گاؤں کھٹکرکلاں کا بھگت سنگھ ۔۔زاہدہ حنا

تاج برطانیہ نے 23 مارچ 1931ء کو بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کو پھانسی دے کر اپنے حسابوںان کو ختم کردیا لیکن ان حریت پسندوں کی اصل زندگی تو اس کے بعد شروع ہوئی اور آج 88 برس بعد بھی ان کا نام آزادی اور انقلاب کا استعارہ ہے۔اس کی پھانسی کتنا بڑا واقعہ تھی‘ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مقامی زبانوںکے علاوہ انگریزی اخباروں نے بھی اسے صفحۂ اول پر شایع کیا اور اس کی پھانسی کے تین دن بعد لاہور کے اخبار ’’دی ٹریبیون‘‘ نے 26 مارچ1931ء کو اپنے اداریے میں لکھا تھاکہ ’’ ہماری یادداشت میں ایسا کوئی فوجی مقدمہ نہیں جس نے ملک میں اتنا غم وغصہ پیدا کیا ہو اور نہ کسی سابق مقدمے میں موت کی سزا کم کرنے کے لیے ایسا شدید اور ملک گیر احتجاج کیا گیا۔بھگت سنگھ کی پھانسی کے حوالے سے کانگریس اور بہ طور خاص مہاتما گاندھی ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنے اور بنتے رہیں

گے۔ اس بارے میں پنڈت جواہر لعل نہرو نے اپنی خود نوشت میں لکھا ہے ’’ گزشتہ تیس برسوں کے دوران ہندوستان میں وقتاً فوقتاً تشدد پسند عناصر ابھرتے رہے اور ابتدائی دنوں میں بنگال کے سوا انھیں کسی بھی جگہ اس مقبولیت کا عشر عشیر میسر نہیںہوا جو بھگت سنگھ کے حصے میں آئی۔ یہ ایک طے شدہ صداقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ہمیں اسے تسلیم کرناہی ہوگا ایک دوسری حقیقت جو اتنی ہی سامنے کی ہے وہ یہ ہے کہ تمام ظلم وستم کے باوجود بھگت سنگھ کے بعد برصغیر کے نوجوانوں کے لیے دہشت پسندی میں کوئی کشش نہیں رہی۔بھگت سنگھ اپنی دہشت پسندی کے لیے مشہور نہیں ہوا بلکہ اس لیے ہو اکہ اس وقت یوں محسوس ہوتا تھا جیسے لالہ لاجپت رائے اور ان کے وسیلے سے وہ ملک کے وقار کی حفاظت کی علامت بن گیا ہے۔ دہشت پسندی کے باوجود وہ علامت بنا رہا اور کچھ ہی دنوں میں پنجاب کا ہر ایک شہر اور ہر ایک گاؤں اور ایک حد تک باقی شمالی ہندوستان اس کے نام سے گونجنے لگا۔ اس پر بے شمار گیت لکھے گئے اور اس نوجوان نے حیرت انگیز شہرت حاصل کی۔‘‘پنڈت نہرو کے یہ جملے بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کی پھانسی کے حوالے سے مہاتما گاندھی اور کانگریس کے دامن پر لگے ہوئے داغ کو دھونے کی کوشش ہیں۔ لوگوں کا خیال تھا کہ جب مہاتما گاندھی برطانوی وائسرائے لارڈ ارون سے ملاقاتیں کررہے تھے اور ان ہی ملاقاتوںکے نتیجے میں گاندھی ارون معاہدہ سامنے آیا تو اس وقت وہ بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کی سزائے موت کو عمر قید سے بدلنے کے لیے لارڈ ارون پر موثر دباؤ ڈال سکتے تھے کانگریس کے رہنماؤںکا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں انھوں نے اپنی سی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔مہاتما گاندھی پر اس الزام کو اس روشنی میں بھی دیکھنا چاہیے وہ عدم تشدد

