مولانا عبد الستار خان نیازی، لائوں کہاں سے تجھ سا ڈھونڈ کر ۔۔۔تحریر:صاحبزادہ میاں محمد اشرف

مولانا عبدالستار خان نیازی ایک عظیم عاشق رسول ﷺ تھے۔ راقم جب انجمن طلبہء اسلام میں شامل ہوا تھا تھا سرگودہا میں اِن سے سب سے پہلی ملاقات 1985 میں الفاروق ہوٹل خیام سینما چوک ریلوئے روڈ میں ہوئی۔ اُس وقت میرئے ساتھ انجمن طلبہء اسلام کے دوست اقبال چوہدری شہیدؒ ؒ اور جاوید مصطفائی بھی تھے۔ مولانا عبدالستار خان نیازی اُن عظیم ہستیوں میں سے تھے جنہوں نے حقیقی معنوں میں ملکو
قوم کے لیے اپنی زندگی کو صرف کیا۔سرخ سپید رنگ جاہ جلال کے پیکر جناب مولانا نیازی پاکستان کے دُشمنوں کے لیے ایک ننگی تلوار تھے۔جناب نیازی صاحب کی دیانت داری پر ہر کسی کو رشک آتا ہے۔ہائے زمیں کھا گئی انساں کیسے کیسے۔موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہی نہیں ہے کہ کارزار سیاست میں کبھی مولانا نیازی جیسے ہستیاں بھئی موجود رہی ہوںگی۔پاکستان کی تحریک میں نوجوانوں کے ہر اول

دستے کے علمبردار جناب مولاناعبدالستار نیازی،قائد اعظمؒ اور حضرت اقبالؒ کی عظیم قیادت میں اِس طرح مسلم نوجوانوں کو متحد کرتے رہے کہ پاکستان کی تخلیق نوجوان قیادت کو فعال کرنے میں کامیاب رہے۔انہوں نے تحریک پاکستان شاندار کردار ادا کیا تھا. آج کل کے پاکستانی لیڈروں میں خاص طور پر مذہبی لیڈروں میں کوئی ایسا موجود نہیں جو ان کا ہمسر قرار دیا جاسکیَ۔مجاہد ملت مولانا عبدالستار خان نیازی یکم اکتوبر 1915ء کو ضلع میانوالی کے گاؤں اٹک پنوالا تحصیل عیسیٰ خیل میں پیدا ہوئے،آپ کے والد ذوالفقارخان ایک نیک سیرت اور پاکباز انسان تھے،دینی گھرانہ ہونے کی وجہ سے مولانا نیازی کو بچپن ہی سے مذہبی ماحول میسر آیا۔1933ء میں مولانا عبدالستار خان نیازی نے میٹرک پاس کیا اور حصول تعلیم کیلئے لاہور تشریف لے آئے،لاہور میں آپ نے انجمن حمایت اسلام کے زیر انتظام’’اشاعت اسلام کالج’’میں داخلہ لے لیا اور1936ء میں’’ماہر تبلیغ’’کی حیثیت سے کالج میں ٹاپ کیا،اسی دوران مولانا عبدالستار خان نیازی کی ملاقات حکیم الامت علامہ اقبال سے ہوئی،اسرار خودی کے مطالعے نے فارسی پڑھنے کے شوق کو اِس قدر ابھارا کہ مولانا نیازی نے چھ ماہ میں منشی فاضل کا امتحان بھی پاس کرلیا،اسی سال آپ نے ایف اے کا امتحان دیا اور اسلامیہ کالج لاہور میں بی اے میں داخلہ لے لیا،مولانا عبدالستار خان نیازی نے 1938ء میں اسلامیہ کالج لاہور میں ایم اے عربی میں داخلہ لے لیا اورایم اے کرنے کے بعد 1942ء میں اسلامیہ کالج لاہور میں ڈین آف اسلامک اسٹیڈیز کی حیثیت سے خدمات بھی انجام دیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر پاک وہند میں کانگریس اور مسلم لیگ کا بڑا چرچا تھا،نیشنلسٹ طلباء کی تنظیم’’نیشنل اسٹوڈینس فیڈریشن’’تعلیمی اداروں میں چھائی ہوئی تھی،چنانچہ1936ء میں مولانا نیازی،مولانا ابراہیم

