سیاست میں نا شائستگی کہانی ہے پرانی۔۔۔تحریر:عمر منہاس

مغل شہزادے جہانگیر نے ایک دن اپنی نجی محفل میں ایک خواجہ سرا کو فارسی میں ’گدھا ‘کہہ دیا۔ یہ بات اکبر بادشاہ تک پہنچی تو بادشاہ نے شہزادے کو طلب کر لیا۔ شہزادے نے غلطی کا اعتراف کیا۔ اکبر بادشاہ نے اس سے کہا۔ شیخو! کمہار اور بادشاہ کی زبان میں فرق ہونا چاہئے۔ شہزادے نے جواب دیا ابا حضور! میری زبان پھسل گئی تھی۔ بادشاہ نے کہا بیٹا ! جو شخص اپنی دو تولے کی زبان قابومیں نہیں رکھ سکتا وہ لاکھ کوس وسیع سلطنت کیسے قابو میں رکھے گا۔ بادشاہت زبان سے شروع ہوتی ہے اورزبان پر ہی ختم ہوتی ہے۔ زبان کو لگا م دینا سکیھوسلطنت خود بخود لگام میں آ جائے گی۔۔۔قیام پاکستان کے بعد ہمارے ہاں بھی ملکی سیاست میں اخلاقیات زوال پذیر ہوتی گئیں۔ پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان حسین شہید سہروردی کو اپنے لیے خطرہ محسوس کرتے تھے۔ تیسرے یوم آزادی کے موقع پر انہوں سہروردی کو

تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فرمایا’سہروردی وہ کتا ہے جسے بھارت نے کھلا چھوڑ رکھا ہے‘۔ یہ سلسلہ ایسا چلا کہ رکنے کا نام ہی نہیں لیا۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ایوب خان کا دور آیا ۔ انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح ایوب خان کے مقابل کیا آئیں کہ ساری سرکاری مشینری محترمہ کی کردار کشی پر صرف کر دی گئی۔ ایوب خان کے خلاف تحریک چلی تو شیخ مجیب الرحمان کی زبان بھی کنٹرول میںنہ رہی۔ انہوں نے کہا وہ اقتدار میں آ کر ’نورالامین کی کھال ادھیڑ کر اس کے جوتے بنائیں گے‘۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو تو ید طولی حاصل تھا۔ شعلہ بیانی پر آتے تو مخالفین کو ایسے ایسے القابات دیتے کہ لوگ دیکھتے ہی رہ جاتے۔انہوں نے مرحوم ممتاز دولتانہ کو’ چوہا‘، خان عبدالقیوم خان کو ’ڈبل بیرل خان‘، ایئر مارشل اصغر خان مرحوم کو ’آلو خان‘، آنجہانی جسٹس کارنیلیس کو’ بلیک کوبرا‘اور غلام مصطفی کھر کو’ مظفر گڑھ کے بینگن ‘کے نام دے رکھے تھے۔ 1970ء اور 1977ء کے عام انتخابات میں شوشل میڈیا تو نہیں تھا اس لیے مختلف سیاسی جماعتوںکے حامی اخباروںکے کارٹونسٹس مخالف سیاسی رہنمائوں کے قابل اعتراض خاکے بنا کر اپنی ذمہ داری پوری کرتے تھے۔ روزنامہ مساوات کا اس سلسلے میںکوئی ثانی نہیں تھا ۔ بے نظیر بھٹو شہید اور نواز شریف کے سیاسی تصادم سے بھرپور 1980ء اور 90کی دہائیوں میں بھی یہ سلسلہ چلتا رہا۔ نواز شریف کے سر پر کم بال ہونے اور بے نظیر بھٹو شہید کی کمزور اردو ہونے کی وجہ سے بڑی مضحکہ خیز اصلاحات عام ہوئیں۔ پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت میں راجہ ریاض نے شہباز شریف کو مغل شہزاادے اور ضدی بچے کا خطاب دیا۔ اسی دوران عمران خان صاحب نواز شریف اور شہباز شریف کو ڈینگی برادرز

اور مولانا فضل الرحمان کو مولانا ڈیزل کہہ کر پکارتے رہے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں اس روایت نے مزید زور پکڑا ۔ ن لیگ کے رہنمائوںکو کاغذی اور سرکس کے شیر کہا گیا تو جواباً انہوں نے بھی طالبان خان اوراناڑی کھلاڑی کہنا شروع کر دیا۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور موجودہ حکومت میں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید بھی کہاں پیچھے رہتے۔۔۔ سابق صدر ممنون حسین کی شخصیت کے ساتھ انہوں نے دہی بھلے کو ایسے منسلک کیا کہ ہر کوئی اس بات کو حقیقت سمجھنے لگا۔بلاول بھٹو کو بلو رانی اور خیبر پختونخواہ کے سابق وزیر اعلی ٰ امیر حیدر ہوتی کو ایزی لوڈ کے نام سے پکارا جاتا رہا۔گزشتہ دنوں عمران خان کے ایران میں دیے گئے بیان پر زبان پھسلنے کی بحث ابھی کسی جانب لگی نہیں تھی کہ عمران خان نے وانا میں ایک جلسے سے خطاب کے دوران پیپلز پارٹی کے چیئرمین کو ’بلاول بھٹو صاحبہ‘

کہہ کر مخاطب کر دیا۔ جس پر ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے وزیر اعظم کو ہدف تنقید بنایا کہ وزیر اعظم لیول تک پہنچ کر اس سطح تک گرنا پاکستانی سیاست میں مزید گراوٹ ہے۔ ۔۔زندگی کے ہر شعبے کے لئے اخلاقی اقدار کی اہمیت ہے۔ مگر سیاست کے بازی گر اپنے آپ کو اخلاقیات کے دائرے میں پابند رکھناہی نہیں چاہتے۔ ٹی وی چینلز پر بھی صرف ان ہی سیاستدانوں کو بلایا جا تا ہے جو زبان کی قینچی سے مقابل کے حصے بخرے کرنے اور کھردرے الفاظ کی نوک سے مخالف کے بخیے ادھیڑنے کے گر جانتے ہوں۔ پارلیمنٹ میں بدزبانی، گالم گلوچ اور غلاظت میں لتھڑے ہوئے الزامات روٹین کا حصہ ہیں۔ جنہیں آئے روز غیر پارلیمانی الفاظ قرار دے کر پارلیمانی کاروائی سے حذف کرنا پڑ تاہے۔ ایسی عامیانہ زبان نہ تو چوک کے تھڑوں پر اور نہ ہی دیہاتوں کے چوپالوں میں استعمال کی جاتی ہے۔ یہ

تھوہر کے ذہریلے اورنیم جیسے پھول صرف ان ہی کے منہ سے جھڑتے ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مہذب ہونے کے دعویدار ہیں۔ عرض صرف یہ ہے کہ انسا ن کی گفتار ہی اس کی پہچان اور کردار ہے۔ سیاسی قائدین کو ہمیشہ اپنے لہجے میں احتیاط برتنی چاہیے جس سے ان کی عزت اور نیک نامی میں اضافہ ہو۔ دنیا فانی ہے۔ ایسی خوشگوار یادیں ہوں کہ آنے والی نسلیں اپنے قائدین کوایک آئیدیل کے طور پر یاد رکھیں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا کہ یہ چمن یونہی رہے گا اور ہزاروں جانور۔۔۔ سب اپنی اپنی بولیاں بول کر اڑجائیں گے