کے حامی تھے اور ان کی سیاست میں بھگت سنگھ ایسے انقلابی نوجوانوں کی کوئی گنجائش نہیں تھی ۔ اسی بنیادپر ان کے اور سبھاش چندربوس کے بھی راستے الگ ہوگئے تھے۔ نقطۂ نظر کایہی وہ اختلاف تھا جس کا اظہار اس بات سے ہوتا ہے کہ بھگت سنگھ کی پھانسی کی شام سبھاش چندر بوس نے دلی میں ایک بڑے جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھگت سنگھ‘ آدمی نہیں ایک علامت تھا‘ اس کے انقلابی ولولے نے پورے برصغیر کو اپنے حصار میں لے لیا تھا۔بھگت سنگھ نے مٹھی بھر نوجوانوں کو اکٹھا کرکے جس طرح برطانوی راج کو دہشت زدہ کیا۔ اس کی مثال نہیںملتی۔ان لوگوںنے ابتداء سے ہی ادیبوں اور شاعروں کو متاثر کیا۔ بھگت سنگھ کی پھانسی کے بعد اردو‘ ہندی‘ مراٹھی‘ بنگلہ‘ تیلگو‘ گجراتی‘ تامل اور پنجابی میںمضامین‘کہانیاں اور شعر لکھے گئے۔ اردو میں سید سبط حسن کی کتاب ’’بھگت سنگھ اور

اس کے ساتھی‘‘بہت مقبول ہوئی اور اس کے کئی ایڈیشن شایع ہوچکے ہیں۔اپنے افسانے ’’چھٹے اسیر تو بدلا ہوا زمانہ تھا‘‘میں قرۃ العین حیدر بھگت سنگھ اور دوسرے انقلابیوں کا ذکر کرتی ہیں۔بھگت سنگھ اوراس کے ساتھیوں کی خفیہ سرگرمیوں کو بہت تفصیل سے میں نے اپنے طویل افسانے ’’آخری بوند کی خوشبو‘‘ میں لکھا ہے۔ شیخ ایاز نے سندھی میں بھگت سنگھ کی پھانسی پر ایک ناٹک لکھا جو احمد سلیم نے پنجابی میں ترجمہ کیا۔ یہ ترجمہ ’’جو بیجل نے آکھیا‘‘ میں شامل ہے اور اس کا نام ’’آزادی‘‘ہے۔ کے کے کھلر نے اس نظم کا حوالہ اپنی ہندی کتاب ’’شہید بھگت سنگھ‘‘ میں دیا ہے۔شیخ ایاز کا منظوم ناٹک لاہور سینٹرل جیل سے شروع ہوتا ہے لیکن اس میںجیل جانے سے پہلے کی جھلکیاں بھی ہیں۔ لاہور کا ایک تہ خانہ ہے رات ہوگئی ہے۔ میز پر ایک لالٹین جل رہی ہے۔ دیوارپر ہندوستان کا نقشہ ہے اس کے ساتھ ہی

جھانسی کی رانی‘ تانیتا ٹوپے اور نانا فرنویس کی فریم شدہ تصویریں بھی آویزاں ہیں۔میز کے ارد گرد بھگت سنگھ‘ ڈاکٹر گیان پرشاد اور کشوری لال بیٹھے ہیں۔ دوسری طرف چندر شیکھر آزاد‘راج گرو اور سکھ دیوہیں۔ میز پر ایک طرف چھ بم رکھے ہیں اور اسی کے قریب ایک اخبار ہے۔جس کے صفحہ اول پر سیاہ حاشیے میں شیر پنجاب لالہ لا جپت رائے کے انتقال کی خبر چھپی ہوئی ہے۔ لالہ لاجپت رائے کو چند دنوں پہلے ایک پرُامن جلوس کی قیادت کرنے کے جرم میں لاہور کی سڑکوں پر پولیس نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایاتھا اوروہ زخموںکی تاب نہ لاکر ہلاک ہوچکے ہیں۔ تاریخی اعتبار سے اس میٹنگ کی نہایت اہمیت ہے۔ اسی لیے شیخ ایاز نے اپنے ناٹک میں اسے تفصیل سے دکھایا ہے۔یہیں لاہور کے ایس پی پولیس کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس موقع پر بھگت سنگھ ہمیں یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ سارا دیش جہالت

کی زندگی بسر کررہا ہے۔ ان پڑھ لوگ سنیاسیوں‘ جوگیوں ‘نام نہاد فقیروں اور درویشوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔تعلیم یافتہ لوگ خان بہادر اور رائے بہادر کے خطابات کے لیے سرکار کے سامنے منتیںکررہے ہیں۔ انگریزوں اور ان کے قائم کیے ہوئے اداروں نے ہم لوگوں کی سوچنے‘ سمجھنے اور عمل کرنے کی قوت سلب کرلی ہے۔اس ناٹک کا آخری منظر وہ ہے جب کھولی پر پڑے ہوئے تالے میں چابی گھومنے کی آواز آتی ہے۔ جیل کے حکام اندر آتے ہیں اوربھگت سنگھ‘ راج گرو اور سکھ دیو کو پھانسی گھاٹ تک لے جاتے ہیں۔ یوں ایک جدوجہد بظاہر ختم ہوجاتی ہے لیکن اس قربانی کی روشنی دور تک جاتی ہے اور آج بھی برصغیر کے نوجوانوں کے سینوں کو منور کرتی ہے۔ بھگت سنگھ کے ایک سوانح نگار نے لکھا ہے کہ ’’وہ بانسری بجاناجانتا تھا اور دل موہ لینے والی بانسری بجاتا تھا‘ جس کی بانسری سے نکلنے والی

