نقد فریادی اور کاغذی پیرہن۔۔۔سعد اللہ جان

کبھی کبھی ہم حیران، انگشت بہ دندان اور ناطقہ سر بگریباں ہونے کے ساتھ ساتھ ’’بال پن بہ کان‘‘ بھی ہوجاتے ہیں کہ مرشد مرزا اسداللہ خان غالبؔ کیا غضب کے دوربین، مستقبل بین اور خورد بین تھے اب دیکھیے نا۔ یہ جو کہا ہے کہ’’نقد‘‘ فریادی ہے کس کی شوخئی تحریر کا۔۔کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا۔۔ہاں پہلے تویہ وضاحت ضروری ہے کہ مرشد کی لکھاوٹ بڑی خراب تھی کیونکہ جیسی کسی کی قسمت ہوتی ہے ویسی ہی لکھاوٹ بھی ہوتی ہے۔ بلکہ شخصیت بھی شمار کر لیجیے جس کا ثبوت ڈاکٹروں کی لکھاوٹ ہے کہ صرف ان کے اپنے تربیت یافتہ میڈیسن والے ہی اسے سمجھ پاتے ہیں۔ عام و خواص کے لیے ڈاکٹر خود اور اس کی لکھاوٹ معمے سے کم نہیں ہوتی۔چنانچہ مرشد کی شاعری میں بھی کتابت کی بہت غلطیاں ہیں جنھیں ہم آہستہ آہستہ صحیح کر رہے ہیں۔ مذکورہ بالا شعر میں بھی اصل لفظ ’’نقد‘‘ ہی تھا۔

کیونکہ باقی سارے الفاظ صرف ’’نقد‘‘ کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ ’’نقش‘‘ کے ساتھ، نقش تو نقشے جیسی کوئی چیز ہو گی جس میں ’’تحریر‘‘ اور پھر شوخئی تحریر کی گنجائش نہیں ہوتی ہے کیونکہ ناک نقشہ، نین نقش۔ اور نقش سلیمانی اور نقش پا میں لفظ ’’نقش‘‘ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ہر ایک نقش پہ ہے تیرے نقش پا کا گمان۔قدم قدم پہ تری رہگزر سے گزرے ہیں۔۔’’نقد‘‘ کا قرینہ اس لیے بھی ہے کہ مرشد عمر بھر نقد کے فریادی رہے تھے۔ سارا کاروبار پاکستان کی طرح قرضے پر چلتا تھا اور کبھی کبھی نادہندگی میں ماخوذ ہو کر عدالتوں میں بھی گھسیٹے جاتے تھے۔اور یہ تو اصول ہے کہ جس کے پاس جو کوئی چیز نہیں ہوتی وہ اس کے گن گاتا ہے جیسے پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ کسی جگہ دو ’’میلے شخص‘‘ اکٹھے ہوئے جو سرتا سر کچیلے بھی تھے اور دونوں صابن کے گن گاتے رہے اور مرشد بھی نقدی کے معاملے میں ہوبہو ہم پر گئے تھے۔درہم ودام اپنے پاس کہاں۔۔چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں۔۔اس لیے یہاں صحیح لفظ ’’نقد‘‘ ہے جو کتابت کی غلطی سے’’نقش‘‘ ہو گیا ہے، پڑھنے والے نوٹ کریں اور سرکاری کاغذات میں ’’نوٹس‘‘ لے کر نوٹ کیا جائے۔ کہ آیندہ لفظ ’’نقد‘‘ ہی پڑھا اور لکھا جائے گا جو حسب مقام اور حسب دام بھی ہے کہ ہمارے ہاں ’’نقد‘‘ کا آج کل کیا حال ہے ، فریادی بھی ہے شوخئی تحریر کا بھی مارا ہوا ہے کہ جہاں ہزار روپے ہوتے ہیں وہ حقیقت میں پچاس روپے نکلتے ہیں ٹریفک پولیس کی طرح۔یہ بات ہمیں کسی اور نے بتائی ہے اس لیے سند کی گارنٹی نہیں دے سکتے۔ لیکن سنا ہے کہ بازار میں اور سڑکوں چوراہوں وغیرہ کے ٹریفک والے ہوتے ہیں ان کے بازووں اور کاندھوں کے نقش ونگار بہت زیادہ مبالغہ امیز ہوتے ہیں جو حوالدار ہوتا ہے وہ اصل میں سپاہی ہوتا ہے اور کاندھوں پر جو پھول ہوتے ہیں وہ بھی کاغذی

