تبدیلی مذہب کے حوالے سے قانون، محرکات اور حقائق ،صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی

ہندو مذہب ایسا مذہب ہے جس میں کروڑ سے بھی زیادہ خدا ہیں۔ ذات پات کی تقسیم کی وجہ سے ہندو مزہب میں چھوٹی ذات کے ہندووں کا جینا دوبھر ہے۔ شودر دلت کی مثالیں سب کے سامنے ہیں۔ میڈیا میں اچانک شور اُٹھا کہ سندھ کے علاقے گھوٹکی سے مبینہ طور پر دو ہندو لڑکیاں اغواء ہوگئی ہیں۔ لڑکیوں کے لواحقین کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ اغواء ہونے والی لڑکیوں کو زبردستی اسلام قبول کروایا جائے گا۔ اس شور پر وزیراعظم نے بھی فوری نوٹس لیا اور متعدد گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں تاہم معاملہ عدالت پہنچ چکا ہے۔ یہ پہلا واقعہ نہیں کہ ہندو لڑکیوں کے فرار کو اغواء کا نام دیا گیا ہو۔ اِن سے قبل بھی بہت سی ہندو لڑکیاں گھروں سے بھاگ کر آئیں، اسلام قبول کیا اور مسلمان لڑکوں سے شادیاں کیں۔ اب مسلمان ہونے والی روینا نے اپنا نام آسیہ اور رینا نے شازیہ رکھ لیا ہے۔ روینا کا نکاح صفدر جبکہ رینا کا برکت سے ہو چکا

ہے۔دونوں لڑکیوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ وہ بغیر کسی دباؤ کے مسلمان ہوئی ہیں اور انہوں نے مرضی سے شادی کی ہے۔ دونوں لڑکیاں اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئیں۔ دونوں بہنوں کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انہوں نے مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور اپنی پسند سے ہی شادی ہے، اب انہیں جان کا خطرہ ہے، تحفظ فراہم کیا جائے۔جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی جس میں دونوں نو مسلم بہنیں عدالت میں اپنے وکلاء کے ہمراہ پیش ہوئیں۔ اس دوران جسٹس صاحب نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو روسٹرم پر طلب کیا۔ فاضل جج نے ریمارکس جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ حساس معاملہ ہے، جس سے پاکستان کا تشخص جڑا ہے۔ نبی پاکﷺ کے فتح مکہ اور خطبہ حجۃ الوداع پر دو خطاب ہیں اور دونوں خطاب اقلیتوں سے متعلق قانون و آئین کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ یہ ملک کے امیج کا معاملہ ہے، لڑکیوں کو ڈپٹی کمشنر کے حوالے کر رہے ہیں، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو گارڈین مقرر کر رہے ہیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں کو شیلٹر ہوم یا دیگر جگہوں پر رکھا جا سکتا ہے اور ایس پی لیول کی افسر بچیوں کی حفاظت کیلیے تعینات کی جائے۔ یہ لڑکیاں کیوں بھاگیں؟ حقائق کیا ہیں؟ اور میڈیا اسے کیوں اچھال رہا ہے؟ یہ سوالات اپنی جگہ اہم ہیں، جن کے جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ان دونوں بہنوں کا تعلق ہندوؤں کی انتہائی نچلی ذات بھگیواڑ سے ہے۔ ہندوؤں میں غربت بہت زیادہ ہے۔ دوسرا وہاں کے امیر ہندو اپنی ہی برداری کے غریب ہندوؤں کے ساتھ جو سلوک روا رکھتے ہیں وہ تشویشناک ہے۔ ہندوؤں میں کزن میرج نہیں ہوتی، اور بھاری جہیز کے بغیر بھی کوئی رشتہ نہیں لیتا۔ اس لیے غریب گھرانوں کی لڑکیاں

اچھی زندگی کے خواب آنکھوں میں سجائے یہ راستہ اختیار کرتی ہیں۔ مذہب تبدیل کر کے انہیں عزت بھی مل جاتی ہے اور دولت بھی جبکہ ایک خاندان چھوڑنے کے بدلے پورے ملک میں انہیں احترام دے کر اپنوں کا پیار دیا جاتا ہے؛ جس سے ان کا اسلام کی جانب راغب ہونا ایک فطری امر ہے۔ جہاں تک یہ سوال ہے کہ صرف لڑکیاں ہی اسلام کیوں قبول کرتی ہیں، لڑکے کیوں نہیں؟ تو یہ صرف میڈیا کا پروپیگنڈا ہے۔ لڑکیوں کی نسبت لڑکے زیادہ اسلام قبول کرتے ہیں اور بعض اوقات تو خاندان کے خاندان اسلام قبول کر لیتے ہیں۔ مگر ہمارا میڈیا انہیں نمایاں نہیں کرتا، کیوں کہ میڈیا میں این جی اوز کا اثر و رسوخ بھی ہے اور این جی اوز کو ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت ہی ایسے ایشوز اٹھانے