آزادی کی لَے نے لوگوںکو دیوانہ وار اس کے پیچھے چلنے پر مجبور کیا۔‘‘اس نے اپنے شاندار وجود اور سحر میں گرفتار کرلینے والی باتوں سے سارے ملک پرجادو کردیا۔ وہ شیلے کے ’’پرومی تھیسس ان باؤنڈ‘‘جیسا کردار ہے۔ اس نے پرومی تھیسس کی طرح پہاڑوں کی چوٹیوں سے ‘دیوتاؤں کے ٹھکانوںسے آزادی اور انقلاب کی آگ چرائی اور ان گنت لوگوں کے دلوں کو اس آگ سے روشن کردیا۔ 1937ء میں من منتھ ناتھ گپت نے اس کے بارے میں لکھا تھا۔’’بھگت سنگھ مختلف انداز کی ایک علامت تھا‘ کوئی اسے پسند کرے یانہ کرے وہ سماج کے تحفظ کے لیے ہونے والی لڑائی کی علامت بن گیا۔ اس کے پاس خواب بننے والی تصوراتی طاقت‘ اسپائی نوزا کا اضطراب اور ابتدائی عظیم انسان کی کائناتی وسعت تھی۔ ہندوستانیوں کے لیے بھگت سنگھ بہادری اور جواںمردی کی مثال تھا۔ پھانسی پاتے ہوئے وہ ایک عام سا انسان تھا۔ اس

کے پاس اقتدار نہ تھا‘دولت نہ تھی‘ وہ ادبی شخصیت نہ تھا‘ اسے روحانی ہستی ہونے کا دعویٰ نہ تھا۔ لیکن اپنی ان مٹ قربانی سے اس نے انھیںبھی اپنے احترام پر مجبور کیا جو اس سے سیاسی اور نظریاتی اختلاف رکھتے تھے۔اس نے ہندوستان سوشلسٹ ری پبلکن ایسوسی ایشن قائم کی۔ اس کا آئین لکھا‘ یہ آئین اپنے پڑھنے والوںکو یقین دلاتا ہے کہ وہ نہ خون کا پیاسا دہشتگرد تھا اور نہ اقتدار کی آرزو رکھنے والا چالاک سیاستدان۔ وہ ایک مفکر تھا اور اپنے ملک کے لیے آزادی کا نیا اعلان نامہ‘ سماجی انصاف اور معاشی برابری پر مشتمل میگنا کارٹا جیسا ایک میثاق لکھ رہا تھا۔ایک ایسانظام پیش کررہا تھا جو طبقاتی نہ ہو اور جس میں استحصال کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ لاہور کی جیل میں اس نوخیز نوجوان نے 61 دن کا مرن برت جس شان سے گزارا‘ اس کی مثال نہیںملتی۔ وہ انقلاب زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہوئے اور مسکراتے

ہوئے پھانسی کے تختے تک گیا۔ اس نے بعد میں آنے والوں کو استقامت سے آزادی کی جدوجہد کرنے کی ہمت دی۔ہمارے یہاں آمریت کے خلاف جو شاندار جدوجہد وقفے وقفے سے چلتی رہی۔ اس میںعدلیہ‘ وکیلوں اور صحافیوں نے ‘سول سوسائٹی کے مختلف عناصر اور طلبہ نے اپنا بھرپور حصہ ڈالا ۔ریاستی تشدد اور ماورائے آئین اقدامات کے سامنے جس طرح یہ لوگ ڈٹ کر کھڑے ہوئے ،اسے دیکھیے تو بھگت سنگھ کی یاد آتی ہے۔بھگت سنگھ نے پھانسی گھاٹ میں بسنتی چولا پہننے سے 16 دن پہلے جو شعر کہے تھے وہ آپ کی نذر ہیں۔اسے یہ فکر ہے ہر دم‘ نیا طرز جفا کیا ہے۔۔ہمیں یہ شوق ہے‘ دیکھیں ستم کی انتہا کیا ہے۔۔کوئی دم کا مہماں ہوں اے اہل محفل۔۔چراغِ سحر ہوں بجھا چاہتا ہوں!(روزنامہ ایکسپریس)