خاندانوں میں اور تمام مالیاتی ادارے 43خاندانوں کے پاس چلے گئے۔ امریکہ کا اتحادی بننے سے جو سہولیات ملیں اس سے ہم امریکہ کی جدید لے پاک

نوآبادی بن گئے ۔ ہم قرض کے شکنجے اور مستقل خسارے کے گورکھ دھندے میں ایسے پھنسے کہ آج تک نکل نہ سکے۔زراعت میں سبز انقلاب کی جو حکمت عملی اختیار کی گئی اس کا استفادہ صرف بڑے زمینداروں، کاشتکاروں اور سرمایہ داروں کے لیے تھا۔۔۔تربیلا اور منگلا ڈیم بن تو گئے لیکن تین دریا بھارت کو بیچ کر۔۔۔ایوب خان کے عہد کا عشرہ ترقی منایا جا رہا تھا کہ ایک باغی (حبیب جالب) صدا نے بھی سہمی فضائوں کا پیر ہن تار تار کردیا:۔بیس گھرانے ہیں آباد اور کروڑوں ہیں ناشاد۔۔ہم پر اب تک جاری ہے کالی صدیوں کی داد۔۔ صدر ایوب زندہ باد۔۔ بیس روپے من آٹا اس پر بھی ہے سناٹا۔۔۔وہر، سہگل ، آدم جی بنے ہیں برلا اور ٹاٹا۔۔۔ملک کے دشمن کہلاتے ہیں جب ہم کرتے ہیں

فریاد۔۔ صدر ایوب زندہ باد۔ شاید اس کی سب سے بڑی وجہ تحریک انصاف کی حکومت کے پاس صرف 6ووٹوں کی اکثریت ہے ۔ اس حکومت کی سب سے بڑی ضامن ملک کی اسٹیبلشمنٹ ہے جو اس حکومت کا ساتھ دے رہی ہے۔ اور اسٹیبلشمنٹ کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ ملک میں ایک صدارتی نظام ہو تاکہ ان کو صرف ایک ہی شخص کے ساتھ ڈیل کرنا پڑے۔۔۔لیکن پاکستان میں صدارتی نظام لانا اتنا آسان نہیں ہے جنتا بظاہر دکھائی دے رہا ہے۔ حکمران جماعت کو صدارتی نظام لانے کے لیے آئینی ترمیم کی ضروت ہو گی۔ جس کے لیے تحریک انصاف کے پاس مطلوبہ تعدادی اکثریت نہیں ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت اتحادیوں اور الیکٹیبلز کے سہارے کھڑ ی ہے اور ان موسمی

پرندوں کے بارے میں کوئی بھی بات وثوق سے نہیںکہی جا سکتی کہ وہ کب اپنی ہمدردیاں بدل لیں۔اپوزیشن حکمران جماعت سے زیادہ مضبوط ہے ۔ وزیر اعظم اور ان کے مشیروں کی جانب سے کسی بھی قسم کی مہم جوئی ان کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہے ۔اس وقت ہمارے ملک کو شدید قسم کے مسائل کا سامنا ہے ۔ حکومت کو بجلی، پانی، گیس ، مہنگائی، بے روزگاری، بجٹ خسارے اور بیرونی قرضوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ معیشت ہے۔ اس ملک کا بچائو معیشت پر ہے اور حکومت کو اس طرح کی بحثوں میں پڑنے کی بجائے اصل مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اس لیے بہتر ہے نظام کی تبدیلی کی بجائے کارکردگی پر دھیان دیا جائے ، سوشل میڈیا پر سرکار چلانے کی بجائے اصلاحات پر زور دیا جائے ، ٹوئٹر کی دنیا سے نکل کر عوام سے ناطہ جوڑاجائے ۔ خدانخواستہ حکومت کی ناکامی کہیں نظام کی ناکامی نہ بن جائے کیونکہ پاکستان نئے تجربوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