ہوتے ہیں۔ غیر مسلم کے مسلم ہونے کے حوالے سے اسلام کا حکم کیا ہے۔حضور نبی اکرم نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر پوری نسل انسانی کو عزت، جان اور مال کا تحفظ فراہم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس مہینے میں اور تمہارے اس شہر میں (مقرر کی گئی) ہے۔یہاں تک کہ تم اپنے رب سے ملو گے۔‘‘(بخاری شریف)لہٰذا کسی بھی انسان کو نا حق قتل کرنا،اس کا مال لوٹنا اور اس کی عزت پر حملہ کرنا یا اس کی تذلیل کرنا دوسروں پر حرام ہے۔غیر مسلم شہری کے قاتل پر جنت حرام ہے:حضرت ابو بکر ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم نے ارشاد فرمایا:’’جو مسلمان کسی غیر مسلم شہری (معاہد) کو نا حق قتل کرے گا اللہ تعالیٰ اُس پر جنت حرام فرما دے گا۔‘‘(نسائی شریف)حدیث میں معاہد کا لفظ

استعمال کیا گیا جس سے مراد ایسے غیر مسلم شہری ہیں جو معاہدے کے تحت اسلامی ریاست کے باسی ہوں یا ایسے گروہ اور قوم کے افراد ہیں جنہوں نے اسلامی ریاست کے ساتھ معاہدہ امن کیا ہو۔ اسی طرح جدید دور میں کسی بھی مسلم ریاست کے شہری جو اُس ریاست کے قانون کی پابندی کرتے ہوں اور آئین کو مانتے ہوں معاہد کے زمرے میں آئیں گے۔ جیسے پاکستان کی غیر مسلم اقلتیں جو آئین پاکستان کے تحت با قاعدہ شہری اور رجسٹرڈ ووٹر ہیں۔ پاکستان کے آئین و قانون کو پاکستان کی مسلم اکثریت کی طرح تسلیم کرتے ہیں یہ سب معاہد ہیں۔پاکستان کے وقت سے ہی اس مملکت کے شہریوں کی طرح تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے وقت سے ہی اس مملکت کے شہری تھے اور ہیں۔اس لئے جدید تناظر میں معاہد کا ترجمہ ہم نے غیر مسلم شہری کیا ہے۔ (فیض القدیرللمناوی)حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

حضور نبی اکرم نے فرمایا:جس نے کسی غیر مسلم شہری (معاہد) کو قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گاحالانکہ جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت تک محسوس ہوتی ہے۔‘‘(صحیح بخاری)گویا کسی غیر مسلم کا نا حق قتل کرنے والا جنت کے قریب بھی نہیں جا سکے گا بلکہ اسے جنت سے چالیس برس کی مسافت سے بھی دور رکھا جائے گا۔ فیض الباری میں اس حدیث کی تشرح اس طرح بیان ہوئی ہے کہ:’’آپ کا فرمان ہے۔ جس نے کسی غیر مسلم شہری کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا۔ اے مخاطب!حدیث کا لب لباب تجھے قتلِ مسلم کے گناہ کی سنگینی بتا رہا ہے کہ اس کی قباحت کفر تک پہنچا دیتی ہے جو جہنم میں دخول کا باعث بنتا ہے جبکہ غیر مسلم شہری کو قتل کرنا بھی کوئی معمولی گناہ نہیں ہے۔اس طرح اس کا قاتل بھی جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا۔ (جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ

جہنم میں ڈالا جائے گا۔)‘‘ حسن سلوک سے پیش آئے۔ مجھے تبدیلی مذہب کے بل پر شدید اعتراض ہے اور حیرت ہے کہ ممبران سندھ اسمبلی نے کس طرح یہ قانون سازی کرلی ہے کسی بھی انسان کو مذہب تبدیل کرکے اسلام قبول کرنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے یہ تاثر بھی غلط ہے کہ لوگ مذہب تبدیل کرکے مسلمان ہوتے ہیں بہت سے لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ پاکستان میں بہت سے مسلمان بھی مرتد ہوکر عیسائی مذہب بھی قبول کرلیتے ہیں بہت سے چرچ بھی عیسائی مذہب قبول کرنے کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں نادرا سے اس ریکارڈ کی تصدیق سرکاری ذرائع سے بھی کی جاسکتی ہے۔ سندھ اسمبلی نے اقلیتوں کے حقوق کے نام پر تبدیلی مذہب کا ایک قانون منظور کیا ہے، جس کا خلاصہ درج ذیل ہے: ۱)۔۔۔ کوئی بھی شخص 18 سال سے کم عمر میں مذہب تبدیل نہیں کر سکے گا، اگر اس نے اسلام قبول کر بھی لیا، تو

پھر بھی وہ نو مسلم 18 سال تک غیر مسلم ہی تصور کیا جائے گا۔ ۲)۔۔۔ 18 سال کی عمر میں مذہب تبدیل کرنے والے شخص کو 21 روز تک حفاظتی تحویل میں رکھا جائے گا، اُسے مذہب کے تقابلی مطالعہ کا موقع دیا جائے گا تاکہ وہ اپنا مذہب تبدیل نہ کرے اور اُسے تسلی وتشفی ہو جائے، اس کے باوجود اگر تبدیلء مذہب چاہتا ہے تو قانوناً اسے مذہبِ نو میں رجسٹرڈ کیا جائے گا۔ ۳)۔۔۔18سال سے زائد عمر کا کوئی شخص چاہے مرد ہو یا عورت، اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کرنے کی اجازت نہ ہو گی۔۴)۔۔۔کسی نو مسلم کا نکاح پڑھانے والے یا کسی نو مسلم کو پناہ دینے والے شخص کو کم ازکم پانچ سال یا عمر قید کی سزا دی جائے گی اور ان کی ضمانت بھی منظور نہ ہو گی۔ ۵)۔۔۔ اسلام قبول کرنے والے شخص کے بارے میں میڈیا کوریج پر پابندی ہو گی۔۶)۔۔۔نو مسلموں کے کیس کی سماعت اِن کیمرا اور مقدمات خصوصی کورٹ

میں ہوں گے، جو 90 روز کے اندر فیصلہ سنانے کی پابند ہو گی۔۷)۔۔۔ مذکورہ بالا قانون کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کو تین سال سے عمر قید تک سزا دی جا سکے گی۔مذکورہ بالا قانون کو سندھ اسمبلی نے منظور کر لیا ہے جبکہ اسی سے ملتا جلتا ایک بل اقلیتی رکن نے مورخہ 3دسمبر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں پیش کیا، جسے کمیٹی نے کثرت رائے کے ساتھ اس لئے مسترد کر دیا کہ زبردستی تبدیلء مذہب کا کوئی کیس رجسٹرڈ نہیں ہوا۔ مزید برآں یہ 18 ویں ترمیم کے بعدیہ صوبائی معاملہ ہے، اگر اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے نہ صرف یہ کہ اس کی مذمت کریں گے بلکہ کمیٹی از خود نوٹس بھی لے گی۔ یہ بات جاننا ضروری ہے وہ کیا اسباب ومحرکات ہیں، جن کی بنیاد پر آئین پاکستان اور شریعتِ اسلامیہ کا خون کیا گیا، نئی رِیت ڈال کر چودہ صدیوں کی تاریخ میں اس قانون کے ذریعے ایک سیاہ باب کا اضافہ

کیا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان اور پاکستان جیسے دیگر ترقی پذیر ممالک اپنی کمزور داخلہ وخارجہ پالیسوں، غیر ملکی احتیاج، اقتصادی زبوں حالی اور مرعوب ذہنیت کی وجہ سے اسلام دشمن عالمی قوتوں کے دباؤ میں نہ یہ کہ صرف اپنے مذہب، ثقافت، معاشرت، اخلاق کا خون کر رہے ہیں بلکہ اپنے ملکوں کے امن، اقتصادیات اور آئین، دستور کو بھی داؤ پر لگائے ہوئے ہیں۔ غیر ملکی آقاؤں کی خوشنودی اور مفادات کے حصول کے لئے ہمارے حکمران حقائق سے آنکھیں موندھ کر دینی وعوامی اُمنگوں کو روندتے ہوئے ’’جی حضوری‘‘ میں لگے رہتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد یہ سلسلہ پہلے سے کہیں زیادہ ہو گیا ہے۔نائن الیون کے بعد اسلام دشمنی کا مخفی عنصر نہ صرف نمایاں ہوا بلکہ عفریت بن کر دینا پہ چڑھ دوڑا۔ اسلام اور قرآنی تعلیمات کا استہزاء، احکامِ اسلام کی تضحیک، اسلامی اقدار کی بزور