ہوتے ہیں واللہ اعلم۔ لیکن ’’نقدی‘‘ کے جو کاغذی ہندسے ہوتے ہیں وہ تو سراسر جعلی ہوتے ہیں ورنہ آپ ابھی تجربہ کر کے دیکھ سکتے ہیں، ہزار کا نوٹ لے کر بازار جایے، کسی دکاندار سے سودا خریدیے اور پھر جاکر ’’عندالطلب‘‘ یعنی کاغذی پیرہن پر اس تحریر اور دستخط والے کے پاس جایئے اور اس کے آگے وہ بیس روپے کا سودا پٹخ کر کہیے کہ میں ’’حامل ہذا‘‘ ہوں اور مطالبہ کرنے آیا ہوں کہ ہزار روپے کا سودا عطاکر دیجیے۔ کاغذی پیرہن اور شوخئی تحریر نہیں۔ اور وہ جو ’’ادا‘‘ کر دے وہ ہمارے پاس لے آئیے۔چونکہ مرشد جیسا کہ ہم نے کہا بڑے دوربین خوردبین اور مستقبل بین تھے اس لیے انھوں نے اس شعر میں آج کے پاکستان کا نقشہ بلکہ ’’نقدا‘‘ کھینچا تھا، یا کسی رویا یا مکاشفہ کے ذریعے کیونکہ ولی تو تھے۔۔دیکھیو غالبؔ سے گر الجھاکوئی۔۔ہے ولی پوشیدہ اور کافر کھلا۔لیکن اس کے ہم عصر تو ’’ولی‘‘ تھے نہیں جو

ولی را ولی می شناسد کرتے اس لیے پہچاننے میں قاصر رہے۔ اس لیے ان کے لیے مسائل تصوف کو نظر انداز کر کے بادہ خواری پر فوکس کیے ہوئے تھے۔ اور ان کو ’’ولی‘‘ نہیں سمجھے۔ویسے بھی اس زمانے میں ’’نقد‘‘ کا پیرہن کاغذی ہوتا بھی نہیں تھا، سونے چاندی کا ہوتا تھا اور اتنی صلاحیت تو کسی میں تھی نہیں کہ اس شعر کو مستقبل کا شعر سمجھتے۔چنانچہ اس ’’کاغذی پیرہن‘‘ پر طرح طرح کے حاشیے چڑھائے جاتے رہے۔ کچھ لوگ تو دور ایران کی یہ کوڑی لائے کہ پرانے وقتوں میں جو شخص سزایاب ہوتاتھا۔ تو اسے ’’کاغذ‘‘ کا لباس پہناکر شہر میں گھماتے تھے لیکن یہ صراحت نہیں کی گئی کہ ’’کس سواری‘‘پر بٹھاتے تھے۔ خرولے پر یا کرو لے پر؟آپ سوچیں گے کہ اس زمانے میں خرولہ اور کرولہ گاڑیاں نہیں ہوتی تھیں۔ تو ’’کاغذ‘‘ کہاں ہوتا تھا اور بے پر کی اڑانے کے لیے انجن وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی

، ایسا کچھ بھی نہیں تھا صرف مستقبل بینی کی صلاحیت تھی جو مرشد میں موجود تھی۔ انھوں نے دیکھ لیا کہ’’نقد‘‘ جو اوروں کو فریادی بناتا ہے، ایک دن خود اتنا فریادی ہو جائے گا۔اشک سے میرے فقط دامنِِ صحرا نہیں تر۔۔کوہ بھی سب ہیں کھڑے ’’تابہ کمر‘‘ پانی میں۔اور پھر ’’کاغذی پیرہن‘‘ کیا بات ہے جو سامنے موجود ہو اس کے لیے ایران توران کے قصے کی کیا ضرورت ہے اور پھر ’’ہر پیکر تصویر‘‘ کو بھی غور سے دیکھیے کہ فریادی ہے کہ نہیں۔ اب ضروری نہیں کہ فریاد میں آنسو بھی ہوں۔ جسے مرشد نے یہ بھی تو کہا ہے کہ:یونہی گر روتا رہا غالبؔ تو اے اہل جہاں۔۔دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہوگئیں۔۔ہر رونے کے لیے اور فریاد کے لیے آنسو اور پانی ضروری نہیں ہے، اب ذرا غور سے پڑھیے مرشد نے بستیوں کو ’’ویران‘‘کہا ہے اور آنسو ویران نہیں کرتے بلکہ ’’بہاتے‘‘ ہیں سو یہاں ’’پیکر تصویر‘‘ کے لیے

’’آنسو‘‘ ضروری نہیں تھے کیونکہ آنسو تو اس پیکر تصویر اور کاغذی پیرہن کو ’’گیلا‘‘ کرتے اور اگر ایسا ہوتا تو آج کسی بھی کاغذی پیرہن کا وجود نہ ہوتا۔ فریاد میں آنسو بھی نہیں ہیں اور کاغذی پیرہن سے جو ’’کچھ بہایا‘‘ گیاہے وہ بھی کاغذ یا ہندسے نہیں کچھ اور ہے۔دو آدمی صحرا میں جا رہے تھے،کسی جگہ کسی جانور کا خوردہ خشک صورت میں پڑا تھا۔ ایک نے اسے اٹھا کر منہ میں رکھ لیا اور بولا، ہے تو یہ کھانے کی چیز لیکن بارشوں نے اس کا ذائقہ بہایا ہوا ہے۔(روزنامہ ایکسپریس)