علی چشتی،میاں محمد شفیع (م،ش)مشہور صحافی حمید نظامی اورعبدالسلام خورشید نے علامہ اقبال کی قیام گاہ پر اُن کے مشورے سے طلباء کی تنظیم ’’دی مسلم اسٹوڈینس فیڈریشن ’’کی بنیاد رکھی،جس کا مقصد مسلم طلباء کو نیشنلسٹوں کے اثر سے بچانا اور سیاسی شعوراجاگر کرکے قیام پاکستان کی راہ ہموار کرنا تھا،مولانا نیازی 1938ء میں اِس تنظیم کے صدر منتخب ہوئے،صدر منتخب ہونے کے بعد آپ نے ’’مسلم اسٹوڈینس فیڈریشن ’’کے منشور میں پہلی تبدیلی یہ کی کہ ’’مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک الگ خطہ زمین جس میں مسلمانوں کی حکومت ہو’’کو خلافت پاکستان’’کا نام دیا، 1939میں میں مولانا نیازی نے مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی جانب سے’’خلافت پاکستان اسکیم ’’نامی پمفلٹ شائع بھی کیا،جس کی ایک کاپی قائداعظم محمد علی جناح کو بھی بھجوائی گئی،جسے قائد اعظم نے مولانا نیازی سے ملاقات میں ایک

گرم اسکیم قرار دیا۔،23مارچ 1940ء کو جب قرار داد لاہور پیش ہوئی،اُس وقت مولانا نیازی ایم اے فائنل ایئر میں زیر تعلیم تھے،اِس اجلاس میں شرکت کرنے والے تمام مقررین کا مدعا اگرچہ پاکستان کا قیام ہی تھا مگرکسی نے اپنی تقریر میں پاکستان کا نام نہیں لیا،یہ اعزاز صرف مولانا عبدالستار خان نیازی کو جاتا ہے کہ آپ نے پہلی بار اِس اجتماع میں’’پاکستان زندہ باد’’کا نعرہ لگایا،جو مسلمانوں کے کسی عظیم اجتماع میں پاکستان کیلئے لگایا گیا پہلا نعرہ تھا،مولانا نیازی نے میانوالی ڈسٹرکٹ میں مسلم لیگ کو دوبارہ منظم کرنے کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ضلع میانوالی کے صدر سمیت مسلم لیگ کے کئی اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دیں،1945ء میں قائد اعظم نے آپ کو ضلع میانوالی سے پرونشل اسمبلی کا ٹکٹ دیا جس پر آپ نے یونینسٹ پارٹی کے امیداوار کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی،مولانا نیازی قیام پاکستان کے بعد 1951ء

تک مسلم لیگ سے وابستہ رہے،مگر جب مسلم لیگ کو عملاً ایک لمیٹیڈ کمپنی بنادیا گیا تو آپ نے مسلم لیگ سے علیحدگی اختیار کرکے اپنے آپ کو خلافت پاکستان،جس کا مقصد ملکی قوانین کو شریعت کے مطابق بنانا اور اسلامی نظام کا مکمل نفاذ تھا،کیلئے وقف کردیا۔1953ء میں انہوں نے تحریک تحفظ ختم نبوت میں فعال کردار ادا کیا جس پر انہیں مارشل لاء کی ایک فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی۔ 1952ء کی تحریک ختم نبوت میں مولانا کا کردار مثالی رہا۔مسجد وزیر خان کو مرکز بنایا گیا اور وہاں سے تین جتھے ترتیب دئیے گئے۔ان میں سے ایک جتھے نے گورنر ہاوس جانا تھا۔مولانا نے انہیں ہر صورت پُر امن رہنے کی تلقین کی۔جلوس نے گورنر ہاوس جانا تھا اسے دلگراں روک لیا گیا۔ رضا کار زمین پر لیٹ گئے ایک رضا کا رنے گلے میں حمائل لٹکارکھی تھی۔ایک پولیس افسر نے اسے ٹھوکر ماردی اور وہ دور جاگری۔