وزَر پامالی، اسلامی ممالک میں خانہ جنگی، پرامن ملکوں میں دہشت گردی، مذہبی طبقہ پر یلغار، مدارس کے خلاف پروپیگنڈا، دینی جماعتوں کے اثر ونفوذ کو روکنا، اسلامی ثقافت کے خاتمہ کی تدابیر، فحاشی عریانی کا فروغ، این جی اوز کے ذریعہ ترکِ اسلام اور اِرتدار کی مہم، گستاخانہ خاکے، فلمیں، گستاخوں کی حوصلہ افزائیاں، اسلامی ممالک کے حکمرانوں سے آنکھیں دکھا کر اسلام کے خلاف قانون سازی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ صاحبِ عقل ودانش جانتے ہیں کہ پاکستان مسلم آبادی پر مشتمل ملک ہے۔ اسلام اس کا سرکاری مذہب اور اسلامیہ اس کے نام کا حصہ ہے۔ اسلام اس کے دستور وآئین کے ماتھے کا جھومر اور اس کی پہچان ہے۔ یہ ملک اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آیا اور دو قومی نظریہ کو اس کی اساس بنایا گیا۔ ظاہر ہے کہ بل کا پس منظر غیر مسلموں کو اسلام سے روکنا اور اسلام میں داخلہ کو مسدود یا مشکل

بنانا ہے۔ راہِ اسلام سے انسانیت کو روکنا قرآن کریم کی نظر میں بدترین جرم ہے۔ ذیل میں اسلام سے روکنے کے متعلق چند آیاتِ قرآنیہ پیش کی جا رہی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ راہِ اسلام سے دوسروں کو منع کرنا کافرانہ اور منافقانہ رَوَش ہے:۱)۔۔۔ قُلْ یَا أَہْلَ الْکِتَابِ لِمَ تَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ مَنْ آمَنَ تَبْغُونَہَا عِوَجاً وَأَنتُمْ شُہَدَاء وَمَا اللّہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُون۔(سورہ آل عمران: ۹۹) ’’کہہ دو: ’’اے اہل کتاب! اللہ کے راستے میں ٹیڑھ پیدا کرنے کی کوشش کر کے ایک مومن کے لئے اس میں کیوں رُکاوٹ ڈالتے ہو جبکہ تم خود حقیقتِ حال کے گواہ ہو؟ جو کچھ تم کر رہے ہو، اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔‘‘۲)۔۔۔ الَّذِیْنَ یَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ وَیَبْغُونَہَا عِوَجاً وَہُم بِالآخِرَۃِ کَافِرُون۔(سورۃ الاعراف: ۵۴) ’’جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے تھے اور اُس میں ٹیڑھ نکالنا چاہتے تھے اور جو آخرت کا بالکل انکار کیا کرتے تھے۔‘‘ ۳)۔۔۔ وَلاَ تَقْعُدُواْ بِکُلِّ

صِرَاطٍ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ مَنْ آمَنَ بِہِ وَتَبْغُونَہَا عِوَجاً وَاذْکُرُواْ إِذْ کُنتُمْ قَلِیْلاً فَکَثَّرَکُمْ وَانظُرُواْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْن۔(سورۃ الاعراف: ۶۸)’’اور ایسا نہ کیا کرو کہ راستوں پر بیٹھ کر لوگوں کو دھمکیاں دو، اور جو لوگ اللہ پر ایمان لائے ہیں، ان کو اللہ کے راستے سے روکو، اور اس میں ٹیڑھ پیدا کرنے کی کوشش کرو۔ اور وہ وقت یاد کرو جب تم کم تھے، پھر اللہ نے تمہیں زیادہ کر دیا، اور یہ بھی دیکھو کہ فساد مچانے والوں کا انجام کیسا ہوا ہے۔‘‘ ۴)۔۔۔ إِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ یُنفِقُونَ أَمْوَالَہُمْ لِیَصُدُّواْ عَن سَبِیْلِ اللّہِ فَسَیُنفِقُونَہَا ثُمَّ تَکُونُ عَلَیْْہِمْ حَسْرَۃً
’’جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ اپنے مال اس کام کے لئے خرچ کر رہے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکیں۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ یہ لوگ خرچ تو کریں گے، مگر پھر یہ سب کچھ ان کے لئے حسرت کا سبب بن جائے گا، اور آخر کار یہ مغلوب ہو جائیں گے۔ اور (آخرت میں)

ان کافر لوگوں کو جہنم کی طرف اکٹھا کر کے لایا جائے گا۔‘‘ ۵)۔۔۔ وَلاَ تَکُونُواْ کَالَّذِیْنَ خَرَجُواْ مِن دِیَارِہِم بَطَراً وَرِئَاء النَّاسِ وَیَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ وَاللّہُ بِمَا یَعْمَلُونَ مُحِیْطٌ۔(سورۃ الانفال: ۷۴)’’اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو اپنے گھروں سے اَکڑتے ہوئے، اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے تھے، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روک رہے تھے۔ اور اللہ نے لوگوں کے سارے اعمال کو (اپنے علم کے) احاطہ میں لیا ہوا ہے۔‘‘۶)۔۔۔الَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّونَ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا عَلَی الآخِرَۃِ وَیَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ وَیَبْغُونَہَا عِوَجاً أُوْلَئِکَ فِیْ ضَلاَلٍ بَعِیْدٍ۔(سورہ ابراہیم:۳)’’وہ لوگ جو آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں، اور دوسروں کو اللہ کے راستے پر آنے سے روکتے ہیں، اور اُس میں ٹیڑھ تلاش کرتے رہتے ہیں! وہ پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔‘‘ اس نئے منظور شدہ قانون کی وجہ سے جتنے بھی نوجوان اسلام

سے دور رہیں گے، اس کا وبال کس پر ہو گا؟ حکمران ذرا اپنے گریبان پر جھانک کر سوچیں کہ وہ روزِ محشر اللہ اور اس کے رسول سے آنکھیں ملا سکیں گے؟ اگر غیر مسلموں کا ہاتھ حکمرانوں کے گریبانوں تک پہنچا اور حق تعالیٰ کے دربار میں ان غیر مسلموں نے اپنے آپ کو اسلام سے دور رکھنے کا ذمہ دار ان حکمرانوں کو قرار دیا، تو انجام کیا ہو گا؟ قارئین کرام! بچے عموماً15سال سے 21 سال جبکہ بچیاں9سال سے13سال کی عمر تک بالغ ہو جاتی ہیں۔ یہ عمر شعور وفہم کی عمر ہے۔ یہ بچے اگر مطالعہ وعلم کی بنیاد پر اپنے بالغ ہونے کے بعد ۸۱ سال سے کم عمر میں اسلام لانا چاہیں اور حکومت انہیں اس سے منع کرے، منع کرنے کے باوجود بھی عاقل وبالغ افراد حلقہ بگوشِ اسلام ہو جائیں، تو حکومت انہیں پابندِ سلاسل کر دے تو وہ عمر قید کے مستحق ٹھہر کر ایک اسلامی ملک میں اسلام لانے کے جرم میں

زندگی بھر جیل میں پڑے رہیں، اس سے بڑی شرمناک بات کیا ہو گی؟ اصحابِ رسول ﷺ اور اہل بیتِ اطہار کی سیرت مبارکہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہزاروں بچے حلقہ بگوش اسلام ہو کر اسلام کے عظیم داعی، مبلغ، مجاہد اور سپہ سلار بنے۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ کی بوقتِ اسلام عمر مبارک صرف 10 سال تھی۔ سیدنا معاذؓ بن غفراء اور سیدنا معاذؓ بن عمرو بچے ہی تو تھے، جنہوں نے ابوجہل فرعونِ اُمت کو جہنم رسید کیا تھا۔ سیدنا انس بن مالکؓ خادمِ رسول ﷺ کی عمر مبارک وصالِ نبوی کے وقت صرف 10 سال تھی۔ ترجمان القرآن، مایہ ناز مفسر حضرت عبداللہ بن عباسؓ بھی وصالِ نبوی کے وقت صرف 10 سال کے تھے۔ حضرت عمیر بن سعد، حضرت عمیر بن وقاص، حضرت سلمہ بن اکوع جیسے جلیل القدر صحابہ بھی قبولِ اسلام کے وقت کم عمر ہی تھے۔