جس سے لوگوں میں جوش بڑھ گیا اور تحریک نے فسادات کا رخ اختیار کرلیا اگلے روز یہی افسر مولانا کو گرفتار کرنے مسجد وزیر خان آیا اس نے بد تمیزی کی رضا کار نے چھراگھونپ دیااور وہ ہلاک ہوگیا۔ 9 مارچ کو اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے قصور سے روانہ ہوئے تو گرفتار کر لئے گئے۔بغاوت کا مقدمہ چلا دو سال قید کاٹنے کے بعد سزائے موت سنا دی گئی۔مولانا صاحب سے ایک اخباری رپورٹرنے سوال کیا کہ آپ کی عمر کیا ہے تو فرمایا۔۶دن اور ۷راتیں وہ پریشان ہوا تو جواب دیا جناب رسول پاک ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے لیے جو چھ دن اور سات راتیں کال کوٹھری میں گزریں وہی میری زندگی کا ماحصل ہیں۔بعد میں یہ سزاکالعدم ہوئی اور مولانا رہا ہوگئے۔۔1970ء کی دہائی میں انہوں نے جمعیت علمائے پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور اس کے سیکریٹری جنرل اور مرکزی صدر کے

عہدے پر فائز رہے۔ 1988ء اور 1990ء کے عام انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1994ء سے 1999ء تک سینٹ آف پاکستان کے رکن رہے۔ اسی دوران انہوں نے وفاقی وزیر مذہبی امور کے عہدے پر بھی خدمات انجام دیں۔مولانا نیازی عمر بھر ایک سربکف مجاہد کا کردار ادا کرتے رہے اورقیام پاکستان کے بعد اپنی وفات 2مئی 2001ء تک اپنے مشن کی تکمیل،مقصد کے حصول اور ریاست کی فلاح کیلئے کمر بستہ رہے،تحریک پاکستان میں مولانا عبدالستار خان نیازی کا کردار روز روشن کی طرح عیاں ہے،یہ مولاناہی تھے جنھوں نے پنجاب میں قائداعظمؒ کی تائیدوحمایت میں پہلی اور موثر آواز بلند کی، سر سکندر حیات کی سازشوں کا مردانہ وار مقابلہ کرکے مسلم لیگ کے قیام واستحکام کی راہ ہموار کی اور مسلم لیگ کو اہل پنجاب کے دلوں کی ڈھرکن بنادیا،مولانا پاکستان بنانے والوںمیں سے ایک

تھے،اُن کا اوڑنا بچھونا سب ہی کچھ پاکستان اور نفاذ اسلام کیلئے تھا،وہ فنافی الپاکستان تھے،وہ پاکستان کو دنیا کے سامنے خلافت راشدہ کی طرز پر ایک جدید فلاحی ریاست کی طورپر دیکھنا چاہتے تھے، مولانا نے اِس مقصد کیلئے متعدد کتابچے اور کتابیں بھی لکھیں جن میں’’خلافت پاکستان،مسودہ آئین پاکستان،منشور خلافت،اتحاد بین المسلمین وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا نیازی جیسی شخصیات کبھی پاکستان کی سیاست کے ماتھے کا جھومر رہی ہیں مولانا شاہ احمد نورانی او رمولانا نیازی مذہبی طبقے کی اِس طرح نمائندگی کرتے رہے کہ اُنھوں نے خود کو دُنیاوی لالچ سے ہمیشہ دور رکھا۔اللہ پاک اِن کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